پنجاب کا عدالتی نظام کیا ہو گا . اہم علان

راولپنڈی میں مقامی عدالتی افسران سے خطاب کے دوران چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم جزیرے بنانے نہیں آئے، ہمارا مقصد سائل کو جلد اور فوری انصاف کی فراہمی ہے، اس سلسلے میں ہم پنجاب میں ماڈل ڈسٹرکٹ سسٹم لا رہے ہیں، ہم کرمنل ماڈل کورٹس کے بعد اب سول ماڈل کورٹس بھی بنارہے ہیں، ماڈل کورٹس کا نظریہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پیش کیا تھا۔ سول ماڈل کورٹس کے لیے ابتدائی طورپر4 اضلاع کا انتخاب کرلیا گیا، ان اضلاع میں 6 لاکھ سول جب کہ 30 ہزار فوجداری کیس زیر التواء ہیں، ماڈل کورٹس بننے سے مقدمات کے فیصلے کی شرح 4 گنا بڑھ گئی ہے۔

چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے کہا کہ سول ماڈل کورٹس 6 لاکھ سول مقدمات کا ٹرائل کرنا ہے، ان ماڈل کورٹس میں قتل اورمنشیات سے متعلق مقدمات کا روزانہ کی بنیاد پرٹرائل ہوگا، امید کررہے ہیں کہ 3 سے 6 ماہ تک سول مقدمات کا فیصلہ ہوجائے، اگرسول مقدمات میں ایسا ہوگیا تویہ بھی گیم چینجرثابت ہوگا۔

96 total views, 5 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *