ہجرتوں کی شاعرہ فرزانہ ناز کی ناگہانی موت ۔ ذمہ دار کون؟

فرزانہ نازسے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی ۔ کوئی زیادہ شناسائی بھی نہیں تھی پھر بھی پی ایف یو سی کے واٹس ایپ گروپ میں جب اس کے قومی کتاب میلہ میں زخمی ہونے اور بعد ازاں وفات کی خبر دیکھی تو دکھ ہوا اور غصہ بھی آیا ۔دکھ اس لئے کہ ہجرتوں کی شاعرہ کی اس جہاں سے دوسرے جہاں میں اس طرح ہجرت کا کبھی گماں بھی نہیں ہوا تھا۔غصہ اس بات پر تھا کہ اتنے بڑے قومی کتاب میلے میں اس قدر بدانتظامی ؟ ۱۲ فٹ اونچا سٹیج بنانے کی آخر ضرورت کیا تھی ؟ کسی ناگہانی صورت حال سے نپٹنے کے لیئے ایمبولینس تک موجود نہ تھی ؟
یہ بد انتظامی ، یہ لاپرواہی اک نوجوان شاعرہ کی جان لے گئی ۔ میری نگاہ میں یہ موت اک حادثہ نہیں بلکہ قتل تھا جس کی وجہ کریمینل نیگلیجینس ہے ۔ اور اس کا ذمہ دار نیشنل بک فاونڈیشن کا مینیجنگ ڈائیریکٹر ہے جس نے اس حادثہ کے بعد فوری اقدامات نہ کئے بلکہ روائیتی بے رخی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کیا ۔ اگر فرزانہ اس کی اپنی بیٹی ہو تی تو کیا اس کا رویہ پھر بھی ایسا ہی ہوتا ۔ یہ نام نہاد ادبی لوگ لوگوں کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیوں جیسا کیوں نہیں سمجھتے؟ ۔ ادیب تو بڑے حساس ہوتے ہیں ۔ یہ قصاب قسم کے ادیب کہاں سے آگئے ۔؟ ان کی سرپرستی میں تو ادب اور بے ادبی میں فرق ہی مٹ گیا ہے ۔ یہ کون لوگ ہیں ۔ کس نے انہیں پلانٹ کر دیا ہے خود نمائی کے شوقین ، ادب سے کوسوں دور بے ادب ادیب ۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب جتنی توجہ خود کو غالب ، اور فیض کے پایہ کا شاعر ثابت کرنے پہ لگا رہے ہیں کاش اس سے نصف توجہ انہوں نے کتاب میلے کے انتظامات پر لگائی ہوتی تو یہ حادثہ نہ ہوتا ۔
فرزانہ کی اس ناگہانی موت پر اپنے دکھ اور غصے کے اظہار کے لئے لکھنے کا ارادہ کیا تھا مگر پھر ایسا مصروف ہوا کہ لکھ نہ پایا ۔ گذشتہ روز فیس بک پر فرحین چوہدری کا سٹیٹس دیکھا جس میں میڈیا سے گلہ تھا میڈیا نے اس ایشو کو ہائی لائیٹ کرنے میں انکا ساتھ نہیں دیا ۔ فرحین چوہدری کو کوئی بتائے کہ یہ نام نہاد میڈیا جتنا آزاد ہے اس سے زیادہ پابند بھی ہے ۔ وہ اپنے مالی مفادات کے خلاف کچھ نہیں کرتا ۔ یہ کنٹرولڈ میڈیا ہے ۔ جسے حکومت اور بزنس ٹائیکونز ملکر کر کنٹرول کرتے ہیں ۔ پاکستان میں اب ایک متبادل میڈیا کی ضرورت ہے جو سہی معنوں میں عوامی میڈیا ہو ۔
فرزانہ ناز کی موت کا نعم الندل تو کوئی نہیں مگر یہ جن لوگوں کی وجہ سے ہوا ہے ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے اور انہیں سزا ملنی چاہئے ۔ مستقبل میں اس طرح کی تقریبات کے لئے فول پروف ایس او پیز بنانے چاہیئے ۔ فرزانہ کی فیملی کی مالی سپورٹ کی جائے اور ان کے بچوں کی فری تعلیم اور صحت کو سہولیات کا انتظام کیا جائے ۔ نیشنل بک فاونڈیشن شہید نیشنل بک فاونڈیشن کا خطاب دے ۔
بے ادب ادیبوں، اور ادیبوں کے نام پر مافیا کو ادبی اداروں کی سربراہی سے ہٹایا جائے ۔ مخلص اور اہل ادب افراد کو میرٹ پر اس طرح کی قومی ذمہ داریاں دی جائیں تاکہ ادب کا فروغ ہو ۔
موثر ادبی حلقوں کو فرزانہ ناز کی فیملی کے لئے نہ صرف اواز اٹھانی چاہئے بلکہ ادیب مافیا کے خلاف اک موثر تحریک چلانی چاہئے تاکہ قومی ادبی اداروں کو بچایا جائے ۔

934 total views, 9 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *