مشعال خان سانحہ، حقائق اور سبق

جب بھائی فرنود عالم کی پوسٹ دیکھی تو میں ذہنی طور پر تیار تھا کہ کچھ برا ہوا ہے جس کو نہ دیکھنے یا شیئر کرنے کی درخواست وہ کر رہے ہیں۔ مگر جب دیکھا تو میں ماؤف ہو گیا۔ ایک ہجوم تھا حیوانوں کا، مگر حیوان بھی شاید اس قدر انسان نہیں ہوتے، اور ایک بے بس لاش تھی۔ اس پر کودتے، پتھر لاٹھی مارتے جنونی تھے جو اس اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے یہ بربریت کر رہے تھے جس نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا۔ ہم نے پچھلے پندرہ سال میں اتنا ظلم اور اتنی لاشیں دیکھی ہیں کہ یہ معاشرہ کافی حد تک بے حس ہو چکا ہے۔ اسکے باوجود کل سے آپ کو سوائے ان کے کہ جو خون کی بو سے نفسانی تسکین پاتے ہیں، ہر شخص کو ایک صدمے کی حالت میں دیکھیں گے۔ یہ صدمہ کسی کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ سے نہیں ہے، مشعل خان کی جگہ نوفل ربانی، وجاھت مسعود یا کوئی اور بھی ہوتا، آپ پوری قوم کو اسی طور صدمے میں پاتے۔ اس لئے کہ کل کے واقعہ نے ہمارا خود پر سے، ایک انسانی معاشرے ہونے پر سے یقین اٹھا دیا ہے۔ کل سے مباحث پھر گرم ہیں، کوئی اگر مگر چنانچہ چونکہ سے اس خون کی تاویل کی کوشش کرتا ہے، کوئی مشعال خان کو ایک بہترین مسلمان بناتا ہے اور کوئی ملحد۔ ہم سب لوگ ہمیشہ کی طرح اپنا اپنا چورن لئے سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ ایسے میں میں نے اپنے چورن میں بس کچھ اجزا زیادہ ڈال لئے ہیں، کچھ کنسرن لوگوں سے بات کر کے حقائق کا پتہ چلانے کی کوشش کی ہے۔ تو آئیے یہ چورن بھی چاٹیے کہ چھٹیوں کے دن ہیں، وقت گزارنے کو کچھ مل جائے۔ مشعال خان مجھ آپ جیسا ایک عام مسلمان تھا، دسمبر دو ہزار چودہ تک۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد اچانک اس نے خدا بیزاری کا اظہار شروع کر دیا۔ وہ سرعام کہتا تھا کہ اگر کوئی خدا ہوتا تو ایسے معصوم بچوں کر مرنے کیسے دیتا۔ اسی قسم کی گفتگو وہ ڈسکشن گروپس میں کرتا رہا۔ اس کے ساتھ ان مباحث میں شریک دوست نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسکے خیالات میں مزید شدت آئی اور اس نے زیادہ سخت باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اسکو کئی گروپس سے اپنی ایسی ہی باتوں کی وجہ سے بلاک بھی کیا گیا۔ مشعل کی والدہ وفات پا چکی ہے اور والد زندہ ہے، سوتیلی ماں ہے۔ مشعل نے کلاس میں مذہب کے بارے میں کچھ سخت جملے کہے جس پر طلبا سے ہاتھا پائی ہوئی۔ شاید یونیورسٹی نے اسے ریسٹیگیٹ بھی کیا مگر اسی دوران طلبا کا ایک ہجوم اسکو ٹریس کر کے ہاسٹل پہنچا اور باقی کی داستان سب کو معلوم ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مشعال خان نیشنلسٹ طلبہ تنظیم کا اہم رکن تھا، لیکن اسکے قتل میں سب سے زیادہ اسی جماعت کے لوگ ملوث ہیں۔ قتل کا مقدمہ فقط بیس لوگوں پر بنایا گیا جبکہ اس پورے واقعہ میں اصل ملزم انچاس سے پچاس لوگ ہیں۔ اے این پی کے طاقتور لوگوں کے بیٹوں کو، جو ہجوم کو اکسانے والوں میں شامل تھے، بچا لیا گیا اور ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا۔ مشعال کی نماز جنازہ سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی گئی اور فقط ستر اسی لوگ شریک ہوئے، جبکہ اس کی قبر پر بھی کچھ لوگوں نے بدمزگی کی کوشش کی۔ تو یہ تھے چند حقائق۔ اگر آپ یہ حقائق پڑھ کر خوشی سے اچھلنے لگے ہیں تو رکیے۔ زرا غور کیجیے کہ ایک مسلمان جو دو ہزار چودہ میں تاجدار حرم پڑھ رھا تھا، اسے الحاد کی طرف دھکیلا کس نے؟ کیا اسکی اسلام سے دوری کی وجہ نام نہاد مسلمان ہی نہیں بنے؟ مجھے کوئی ایک شخص بھی یہ بتانے میں ناکام رہا کہ کیا دو سال سے مشعال کی گستاخانہ باتوں کو کسی ادارے کو رپورٹ کیا گیا؟ کیا کسی نے اسکو تبلیغ کی کوشش کی؟ کیا کسی نے یہ سمجھا کہ بن ماں کے، سوتیلی ماں تلے پرورش پانے والا بچہ اے پی ایس کے بعد کسی نفسیاتی الجھن کا شکار بھی ہو سکتا ہے؟ مشعال خان اگر مذہب اور خدا اور دیگر احکام کا منکر تھا، تو کیا وہ ایسی موت کا حقدار تھا؟ ہر گز نہیں۔ ایاز نظامی کیس میں بھی یہی کھلا تھا کہ جب اس کے بچے کی موت بم دھماکے میں ہوئی تھی تو اس کے بعد وہ الحاد کی راہوں پر چل پڑا تھا۔ اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہماری ریاست میں قانون، اداروں اور خود ریاست پر اعتماد کس حد تک ختم ہو چکا ہے۔ سبق ملتا ہے کہ مذہب کے نام پر شدت اس انتہا تک پہنچ چکی کہ کسی ایک گروہ کی میراث نہیں رہی۔ مارنے والے اچھے گھروں کے، “تعلیم یافتہ نوجوان تھے جنکی اکثریت باچا خان جیسے عدم تشدد کے پرچارک کی پیروکار ہے۔ اس کے باوجود یہ واقعہ بتاتا ہے کہ من حیث القوم ہم انسانیت کا شرف کھو چکے۔ مشعال خان ملحد تھا تو ذاتی معاملہ ہے، گستاخ تھا تو قانونی۔ ایسے میں “موب سائیکی” کے تحت ایک “عوامی عدالت” میں الزام، سزا اور اس پر عمل درآمد ایک خوفناک اشارہ ہے ہمارے معاشرے کی صورتحال کا۔ افسوس جو مذہب جانور کو زبح کرتے ہوے تکلیف نا دینے کا حکم دیتا ہے، اسی کے نام پر ایک انسان کو ایسی اذیت سے مارا گیا۔ اس میں سبق ان دوستوں کیلئے بھی ہے جو آزادی اظہار کے نام پر کچھ بھی کہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ صاحبو، معاشرے کچھ حدود و قیود رکھتے ہیں، ایک اکثریتی مذہبی معاشرے میں آپ کچھ بھی کہہ دینے کی آزادی نہیں رکھ سکتے۔ آپ الحاد کو مانتے ہیں، مذہب بیزار ہیں؛ یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ مگر آپ جب اپنے خیالات کو دوسروں کے استہزا کا ذریعہ بناتے ہیں تو دلآزاری کرتے ہیں۔ آپ اسی انتہا پر پہنچ جاتے ہیں جس کا شکار مذہبی طبقہ ہوتا ہے۔ اور ایسے میں ایک وحشی معاشرے میں کوئی بھی ردعمل ممکن ہے۔ جب سے سنا ہے مشعال خان کی والدہ وفات پا چکی ہیں، کچھ سکون آیا ہے۔ زندہ ہوتیں تو آج پھر مر جاتی مگر بہت تکلیف دہ موت۔

1,314 total views, 2 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *