یمن میں غذائی قلت اور عالم انسانیت

یمن میں غذائی قلت اور عالم انسانیت طاہر یاسین طاہر جنگیں تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں لاتیں۔بعض جنگوں کو فتاویٰ کا غلاف پہنا کر انھیں مقدس جنگ کا درجہ دینے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔مگر دائمی سچ یہی ہے کہ جنگیں نفرتوں کے بیج بو کر انسانوں کو ایک دوسرے کا قاتل بنا دیتی ہیں۔شام کی جنگ ہو یا افغانستان کی،عراق کی جنگ ہو یا لیبیا کی خانہ جنگی،پسماندہ ترین عرب ملک یمن پر سعودی اتحاد کی چڑھائی ہو یا دیگر جنگجو تنظیموں کی جانب سے دنیا بھر میں دہشت گردانہ کارروائیاں۔سب کا مقصد فتح کے جھنڈے کو تقدیس کا عَلم بنانا ہے۔مگر انسانی المیہ کی طرف نہ تو عالمی برادری توجہ دیتی ہے اور نہ ہی فتویٰ گر۔اعداد و شمار ہمیشہ ہی دکھ آور ہوتے ہیں۔کہا تو یہ جاتا ہے کہ عراق و شام میں جاری کارروائیاں خطے میں نئی امریکی گیم کا حصہ ہیں۔افغانستان ،لیبیا اور یمن کی جنگیں بھی عالمی سامراجی پلان کے مطابق جاری ہیں۔ یہ ایک نقطہ نظر ہے۔اس طبقے کا جو اپنی ہر بیماری اور پریشانی کا ذمہ دار امریکہ و یورپ کو ٹھہراتا ہے۔ اس نقطہ نظر میں صداقت بھی ہے مگر یہ کلی صداقت نہیں ،بلکہ معاملے کا ایک پہلو ہے۔اصل مسئلہ اور ہے۔شام میں عالمی دہشت گرد تنظیم داعش،النصرہ،القاعدہ اور دیگر جنگجو جہاد کے نام انسان کشی میں مصروف ہیں،بشار الاسد ان سب کے سامنے ڈٹا ہوا ہے۔سوال یہ نہیں کہ بشار الاسد کا استقلال درست ہے یا غلط؟بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس عالمی کھیل کے میدان میں کتنے شامی مر و خواتیں اور بوڑھے بچے لقمہ اجل بنے۔کتنے شامی بے یارومددگار وقت کے افق پہ مدد کا چاند تلاش کر رہے ہیں۔بے شک بشار الاسد شامی عوام کے لیے نا گزیزنہیں۔مگر اس سارے کھیل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔خطے میں اسرائیل کا استحکام ہی امریکہ کا اولین ہدف ہے۔ عراق کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں نہ ہی افغانستان کے طالبان ۔بے شک طالبان ابھی تک کارروائیاں کر رہے ہیں مگر سچ یہی ہے کہ افغانستان اور افغان تباہ ہو گئے ہیں۔کہسار باقی ہیں مگر افغان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ مہاجر کیمپوں میں رہ کر دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔لیبیا کے کرنل قذافی کا انجام بھی خوش کن نہ ہوا۔عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر اسے تہس نہس کر دیا گیا۔پھر بھی فتویٰ گرانِ شہر ڈٹے ہوئے ہیں۔حماقت اس کے سوا کس چیز کا نام ہے؟زمینی حقائق کو تسلیم نہ کرنے والے پر جوش نعروں سے سامراج کو ختم کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔مگر کسی بھی اسلامی ملک کے پاس وہ جدید معاشی و عسکری قوت ہی موجود نہیں جو سامراج کو مختلف محاذوں پر شکست دے سکے۔سوائے پاکستان کے،کہ جس کے پاس ایٹمی طاقت اور دنیا کی بہترین فوج ہے۔یہ فوج بھی اب داخلی طور دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے۔ عالمی سامراج اپنے مفادات مشرقِ وسطیٰ کی تباہی پر استوار کر رہا ہے۔سامراجی طاقتیں ایشیا میں نئے ملکوں کا ظہور دیکھ رہی ہیں،اور مقدس مسلم ممالک ارادی طور پراس کھیل میں شریک ہیں۔ایران بشار الاسد اور یمن کی پشت پہ ہے۔بحرین کی اپوزیشن کو بھی خطے کے ہم فکر ملک کی اخلاقی سپورٹ حاصل ہے۔شام میں حکومت مخالف داعش،النصرہ اور القاعدہ کو سعودی عرب،امریکہ،قطر اور ترکی کی سپورٹ حاصل رہی۔ترکی اس مرحلے پر داعش مخالف بلاک میں نظر آرہا ہے،اگرچہ ابتدا میں ترک فورسز اپنی نگرانی میں داعش میں شامل ہونے والوں کو سرحد پار کرا کے شام بھجواتیں تھیں۔ترکی کے سوا باقی ممالک ابھی تک شام میں اسد مخالف گروہوں کے مددگار ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ 2013 میں سعودی عرب نے امریکہ کو شام میں براہ راست کارروائی کرنے کی دعوت دی تھی اوریہ کہا تھا کہ سعودی عرب اس جنگ کے تمام اخراجات برداشت کرے گا۔امریکہ کے صدر اوباما نے اس وقت بوجہ براہ راست مداخلت نہ کی،اب مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی ایئر بیس پر حملہ کر کے آئندہ کے لیے اپنا پیغام واضح کر دیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے جنگی میدان میں سب سے کمزور حریف یمن ہے۔ لیکن ڈٹا ہوا ہے۔تین برس قبل سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں سے مل کر یمن کے نہتے عوام پر حملہ کر دیا تھا۔اس جنگ کے جواز میں سعودی عرب سرکاری سطح پہ فتویٰ کاری کو کام میں لا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یمن کے حوثیوں سے حرمین شریفین کو خطرہ ہے۔یہ بہت تواتر سے کہا جاتا ہے۔مگر اس تین سالہ جنگ میں ایک گولہ،ایک میزائل بھی حرم کی طرف نہیں اچھالا گیا۔بلکہ حوثیوں کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین ان کے لیے بھی اتنے ہی مقدس ہیں جتنے دیگر مسلمانوں کے لیے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنی نمازیں کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کرتے ہیں۔اس کے باوجود سعودی عرب کی طرف سے یہ پروپیگنڈا سرکاری سطح پر کیا جارہا ہے کہ حرمین شریفین کو حوثیوں سے خطرہ ہے۔ یہ عہد پروپیگنڈا کا عہد ہے۔آلِ سعود نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مذہب کی آنچ سے انگیخت کیے ہوئے ہیں۔ ورنہ حقائق بتاتے ہیں کہ خطرہ شاہی خاندان کو ہے۔بے شک ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ روضہ رسول ﷺ اور خانہ کعبہ کی حفاظت کرے،مگر کسی مسلمان پر یہ فرض نہیں کہ وہ آل سعود کے سیاسی و معاشی مفادات کے لیے قربان ہو جائے۔خطے میں ہی نہیں دنیا بھر میں بالا دستی کے لیے کھیل جاری ہیں۔ کہیں مذہب اور مسلک کی آڑ میں تو کہیں انسانی حقوق کے نام پر۔یمن اور سعودی عرب کی جنگ خالصتاً عربوں کا علاقائی معاملہ ہے۔جسے بڑی مہارت کے ساتھ حرمین شریفین کے تقدس کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔یمن میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔غذائی قلت،ادویات کی کمی اور رہائش و تعلیم سب ختم ہو گیا ہے،یمنی عرب قبائل اس کے باوجود بیرونی جارحیت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور دنیا کے باضمیر اور عدل پسند انسانوں کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ بی بی سی اردو میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارۂ برائے خوراک نے خبردار کیا ہے کہ یمن “خاتمےکے قریب ہے اور اس وقت وہاں 90 لاکھ افراد فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں اس وقت 21 لاکھ بچوں سمیت میں 33 لاکھ افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں اور صورتحال مکمل تباہی کے دھانے پر ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یمن میں ڈبلیو ایف پی کے سربراہ سٹیفن اینڈرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں خوراک کی کمی اور بھوک کی غیر معمولی سطح کی وجہ سے صورتحال خاتمے کے مقام کے قریب ہے۔ یمن میں اس وقت دو کروڑ دس لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے اور یہ ملک کی مجموعی آبادی کا 80 فیصد بنتا ہے۔” اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟وہ مقدس اتحاد جو یمن میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ہمارے ہاں مگر روایت مختلف ہے۔اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا پاٹ۔کیا سعودی عرب کا تخلیق کردہ نیا عسکری اتحاد یمن پر فیصلہ کن یلغار بھی کرے گا؟ فتح کے لیے ایسا ہو بھی سکتا ہے۔دنیا کے عدل پسندوں کو آگے بڑھ کے غذائی قلت کا شکار ہونے والے یمنی بچوں،بوڑھوں اور مرد و زن کی امداد کرنی چاہیے۔مسلم دنیا کو فریق بننے کے بجائے یمن و سعودی عرب کا مسئلہ بات چیت سے حل کرانا چاہیے۔سسکتی انسانیت کو انسانوں کی مدد کی ضرورت ہے۔”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو”اس آیت کا ورد وظیفہ کرنے والوں کی غالب اکثریت ہی مسلمانوں میں اختلاف کا باعث ہے۔ہر باضمیر انسان کو مولوی کے بجائے اپنے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔لیبیا،شام،عراق،افغانستان اور یمن سمیت جہاں جہاں مظلومین کو مدد و غذا کی ضرورت ہے دنیا کے عدل پسندوں کو آگے بڑھ کر ان کی اخلاقی مدد کرنی چاہیے۔

2,258 total views, 4 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *