معافی

دنیا میں موجود اشرف المخلوقات اصولی طور پر ادم کی اولاد کہلاتی ہے اور ادم کی اولاد ہونے کے ناطے خطا کے پتلے بھی کہلائے جاتے ہیں اور دنیا کے ہر ادیان میں برائی اور بدی کو اچھا تصور نہیں کیا جاتا ہے اور اس بدی اور برائی کے ازالے کے لئے بھی حضرت انسان اپنے اپنے عقیدے کے مطابق دوا اور دارو کرتا ہے۔ ہم مسلمان جنکا عقیدہ ہے کہ ایک دن ایسا آنےوالا ہے جس میں ذرہ بھر برائی کی سزا ہوگی اور ذرہ بھر نیکی کا انعام بھی۔مسلمانوں کو تو دنیا میں ہی ایک بہت بڑے انعام سے نوازا گیا ہے لیکن ہم نا شکرے اور نا سمجھ اس انعام کو اب تک پہچان اور جان ہی نہ سکے ہیں ۔ہم سب اللہ سے معافی کے خواستگار ہیں پر طریقے سے واقف نہیں اللہ تو ہر قدم پر ہمیں معاف کرنے کے لئے تیار ہے پر ہم خود تیار نہیں کہ معافی حاصل کر یں۔ذرا اللہ کے اس فرمان کو پڑھیں
وَلْیَعْفُوۡا وَلْیَصْفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ (نور:۲۲)
اللہ تو کھلے عام فرما رہے ہیں معاف کر و ، در گزر کرو۔ کیا تمھیں یہ بات پسند نہیں کہ اللہ تمھاری بخشش فرما دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔۔اور یہی مہربان ہم سے کہہ رہا ہے اے غافل انسان مجھ سے معافی کا تو طلبگار ہے تو اپنے اندر معاف کر دینے کی صفت پیدا کر اور میرا وعدہ ہے کہ میں نجات دونگا۔۔میرے خیال میں ہمارے پاس معافی مانگنے کا اس سے آسان طریقہ اور کوئی نہیں ۔جس نے معاف کیا اسے معاف کر دیا جائیگا۔۔۔ میں اللہ سے معافی کا خواستگار ہوں اس لئے جس کے لئے بھی میرے دل میں خفگی ہے ان سب کو معاف کرتا ہوں تاکہ میں معاف کر دیا جائوں ۔۔۔ اور میرے اللہ کا یہی وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔

1,064 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *