شاہدہ لطیف کی نعتیہ شاعری کی کتاب ’’نگاہِ مصطفےٰ‘‘ شائع ہو گئی

نامور شاعرہ‘ ادیبہ اور صحافی کی آٹھویں شعری کتاب نعتیہ مجموعہ’’نگاہِ مصطفےٰ‘‘ شائع ہو گیا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ ممتاز پی۔ایچ۔ڈی نعتیہ شاعر جناب ڈاکٹر ریاض مجید نے تفصیل سے لکھا ہے اور مضامین معروف شاعر اور مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین جناب افتخار عارف اور معروف نعت گو شاعرجناب قمر وارثی نے لکھے ہیں۔ قمر وارثی لکھتے ہیں کہ سچ پوچھیئے تو شاہدہ لطیف کے عرق ریز مطالعے اور بالخصوص حیرت انگیز مشاہدے سے سجی ہوئی نعتیں ایک ایسی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں جنھیں اُردو نعتیہ ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ کہا جا سکتا ہے۔ جب کہ پی۔ایچ۔ڈی نعت گو شاعر ڈاکٹر ریاض مجید پیش لفظ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ پہلے شاہدہ لطیف کی تحریریں، صحافتی تقاضوں‘ سفر ناموں کی رنگا رنگی اور دلچسپیوں کی مظہر تھیں اب شاہدہ کے تخلیے یادِ حرم سے آباد ہیں۔ یہ خاص عطائے ربی ہے کہ وہ دنیا داری میں پھنسے ہوئے شب و روز میں کچھ لمحے اپنے بندوں کو اپنی یاد میں بسر کرنے کی توفیق بخش دیتا ہے۔ بقول کسے ؂ اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں ۔
یادرہے اس سے پہلے شاہدہ لطیف کے سات شعری مجموعے ’معجزہ‘ ’میں پاکستانی ہوں‘ ’معرکہٗ کشمیر‘ ’محبت ہو نہ جائے‘ ’برف کی شہزادی‘ ’اُف یہ برطانیہ‘ اور بیت اللہ پر دستک‘ شائع ہو کر ملک اور بیرونی دُنیا میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں اور اُن کی کتابوں کی رونمائیاں بھی ملک اور بیرونی ممالک میں ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ کرنٹ افیئر میں ’پاکستان میں فوج کاکردار‘ ’امریکہ اسلام اور عالمی امن ۔ناول میں ’سات قدیم عشق‘ کلاسک میں ’حکایات کا انسائیکلو پیڈیا ‘اور ’دُنیا کے ستر عجوبے ‘میدانِ سُخن میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *