بلوچستان میں عالمی خواندگی کا دن

ببرک کارمل جمالی
پاکستان میں کسی بھی زبان میں سادہ خط پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے حامل افراد کو خواندہ کہتے ہیں خواندگی کے حوالے سے ریاست پاکستان کی آئینی ذمہ داریاں اور حکومتی عزم ہے کہ کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی ثانوی تعلیم مہیا کرے گی۔ فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم کو عام طور پر ممکن الحصول اور اعلی تعلیم کو میرٹ کی بنیاد پر سب کے لیے مساوی طور پر قابلِ دسترس بنائے گی اس لئے آج بلوچستان سمیت پوری میں آج خواندگی کاعالمی دن منایاجا رہا ہے جس کی مقصددنیابھر کے کروڑوں ناخواندہ افراد کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرانا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق مملکت خداداد پاکستان میں شرح خواندگی کے لحاظ سے 120 ممالک میں سے 113 ویں نمبر پر ہے پاکستان میں اس وقت پرائمری اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 56 لاکھ طلبہ اسکو ل جانے سے قاصر ہیں یعنی دنیا بھر میں اسکول نہ جانے والوں بچوں کا 62 فیصد جبکہ لوئرسیکنڈری اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 55 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔جبکہ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ایک کروڑ سے زائد نوجوان سیکنڈری اسکول جانے سے بھی محروم ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہائی اسکول تک تعلیم فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے مگر بلوچستان میں یہ ذمہ داری کوئی اٹھانے کو تیار ہی نہیں ہے۔ جسکی وجہ سے سب سے کم خواندگی پورے پاکستان میں بلوچستان میں سب سے زیادہ ہے اس جانب کوئی بھی توجہ نہ دی گئی عجیب اتفاق ہے کہ ہم بلوچستان میں اس شخص کو بھی خواندہ سمجھتے ہیں جو محض اپنا نام پڑھنا لکھنا جانتا ہے یا اپنے نام کے دستخط کرنا جاتا ہو یہ بلوچستان کے لئے بدقسمتی کی بات ہے۔
بلوچستان میں ہر دور حکومت میں، خواہ وہ جمہوری دور ہو یا آمریت کا دور ہو، تعلیم کو عام کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے خوب تعلیمی پالیسیاں بنائی گئی تعلیم پر تجربات کئے گئے، جو آج تک جاری و ساری ہیں مگر سب تجربات تعلیمی ایمرجنسی کے نام پہ ناکامی کی جانب روا دوا ہے ہمارا نظام تعلیم کیا ہو؟ زبان کون سی ہو ؟ تعلیم انگریزی ہو، یا اردو، یا علاقائی زبانیں؟ ابھی تک بلوچستان حکومت یہ بھی طے نہیں کر سکا ہے کہ بلوچستان میں سندھی پنجابی اور پشتو کتابیں نکال کر جن جن سکولوں میں دی گئی ان سبجیکٹ کے ٹیچر بھی موجود نہیں تو کیا یہ سب کتابیں صرف آزمائش کیلئے نکالی گئی اور کروڑوں روپے صرف آزمائش پہ خرچ ہوگئے ہے کیا یہ کتابیں طالب علموں کو خواندہ بنائیں گی ؟ عجیب اتفاق ہے ان زبانوں کے ٹیچر بھی بلوچستان میں موجود نہیں ہے تو پھر یہ کتابیں کس کام کی ۔ اس طرح کا ایک نیا تجربہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ پریپ میں انگریزی زبان کی کتابیں بچوں کو تھما دی گئی ہے۔جو باعث عبرت ہے جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت مادری زبان کو دی جاتی ہے مگر بلوچستان میں بچوں کو مادری زبان سے دور رکھا جاتا ہے جو افسوسناک عمل ہے ۔ جب کہ بلوچستان کے سرکاری سکول کے مد مقابل پرائیویٹ اسکولوں میں ہزاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جہاں پہ ٹیوشن فیس کے نام پر ہزاروں روپے اور داخلہ فیس کے نام پر لاکھوں روپیہ لیے جاتے ہیں جو ایک افسوسناک عمل ہے۔ بلوچستان میں تعلیم جیسے اہم شعبے کو نجی سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم بھی ایک جنس ہے جسے بازار میں بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-

بلوچستان کے طالب علموں کے بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ بھی میسر نہیں ہے بچے ٹوٹے پھوٹے بینچ اور پھٹے ہوئے ٹاٹوں پہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تو اور ان بچوں کو پڑھانے کے لیے قابل اساتذہ بھی موجود نہیں ہے اور نہ ہی وقت پہ کتابوں کی سہولیات سکولوں کو میسر نہیں ہے جو ایک افسوسناک عمل ہے بلوچستان کی ساٹھ فیصدآبادی دیہاتوں میں مقیم ہے اس لئے دہی سطح پر تعلیم کے فروغ کیلئے فوری اور دیرپہ اقدامات کی ضرورت ہے بلوچستان کے حکومت نے ہر بچے کا سکول میں داخلہ یقینی بنانے کے لئے جامع پروگرام وضع کیا ہے تاکہ 2018 تک صوبے میں ستر فیصد شرح خواندگی کا ہدف حاصل کیا جا سکے جو ایک خواب خرگوش لگ رہا ہے۔ بد قسمتی سے بلوچستان میں فروغ تعلیم کے معاملے میں کبھی بھی لائبریریوں کی طرف توجہ نہ دی گئی اگر بلوچستان میں لاِئبریریاں قائم کی جائیں تو تعلیم کو پھیلانے کا اہم وسیلہ بن جائیں گی اوربلوچستان کو علمی و ترقی کی راہ پہ گامزن کریں گی ۔بلوچستان کے اکثر سکولوں میں طویل عرصے سے بغیر پنکھے اور واش روم کی سہولیات موجود نہیں ہے آج جو نصاب بچوں کو پڑھائی جاتی ہے یہی نصاب ان بچوں کے والدین نے بھی پڑھی تھی۔ دیہاتی علاقوں میں شرح خواندنگی میں کمی کی بنیادی وجہ انفراسٹرکچر کی کمی ہے، حکومت بلوچستان شہروں کے بجائے اب دیہی علاقوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر قائم کرے تو اچھا ہے دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں، اور ان میں مہیا کی جانے والی سہولیات اور فنڈز کی کمی بھی شرح خواندگی میں کمی کی بنیادی میں شامل ہیں۔ بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے ایک پیکج سے ہٹ کر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے- اس کے لیے ہمیں ٹھوس بنیادوں پر ہنگامی سطح پر منصوبہ بندی کرنے کی ضروت ہے تاکہ بلوچستان ناخواندگی کو کم کر کے بڑھے بھی اور پڑھے بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *