شہزادے ولید بن طلال کون کون سا بزنس کرتے تھے،اتنا پیسہ کیسے کمایا،تفصیلات سامنے آ گئی

شہزادے محمد بن سلمان کی ہدایت پر بننے والی اینٹی کرپشن کمیٹی نے الولید کو صحرا میں تفریح کے لیے لگائے جانے والے خیمے سے گرفتار کیا مگر سعودی حکام نے ابھی تک ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے سعودی شہزادے کا شمار دنیا کی ابتدائی 50 امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے.
سعودی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ اینٹی کرپشن کمیٹی کے ہاتھوں مبینہ طور پر گرفتار ہونے والے کھرب پتی شہزادے الولید بن طلال کی بین الاقوامی کمپنیوں میں خفیہ سرمایہ کاری کی تفصیلات سامنے آگئیں. ان کے کل اثاثہ جات کی مالیت 19 کھرب ڈالر ہے۔رپورٹ کے مطابق شہزادے نے نامور کمپنیز جیسے ایپل، سٹی گروپ وغیرہ میں سرمایہ کاری کررکھی ہے، ان کے اثاثہ جات کی مالیت کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ 2007 میں اپنا ذاتی طیارہ اے 380 خریدنے اور پرائیوٹ ہوائی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔الولید نے بڑھتے ہوئی آن لائن شاپنگ کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے ای کامرس انڈسٹری میں بھی خوب سرمایہ کاری کی.

یاد رہے کہ الولید بن طلال نے صدارتی انتخابات کے دوران ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے امریکا میں موجود اپنے اثاثہ جات کو فروخت کردیا تھا۔
جب کہ دوسری طرف الولید بن طلال کی کمپنی کے ترجمان نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ شہزادے کے اثاثہ جات کی تفصیلات پہلے ہی حکومت کے پاس موجود ہیںانہوں نے بینکوں اور دیگر نجی کمپنیز میں سرمایہ کاری کررکھی ہے.جو حکومت کو سالانہ ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتی ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *