سردیوں میں جلد کو خشکی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوجاتا ہے جس کا اثر ہماری جلد پر پڑتا ہے اور اس کے ساتھ جلد بھی کھردری اور خشک ہوکے پھٹنے لگتی ہے، ماہرین کے مطابق سرد موسم میں بھی جلد کی حفاظت پر تھوڑی توجہ دے کر اس کی خوبصورتیاور نکھار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین امراض جلد کے مطابق زیادہ دیر تک گرم پانی سے نہانا بھی خشکی کا باعث بنتا ہے اس لئے سرد موسم میں غسل کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ پانی نیم گرم ہو اورغسل کا دورانیہ بھی 10 منٹ سے زیادہ نہ ہو۔جلد کی حفاظت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نہانے سے پہلے پانی میں بے بی آئل یا کسی اور تیل کے چند قطرے پانی میں ڈال لیں اور سرسوں یا کھوپرے کے تیل سے جسم پر مالش کریں، جلد کو شاداب رکھنے میں یہ طریقہ انتہائی مفید ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ نہانے کے بعد بدن اچھی طرح خشک کرلیں اور کسی اچھے سے باڈی لوشن سے مساج کریں۔

روزانہ رات سونے سے پہلے منہ دھو کر اچھی سی کولڈ کریم لگانا بھی مفید ہے۔صابن کا استعمال سردیوں میں کم کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے جلد کی قدرتی نمی میں کمی ہوجاتی ہے۔اس کے علاوہ صابن کو جسم پر زیادہ نہیں رگڑنا چاہیئے کیونکہ اس سے جلد کے پھٹنے اور متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے،ماہرین جلد کے مطابق چہرے کی صفائی کے لئے بیسن کا لیپ بہترین طریقہ ہے جس سے چہرے پر چکنائی نہیں رہتی ۔اگرکسی کی جلد قدرتی طور پر خشک ہو تو اس کے لئے صابن سے پاک موسچرائزز کلینر کا استعمال بھی مفید ہوسکتا ہے۔ جن لوگوں کی جلدنازک ہوتی ہےسردیوں کے موسم میں ان کے ہاتھوں کی جلد بہت اترتی ہے۔اس کے لئے ایک گلاس گلاب کے عرق میں دو چمچے گلیسرین ایک بڑے لیموں کا رس ملا کر کسی بوتل میں محفوظ کرلیں‘ رات کو سوتے وقت اس کا مساج کریں اور صبح دھولیں اور کوئی اچھا سا لوشن لگا لیں۔ سردیوں میں جلد کو شاداب رکھنے کے لیے رات کو سوتے وقت اچھی سی کولڈ کریم اور موسچرائزر استعمال کریں اور یہ طریقہ اسے اس موسم کے اثرات سے بھی محفوظ رکھے گا۔ ماہرین کے مطابق سردیوں میں پانی کا زیادہ جب کہ گرم مشروبات کا استعمال کم کردینا چاہئے، کیوں کہ اس سے جسم سے پانی کا اخراج ہوتا ہے. ۔ سردیوں میں ان پھلوں اور سبزیوں سے جیسا کہ مالٹے، سنگترے، گاجر، مولی سے بھی جسم میں پانی کی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔ اس طرح جلد کی شادابی برقرار رہتی ہے اور جلد موسم کے اثرات سے محفوظ رہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *