جگر کا مرض ایک خاموش قاتل ہے،اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ تین سے پانچ کپ کافی پینے سے جگر کے کینسر اور اس کے غیر فعال ہونے کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔یہ تحقیق رائل سوسائٹی آف میڈیسن لندن کی جانب سے پیش کی گئی ہے جس میں کافی کے انسانی جسم پر اثرات سے متعلق بحث کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اعتدال کے ساتھ کافی کا استعمال جگر کےلیے مفید ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر گریم الیگزینڈر نے کہا ہے کہ جگر کے امراض بڑھتے جا رہے ہیں اس لیے یہ معاملہ بہت اہم ہے کہ کس طرح دنیا کی من پسند ’’کافی‘‘ جگر کے امراض کے خلاف معاون ثابت ہورہا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ کافی پینے سے جگر کے امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، اس لیے ضروری یہ ہے کہ مریض کی مناسب نگہداشت کےلیے انہیں اپنے معالجین کی طرف سے غذا کے درست استعمال کے بارے ایسی معلومات فراہم کی جائیں جنہیں وہ سمجھ سکیں اور ان پر عمل کرسکیں۔اس تحقیق سے یہ بات بھی پتہ چلی ہے کہ کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں کافی پینے والے افراد میں جگر کے کینسر کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

اس سے قبل اٹلی اور امریکی ماہرین کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کافی کے ٹھیک استعمال سے جگر کے امراض 25 سے 70 فیصد تک کم ہوتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں کہا گیا تھا کہ کافی کے زیادہ استعمال سے 65 فیصد تک جب کہ کم استعمال سے جگر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 تا 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔برطانوی ادارے برٹش لیور ٹرسٹ کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جگر کا مرض ایک خاموش قاتل ہے کیوں کہ جب تک اس کی علامات سامنے آتی ہیں، بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ کافی ایک ایسا مشروب ہے جس تک ہر شخص کی آسانی سے رسائی ہے۔ فلٹرڈ، انسٹنٹ یا ایسپریسو کے اثرات میں فرق ہوسکتا ہے تاہم کوئی بھی کافی ہو، اسے روزانہ پینے سے جگر کے امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم سے کم ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *