خارزارِ جہاں تحریر ۔مہر ساجد بلال

اظہر من الشمس بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے ملک میں ہمارے معاشرے میںآباد زیادہ ترعام غریب طبقہ زوال پذیر ہے ان کے لیے یہاں زندگی بسر کرناخار زارِ جہاں ہی ہے اور غریب عوام کے حالات کو دیکھ کر قلم فرسائی میں نے اس لیے کی کہ یہ سب میری براداشت سے باہر اور میں اس مسلے کی ضربِ کربناک پرانتہائی پراگندہ ہوں کمر توڑ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے اور غریب طبقہ ایک وقت کے کھانے کو ترس رہا ہے غریب آدمی کا پیٹ پالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گیا ہے لیکن خاص طبقے اوران کے منشیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی پنجاب حکومت نے عوامی سہولیات کے لیے ماڈل بازار اور اتوار بازار وغیرہ کا خاص اہتمام کر رکھا ہے اور اس کے لیے مخصوص ایریا (جگہ) مختص بھی کی ہوئی ہے تاکہ یہاں سے عام آدمی اپنی ضروریاتِ زندگی کی اشیا ء کو با آسانی حاصل کر سکیں لیکن ان بازاروں میں بھی حکومتِ پنجاب اور ما تحت ذمہ دار ادارے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں اتوار کے روز میرے دل میں بھی خیال ابھراکہ میں بھی حکومتِ پنجاب کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات سے مستفید ہوکر آؤں تو میں بھی لاہورمیں جناب افضل کھوکھر صاحب اور فیصل ملوک کھوکھر صاحب کے حلقہ میں لگنے والے اتوار بازار میں تشریف لے گیا اورجہاں عوام کی بھیڑ اور پھر دوکانوں کی سجاوٹ دل میں گھر کر رہی تھی سیکورٹی اہلکاروں کی چیکنگ اور ہمہ گو ں سازو سامان اتوار بازار کے حسن میں رنگ بکھیررہا تھابازار میں جہاں نئی چیزیں فروخت ہو رہی تھیں وہی پررفو کے سٹال ، لنڈا بازار میں بھی لوگوں کا رش دیکھنے کو ملا لیکن سب کے چہروں پر حیرانگی ہوش اڑے ہوئے اور زبان پر مہنگائی کی صدا ء تھی اور میں مکمل التفات سے یہ سب محسوس کر رہاتھا بزعمِ خود میں گم ہوکر دل ہی دل میں سوچ و بچار کر رہاتھا کہ یہ کیسا بازار ہے جس میں فروخت ہونیوالی پرانی اشیاء جنہیں ہم رفو(یا)لنڈے کے نام سے پکارتے ہیں وہ بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں.

غریب آدمی ان کو بھی خرید نیں کے لیے کئی کئی بار پس و پیش اورپریشانی کے عالم سے گزر رہا ہے اتوار بازار میں فروخت ہونیوالی سبزیوں کے نرخ ریٹ لسٹ سے زیادہ وصول کیے جارہے تھے میں نے معلوماتی طور پر جب جاننا چاہا تو چند صاحبان نے بتایاکہ یہ جوقیمتِ فروخت کی جاری کردہ لسٹیں ہیں یہ ان سبزیوں کی ہیں جو اگر ہم فروخت کرنے کیلے اتوار بازار میں لے آئیں تو ان سبزیوں کو جانور بھی کھانا پسند نہ کریں اگر فروخت بھی کریں تو ملاوٹ کے بغیر ممکن نہیں اور جو سبزیاں ہم فروخت کرنے کے لیے یہاں لگائے بیٹھے ہیں ہمیں ان قیمتوں پر فروخت کرنا گوارا نہیں اس صورتحال کو دیکھ کر میں ہی نہیں وہاں اشیاء خرید کرنے والا ہر شخص ششدر ہو رہا تھایہ تو ان بازاروں کی صورتحال ہے جن کو خصوصی شرف بخشاء گیا لیکن اگر بات دیہی علاقوں کی جائے تو ضمیر ارتعاش کرنا شروع کردے رونگٹے کھڑے ہو جائیں کہ دیہی علاقوں میں کس قدر لوگ مشکلات کا شکار ہیں اور ان تک حکومتیں سہولیتات فراہم کرنے میں ابھی تک ناکام ہیں ہمارے ملک میں بسنے والی زیادہ آبادی صاف پانی سے محروم ہے اور کچھ علاقوں میں تو پانی کی فراہمی بھی مشکل ہے جس کی زندہ مثال سندھ اور کراچی نیرِ تاباں کی طرح عیاں ہے کیا ان لوگوں کو پاکستان میں آسان زندگی بسر کرنے کا کوئی حق نہیں ؟ کیا یہ کوئی عجیب و غریب مخلوق ہیں جن کی زندگیوں میں اندھیروں کے سواء کچھ نہیں ؟ کیا سہولتیں وڈیروں ،جاگیرداروں ،سرمایہ کاروں کے لیے ہیں جناب عالی عام آدمی کو جب تک سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں ملک میں تبدیلی نہیں آسکتی اور نہ ہی روشن پاکستان کا خواب پورا ہو سکتا ہے عام آدمی کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اس کے لیے مخلص ہو کر خدمت خلق لازم ہے لیکن افسوس ہمارے حکمران گرانٹیں تو تقسیم کر رہے ہیں جن کا فائدہ عوام کو کم اور حکومتی نمائندوں کو زیادہ ہے لیکن جو عام آدمی کو فل وقت ضروری ہے اس پر توجہ نہیں دی جا رہی مہنگائی کا سیلِ بے پناہ آپے سے باہر اور غریب آدمی بے بال و پر خود کشی کرنے پر مجبور اور موجودہ حالات کو دیکھ کرحزیں ہیں اورملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہر مجبورکی آنکھ نم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *