حکومت پاکستان نے 50 کروڑ ڈالر کا قرض کس سے اور کیوں لیا؟ آپ بھی جا نیے

حکومت پاکستان نے 50 کروڑ ڈالر کا قرض انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا سے لیا جو کہ سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر کو خطرناک حد سے نیچے آنے سے روکنے کے لیے لیا. وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ اس تازہ قرضے کے بعد رواں سال کے پہلے 4 ماہ کے اندر لیے گئے غیرملکی کمرشل قرضوں کی مالیت 1ارب ڈالر کی حد عبور کرچکی ہے۔ وزارت خزانہ نے پارلیمنٹ کو رواں سال جون میں آگاہ کیا تھا کہ مالی سال 2017-18 کے دوران 1 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے لیے جائیں گے اس لیے حکومت نے یہ حد ابھی سے عبور کرلی ہے جبکہ مالی سال کو ختم ہونے میں ابھی 8 ماہ باقی ہیں۔ اب تک سٹی بینک سے 26 کروڑ 70لاکھ اور 25 کروڑ 50لاکھ ڈالر کے کریڈٹ سوئس سے حاصل کیے جاچکے ہیں۔پاکستان نے کریڈٹ سوئس کی سربراہی میں قائم کنسورشیم سے بھی 45 کروڑ ڈالر کے مختصر مدتی غیرملکی کمرشل قرض کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو بڑھایا جاسکے اور کریڈٹ سوئس سے لیا گیا پچھلا قرضہ ادا کیا جا سکے.

سٹی بینک اور آئی سی بی سی ان آدھے درجن بینکوں میں سے ہیں جن سے پاکستان نے سکوک اور یورو بانڈ جاری کرنے کے لیے بطور لیڈ منیجرز رابطہ کیا ہے. مذکورہ سکوک اور یورو بانڈ کے لیے روڈ شوز بدھ کو شروع ہوگئے،. ان بانڈز سے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے 2سے 3ارب ڈالر حاصل کیے جائیں گے۔

آئی سی بی سی نے گزشتہ سال بھی 30 کروڑ ڈالر کا کمرشل قرضہ دیا تھا اور یہ قرضے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو کم ہونے سے روکنے کے لیے حاصل کیے گئے ہیں جو 13.67 ارب ڈالر ہیں. وزارت خزانہ ذخائر کو ڈھائی ماہ کے درآمدی بل سے نیچے آنے سے روکنے کے لیے سخت کوششیں کر رہی ہے. بے لگام درآمدی بل کی وجہ سے رواں سال جولائی سے اب تک غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 2.5ارب ڈالر کم ہوچکے ہیں. گزشتہ 4ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 122 فیصد کے اضافے سے 5ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *