بڑھاپے میں ایسا کرنے سے دماغی بیماریوں سے چھٹکارہ پایا جا سکتا ہے

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تحقیق 10 برس کے طویل عرصے پر مشتمل ہے جسے امریکی ادارے یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے زیر اہتمام مکمل کیا جارہا ہے۔ اس تحقیق میں 74 سال کی اوسط عمر کے 2800 سے زائد بوڑھے افراد کو کمپیوٹر پر ذہنی سطح کو پرکھنے اور بصری قوت کو بہتر بنانے والے ایک خاص تربیتی پروگرام ’’ ڈبل ڈیسیشن‘‘ کا اہتمام کرایا گیا جو ایک کمپیوٹر گیم ہی کی طرح ہے۔ماہرین کےلیے اس تحقیق کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ثابت ہوئے البتہ وہ اس بات کی تصدیق آخری حد تک کرنا چاہتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہ معمر افراد جو کہ کمپیوٹر پر ٹریننگ پروگرام یا مختلف گیمز کھیلنے کی کوشش میں رہتے ہیں، ان میں بھولنے کا مرض ’’ڈیمنشیا‘‘ کے خطرات 29 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 2800 سے زائد افراد کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے گروپ نے کمپیوٹر ٹریننگ پروگرام کا استعمال کیا، دوسرے نے روایتی دماغی مشقوں کا سہارا لیا، تیسرے گروپ نے بھی اسی طرح مختلف مشقیں کریں اور چوتھے گروپ سے کوئی مشق نہ کرائی گئی۔ پہلے گروپ کے افراد نے پہلے 5 ہفتوں میں کم سے کم 10 گھنٹے تک کمپیوٹر پروگرام استعمال کیا جو ویڈیو گیم کی مانند ہے، اسی طرح اگلے تین برس تک اس کا دائرہ کار 18 گھنٹے تک بڑھا دیا گیا۔

اس تربیتی پروگرام کی مدد سے کسی بھی شخص کی اسکرین کے درمیان میں حرکت کرتی ہوئی اشیا کو دیکھنے کی صلاحیت کو دیکھا جاتا ہے جیسا کہ ریسنگ گیمز جن میں ایک کار مسلسل حرکت میں ہوتی ہے۔ پروگرام میں چیزوں کی تلاش کرنے کا مرحلہ بھی موجود ہے جس کے استعمال میں ہر مرحلے پر اس میں تیزی آتی ہے پھر یہ مشکل ہوتا جاتا ہے۔ اس کے زریعے دماغی صلاحیتیں بڑھانے کی مشقوں میں تبدیلی آئے گی۔اور اس کے ساتھ ہی دماغی صلاحیتوں کو جانچنے کے طور طریقوں، فیصلے کرنے، سوچ اور یاداشت میں بھی تبدیلی ظاہر ہوگی۔اولڈ ایج سائیکاٹری یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر راب ہورڈ نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج کا اجراء اسی یونیورسٹی سے کیا گیا۔ 10 برس تک کئی ہفتوں میں محض چند گھنٹوں تک ویڈیو گیم کے استعمال کے حیران کن نتائج برآمد ہوئے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *