راؤ انوار کو کس سے خطرہ ہے آپ بھی جانئیے

سابق ایس ایس پی نیاز کھوسو کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے جس میں وفاقی وزیر داخلہ، نیب، ایف آئی اے اور آئی جی سندھ کو فریق بنایا گیا جب کہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ راؤ انوار نے مختلف مملک کے 64 دورے کیے ہیں جن میں 85 ارب روپے کا زر مبادلہ بیرون ملک منتقل کیا، وہ 9 برس سے ملیر کے ایس ایس پی تعینات ہیں اور اس دوران راؤ انوار نے اربوں روپے کی جائیدادیں اپنے اہلخانہ کے نام بنائی ہیں۔سٹی کورٹ میں ایم کیوایم کے سابق رہنما سلیم شہزاد کے خلاف جلاؤ گھیراؤ، قتل اور ہنگامہ آرائی کیس کی سماعت کراچی کی سٹی کورٹ میں ہوئی۔ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار عدالت میں پیش ہوئے اور گزشتہ سماعتوں میں عدم حاضری پر اپنا تحریری معافی نامہ جمع کرادیا۔

عدالت نے بارہا طلب کرنے کے باوجود راؤ انوار کے نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ آپ کو جیل بھیج دیا جائے تاکہ آئندہ پیشی پر آپ پابندی کے ساتھ جیل سے کورٹ آئیں ورنہ آپ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ راؤ انوار کا کہنا تھا کہ مجھے طالبان سے خطرہ ہے اس لئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوسکا۔ راؤ انوار نے کیس سے متعلق بیان دینے کے لئے وقت مانگ لیا، عدالت نے کیس کی سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *