اگرآپ ذہنی تناؤکا شکار ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے مؤثر ہے

آج کے دور میں‌ ہر دوسرا شخص ذہنی تناؤ کا شکار ہے.ماہرین ایک عرصے سے جسم کے اندر ویگن اعصاب پر زور دے رہے ہیں اور تناؤ دور کرنے میں اس کے اہم کردار پر تحقیق ہورہی ہے۔ یہ اعصابی نظام دماغ سے ہوتا ہوا بائیں کان سے گزرتا ہے اور حلق کے پیچھے سے ہوتا ہوا دل اور پھیپھڑوں سے گزرتا ہے، جہاں یہ پیٹ میں جاکر شاخ در شاخ تقسیم ہوجاتا ہے۔ لمبے جوتے کی شکل سے ملتا جلتا ہے اسی وجہ سے ان اعصاب کو ویگن اعصاب بھی کہا جاتا ہے۔ویگن سسٹم انسان کے خود کار اعصابی نظام کا ایک حصہ ہے جو ہمارے بہت سے غیر شعوری کاموں کو خود ہی کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ خطرے کے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر بڑھا دیتا ہے اور مشکل حل ہونے پر خود ہی سکون اور اطمینان کا احساس دلاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ماہرین نے ویگن اعصاب کو احساسات کی سپر ہائی وے قرار دیا ہے۔اعصابی علوم کے ماہر ڈاکٹر مگڈیلینا مایئر کا کہنا ہے کہ ویگل ٹوننگ تناؤ دور کرنے کا مؤثر اورتیز طریقہ ہے۔ اگر ویگن اعصاب کم سرگرم ہو تو ہم پر اداسی، خوف اور یاسیت کے سائے منڈلاتے ہیں۔ ویگن نظام کو ٹھیک کرکے ہم ان تمام کیفیات سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے ارتعاش پیدا کرنے والا ایک چھوٹا سا انقلابی آلہ تیار کیا ہے جس کو سنسیٹ کا نام دیا گیا ہے۔ سنسیٹ‘‘ کے استعمال سے صرف 10 منٹ میں آپ خود کو پُرسکون محسوس کرنے لگیں گے.بین الاقوامی کمپنی بایوسیلف نے اسے بنایا ہے اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ کم فریکوئنسی کی صوتی لہریں خارج کرتا ہے۔ ان لہروں کی شدت کو اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔سنسیٹ پیس میکر کی طرح کام کرتا ہے، یہ آلہ لہروں کے ذریعے دوران خون کو معتدل اور دل کی دھڑکن کو متوازن کرتا ہے۔ یہ سانس لینے کا عمل بہتر بناتا اور نظام انہضام کو طاقت دیتا ہے۔

سنسیٹ کا استعمال بھی بہت آسان ہے، اسے استعمال کرنے سے پہلے مریض کو آنکھیں مُوند کر آرام دہ انداز میں لٹا دیا جاتا ہے، پھر اسے سینے پر دل کے مقام سے ذرا ہٹ کر رکھ دیا جاتا ہے جو اس کے استعمال کے لیے مریض اور سنسیٹ ارتعاش لہریں پیدا کرکے صوتی لہریں اعصاب تک بھیجتا ہے۔ یہ لہریں پیٹ اور سینے میں پھیل جاتی ہیں۔ اس طرح مریض تھوڑی دیر میں پرسکون ہوجاتا ہے اور خود کو توانا اور پرسکون محسوس کرنے لگتا ہے اور یہ عمل ویگل ٹوننگ کہلاتا ہے اور یہ ذہنی تناؤ دور کرکے جسم کے حصوں کو سکون پہنچاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *