پاکستانی اداکارہ اب کس طرح کی فلم میں کام کرنا چاہتی ہیں اُنہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا

جس طرح آج کل سینما گھروں کی رونق پھر واپس آ گئی ہے تو ہر اداکار فلم انڈسٹری میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانا چاہتا ہے.اسی طرح صنم سعید نے بھی ایک خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماڈلنگ، ایکٹنگ اورسنگنگ کے شعبوں میں بہت کام کیا ہے لیکن فلم میں کام کرنے کاتجربہ سب سے منفرد تھا۔ فنون لطیفہ کے دیگرشعبوں میں فلم کا میڈیم سب سے مضبوط اورعوام کے بہت قریب ہے۔ یہ وہ واحد تفریح ہے جس سے لوگوں کی بڑی تعداد بہت لطف اندوز ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھرمیں فلم اوراس سے وابستہ لوگوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ مجھے جب فلم میں کام کرنے کی آفر ہوئی تومیں نے بہت سوچا اورپھر فلم کی کہانی اوراپنے کردارکے بارے میں جان کر رضامندی کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے میں ٹی وی اورفیشن انڈسٹری میں کام کر چکی تھی، اس لیے مجھے لگتا تھا کہ فلم میں کام کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا لیکن یہ واقعی ہی بہت مشکل کام تھا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس سے ایک فنکارکوبہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کام کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔

صنم سعید یہ بھی کہتی ہیں کہ پاکستان فلم انڈسٹری کا حصہ بننا کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں اس شعبے میں آنے سے پہلے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک روز بڑے پردے پرکام کرتی دکھائی دوں گی۔اداکارہ نے کہا کئی مہینوں اوربرسوں کی محنت سے بننے والی ایک فلم کی کامیابی اورناکامی کا فیصلہ دو سے تین گھنٹوں کے درمیان ہونا ہوتا ہے۔ فلم بری جائے تواگلے ہی دن ڈبے میں بند ہوجاتی ہے جبکہ کامیاب ہوتو ہال میں تالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ہرایک یہی خواہش رکھتا ہے کہ اس کی فلم ریکارڈ بزنس کرے۔ اس لیے میری کوشش ہے کہ میں اپنے کیرئیر کے دوران اچھے اورمنفردموضوعات پربننے والی فلموں میں اپنا ہنر دکھاؤں جوکہ شائقین کو بہت پسند ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *