محکمہ تعلیم کے سندھ کے سیکریٹریٹ رشوت خوری اور کرپشن کا گڑھ بند چکی ہے

گزیٹیڈ آفیسرز ایسو سئیشن سندھ (اسکول ایڈمنسٹریشن)لاڑکانہ ڈویژن کی حلف برداری تقریب آفیسرز قلب میں منعقد کی گئی جس میں مرکزی،ڈویژنل، ضلعی تعلیمی آفیسراور رہنمائوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے مرکزی سینئر نائب صدر منظور منگی کا کہنا تھا کہ سندھ کی محکمہ تعلیم کو ریفارم سپورٹنگ یونٹ کے نام پر یرغمال بنا کر تعلیمی سیکریٹریٹ میں کرپشن کا کاروبار شروع کر کے صوبے کے اسکولی تعلیم اور تعلیمی اداروں کا نام ہاتھوں سے خراب کیا جا رہا ہے مہمانے خاص زین العابدین لغاری کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کے ڈویژنل ضلعی اور تعلقہ سطح کے پروفیشنل تعلیمی آفیسروں کے انتظامی اختیار اور ہاء اسکولوں اور ہایر سیکنڈری اسکولوں کے انتظامی اختیار دیگر محکموں کے غیر ترتیب یافتہ نان پروفیشنل آفیسروں کو دئے گئے ہیںجس کے باعث سندھ صوبے میں تعلیمی اور انتظامی ڈھانچا مکمل مفلوج بن گئی ہے ڈویژنل صدر عاشق حسین میمن کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کے اصل ملازم اپنے اداروں میں ہی بے بس بنے ہوئے ہیںاور اپنے حقوق کی حاصلات کے لئے عدالتوں میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں

گذشتہ کچھ سالوں سے محکمہ تعلیم کے سندھ کے سیکریٹریٹ رشوت خوری اور کرپشن کا گڑھ بند چکی ہے انہوں نے کہا کہ کافی عرصے سے تعلیمی آفیسروں کے پروموشن نہیں ہوئے ہیںدیگر محکموں کے ملازمیں کو پروموشن دے کر مقرریاںکر کے بااختیار بنایا جارہا ہے جنہوں نے مکمل اسکولوں کے نظام اور تعلیم برباد کر دی ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری اور سیکنڈری اختر حسین کوریجواور نواب علی کھوکھر کا کہنا تھا کہ حکومت کی ایسی قسم کی غیر سنجیدہ فیصلوں اور پالیسیوں کے سبب اساتذہ اور آفیسروں کا سندھ کی سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں میںوقار گر رہا ہے جو کے بڑا سماجی المیہ ہے اس موقع پر مختلف ضلعوں آئے رہنمائوں عبدالعزیز کلھوڑو، ارشاد بکرانی،کمل کمار، زینت النساء ، فوزیہ ناز،ودیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ ڈویژنل باڈی کو گزیٹیڈ آفیسرز ایسو سئیشن سندھ مہمانے خاص زین العابدین قسم بھی اٹوائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *