اگر آپ بھی کان صاف کرنے کے لیے یہ چیز استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے

بعض لوگ کان صاف کرنے کے لیے کاٹن بڈ کا سہارہ لیتے ہیں کیونکہ یہ آسان لگتا ہے جب کہ کچھ لوگ کان کی صفائی کے لیے چابی، ٹوتھ پک، کاغذ کے ٹکڑے اور دیگر اشیا کا بغیر کچھ سوچے سمجھے استعمال کرکے خود کے لیے نئے مسائل کو دعوت دیتے ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹرایناکمِ کے مطابق کاٹن برڈ سے کان کی صفائی کوئی مفید طریقہ نہیں ہے. کان کی میل کھال پر نمی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کان کوانفیکشن سے بچاتی ہے جبکہ ایک اور ماہر ڈاکٹر الینا شولٹر کا ماننا ہے کہ کاٹن بڈ یا دیگر اشیا سے کان کی صفائی میل کو کم کرنے کی بجائے اسے اور اندر کی طرف دھکیل دیتی ہیں کیونکہ کاٹن بڈ سے کان کا پردہ خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سننے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ کان کی نالی کی جلِد نرم ہوتی ہے جس میں کاٹن بڈ باآسانی ٹوٹ سکتا ہے اور جراثیم کے اندر جانے کا راستہ بن جاتا ہے اس لیے کان کی صفائی کے لیے کاٹن بڈ یا کسی اور نوکدار چیز کا استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ کان کی صفائی کیسے کی جائے تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ جو طریقہ کار بدن کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہی کان کی صفائی کے لیے بھی اختیار کیا جائے۔ بس ایک ملائم کپڑے کو گیلا کریں اور کان کے باہری حصوں پر اسے پھیریں تاکہ جلِد صاف ہوجائے، کان کی اندرونی صفائی اس وقت تک غیر ضروری ہے جب تک کہ میل ازخود باہر نہ آجائے.

اس کے علاوہ اگر گھر پر آپ کان کی صفائی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے میل نرم کرنے والے ڈراپز استعمال کرسکتے ہیں،اس ڈراپر کو کان میں قطروں کی صورت میں ڈالاجائے اس سے سخت ہوئی میل کو نرم کیا جاسکے گا اورپھر سرنج کے استعمال سے نیم گرم پانی سے میل کو باہرنکالا جاسکتا ہے۔ لیکن دھیان رہے کہ سرنج سے پانی پوری قوت سے اندر نہ جانے ورنہ فائدے کی بجائے نقصان کا احتمال ہوسکتا ہے۔اس کے باوجود اگر میل کی وجہ سے قوتِ سماعت متاثر ہو یا اور کوئی دقعت درپیش ہوتو معالج کو دکھانا ہی عقلمندی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *