بابری مسجد یا رام مندر،فیصلہ ہونے والا ہے

بابری مسجد ایودھیا میں 1528 میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوں کا دعوی ہے کہ یہ مسجد ہندوں کے دیوتا بھگوان رام کی جائے پیدائش پر بنے ہوئے مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔ لیکن اب تنازع یہ ہے کہ یہ زمین اصل میں کس کی ہے. الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 میں اپنے فیصلے میں متنازع زمین کو مقدمے کے ایک مسلم اور دو ہندو فریقوں کے درمیان برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تینوں فریقوں نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد رام مندر مقدمے کی حتمی سماعت شروع کر دی، عدالت عظمی کا ایک آئینی بنچ مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرے گا۔ عدالت عظمی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بابری مسجد کی زمین کس کی ملکیت ہے۔ منگل کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد رام مندر مقدمے کی حتمی سماعت شروع کر دی ہے عدالت عظمی کا ایک آئینی بنچ اس پیچیدہ مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرے گا۔
جب کہ ب ھارت میں مسلمان (آج) بابری مسجد کیشہادت کیخلاف یوم سیاہ منائیں گے ، مسلم تنظیمیں اپنے اپنے تجارتی ادارے بند رکھیں گی ،مساجد میں بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لیے دعا ئیں کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *