لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا

2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی دفتر کے سامنے تجاوزات ہٹانے کے دوران جھڑپ میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے۔.لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی درخواست پر انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف پنجاب حکومت نے انٹرا کورٹ میں اپیل دائر کی تھی.لیکن عدالت عالیہ نے سنگل بینچ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ لواحقین کو 3 روز میں فراہم کرنے جب کہ 30 روز میں شائع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

رپورٹ جاری ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں14 کارکنوں کو شہید جب کہ 90 سے زائد افراد کو گولیاں ماری گئیں، واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب نے خود جوڈیشل کمیشن بنایا تھا اور کہا تھا کہ ذمہ داری ان پرآئی تو وہ فوری استعفیٰ دیں گے، صوبائی حکومت نے ساڑھے تین سال تک رپورٹ دبائے رکھی،ہم نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، پنجاب کے وزرا کی ایما پر ہی ہمارے دفتر اور کارکنان پر حملہ کیا گیا ہمارے پاس ثبوت بھی موجود تھے، حکومت نے قاتلوں کی نشاندہی کی وجہ سے رپورٹ کو ساڑھے 3 سال تک دبا کر رکھا لیکن آج عدالت نے ہمارے مؤقف کی تائید کی اور سانحے میں حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا، بہت جلد شریف برادارن جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے اور شہدا کے لواحقین کو انصاف ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *