یوٹیوب نے اپنے صارفین کی بہتری کے لیے نیا قدم اُٹھا لیا

گوگل کی زیرِ نگرانی یوٹیوب ویب سائٹ کی چیف ایگزیکٹو سوسن ووجسکی نے انکشاف کیا کہ یوٹیوب کی خصوصی ٹیم نے گزشتہ 6 ماہ میں 20 لاکھ ایسی ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے جو شدت پسندی پھیلا رہی تھیں اور ان میں سے ڈیڑھ لاکھ ویڈیوز کو یوٹیوب سے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ویب سائٹ پر گمراہی، ہراساں کرنے اور دیگر افراد کو نقصان پہنچانے کا کام جاری ہے۔یوٹیوب نے اپنی ویب سائٹ پر پرتشدد، بچوں کی ویڈیوز پر نازیبا کمنٹس روکنے اور بچوں کو ورغلانے کے جملوں کو روکنے کے لیے 10 ہزار ویب سائٹ ماڈریٹر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جاسکے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوٹیوب پر متنازعہ، شدت پسندی اور تشدد والی ویڈیوز کو ہٹانے کی ٹیکنالوجی وضع کرلی گئی ہے، کمپیوٹرلرننگ ٹیکنالوجی ایسی ویڈیوز کی نشاندہی کرتی ہیں جو بچوں کے لیے مضر ہوں یا پھر کسی قسم کی نفرت اور عداوت پھیلارہی ہوں۔یوٹیوب سے جو ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں ان کی 98 فیصد تعداد کمپیوٹر لرننگ الگورتھم نے فلیگ کی تھی۔ ان میں سے نصف اپ لوڈ ہونے کے دو گھنٹے بعد ہی ہٹادی گئیں جب کہ بقیہ 70 فیصد اپ لوڈ ہونے کے 8 گھنٹوں میں ہٹائی گئیں، ان میں دہشت گردی اور بم بنانے والی ویڈیوز سرِ فہرست ہیں۔یوٹیوب کی رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ پر کم سے کم ایک لاکھ ایسے افراد کے اکاؤنٹس موجود ہیں جو کسی نہ کسی طرح بچوں کو جنسی طور پر بے راہ روی کے شکار بنارہے ہیں اور ان کی نشاندہی ان کے کمنٹس سے ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *