والدین کے ہاتھوں معصوم بچوں کاقتل تحریر : سردارعبدالخالق سکھانی

ایک شقی القلب باپ کے ہاتھوں نابیناگونگی بیٹی کے نہرمیں پھینکے جانے والے واقعہ نے ہم جیسے نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کاضمیرجھنجھوڑکر یہ پیغام دیاہے کہ تقدیرکی حقیقت کوتسلیم کئے بغیرانسانی تدابیرپرمکمل انحصارکرنے والاشخص کبھی بھی اپنی مرادپانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔بلکہ دنیاوآخرت کی خوشی اورکامیابی سے بھرپورفائدہ اٹھانے سے پہلے ضروری ہے کہ انسان اپنی تراشی ہوئی تدابیراختیارکرنے کے ساتھ دل وجاں سے تقدیرکی سچائی پربھی ایمان رکھے۔اورتقدیرکی سچائی سے ہمیں یہی سبق ملتاہے کہ بعض اوقات جن چیزوں کوہم اپنے لئے منحوس یافضول سمجھتے ہیں۔حقیقت میں انہی چیزوں کے طفیل ہمارے رزق اورعزت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ان چیزوں کو اپنانے کی وجہ سے ہمارے مقدرکاستارہ جگمگانے لگتاہے۔یہاں تک کہ جب کوئی انسان اپنے گھرکے اندراورباہر کمزورمخلوق پررحم کھاکران سے صلہ رحمی کامعاملہ کرے تواسے عرشِ الٰہی سے کامیابی ا ورمغفرت کی بشارت دی جاتی ہے۔ خدانخواستہ کوئی شخص اگرکسی عارضی آزمائش کومستقل مصیبت سمجھ کرناشکری کرے اور اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرے توپھرایسے بدنصیب شخص کے مقدرمیں بے سکونی کافیصلہ لکھ دیاجاتاہے۔مثال کے طورپراگر گھرمیں کسی معذوریاضعیف العمرشخص کی موجودگی کورضائے الٰہی سمجھ کران کی مثالی خدمت کوسعادت کے طورپر سرانجام دیاجائے توپھرخزانہِ غیب سے ہمیشہ ایسے شخص کی دستگیری ہوتی رہتی ہے۔ ویسے بھی اللہ تعالیٰ کی صفت رزّاقیت پرجب یقین کامل ہوجائے توانسان کبھی بھی وقتی فاقہ کشی کے خوف سے پریشان نہیں ہوتا۔بلکہ وہ زندگی کے ہرلمحے میں پورے ایمان ویقین کے ساتھ اس نظریے پرکاربندرہتاہے کہ مالکِ کائنات نے آج تک ہواکے دوش پراڑتے پرندوں اورزمین پہ رینگتے کیڑوں کوکبھی بے سہارانہیں چھوڑاتو وہ انسان تک اس کے نصیب کوبھی پہنچانے میں کسی صورت تاخیرنہیں کرے گا۔

خودکلامِ الٰہی تمام مخلوقات کوبراہِ راست مخاطب کرکے اس حقیقت کوبخوبی واضح کر چکاہے کہ کسی معصوم جان کوبھوک افلاس کے خوف سے ہرگزقتل نہ کرو۔کیونکہ جوذات تمہیں رزق کے وسائل تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتی ہے توتمہاری گودمیں پلنے والی معصوم نسل کی کفالت کو بھی بطریقِ اولیٰ سرانجام دینے کااختیار رکھتی ہے۔بالخصوص زمانہ جاہلیت میں غربت اورخودساختہ مردانہ غیرت کے باعث کچھ خاندان اپنے آنگن میں کھلنے والے رحمتوں کے پھول مسل ڈالنے پرفخرمحسوس کرتے تھے۔رحمتِ دوعالمؐ نے ایسی گھٹیاسوچ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے ایک تاریخی جملہ ارشادفرمایاجوآدمی اپنے ہاں بچیوں کی پیدائش کو منحوس نہ سمجھے اورخوشدلی کے ساتھ ان کی اچھی تربیت کرے تووہ خوش نصیب شخص جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ہاں اگرکوئی شخص ظاہری راحت پسندی سے متأثرہوکرایسے لوگوں کی خدمت سے اعراض کرے یاپھردرندگی کی مثال بن کرضعیفوں اور معذوروں کوبڑی بے رحمی کے ساتھ جان سے ہی مار ڈالے توبالیقین کسی روزاس شخص کوضرور پچھتاوااٹھاناپڑے گا۔بالخصوص جب غربت وافلاس کے نام پراپنے ہی بچوں کوموت کے گھاٹ اتاردیا جائے توپھرزندگی وآخرت کالمحہ لمحہ کرب ناک ہوجاتاہے۔کیونکہ مجرم طبقہ کی اجڑی ہوئی زندگی سے یہی سبق ملتا ہے کہ دوسروں سے زندگی کاحق چھیننے والاکبھی بھی خلوت میں عیش آرامی کی زندگی بسرنہیں کرسکتا۔اوراپنی من چاہی زندگی کالطف اٹھانے والاشخص قانونِ قدرت سے بغاوت کرکے تادیر سلامت نہیں رہ سکتا۔اس لئے کہ کسی کاجسمانی طورپرمعذور یا ضعیف ہوناذاتی فعل نہیں بلکہ خالصتاًحکمِ الٰہی کے عین مطابق ہوتاہے۔بالفرض اگر نظامِ قدرت کو انسانی خواہشات کے تابع کردیاجائے توہرانسان اپنی زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے دوسرے انسان کے بنیادی حقوق اداکرنے کوبالکل ترک کردے گا۔جس کے نتیجہ میں انسانی مزاج رحمدلی اور شفقت جیسی عظیم صفت سے محروم ہوکر معاشرتی فسادات کوتقویت بخشے گا۔ہرشخص اپنے پیٹ کی حرص وہوس بجھانے کے لئے دوسرے لوگوں کے حقوق ضبط کرنے کی کوشش کرے گا۔ حتیٰ کہ عارضی زندگی میں راحت پسندی کوطلب کرنے کی فکرمیں اپنے زیرِسایہ پلنے والے معذورافرادکوبھی دھتکارنے سے اجتناب نہیں کرے گا۔آج بحیثیت مسلم ہماری اندرونی حالت ایمان کی کمزورترین سطح کوچھورہی ہے۔جس کی وجہ سے بچوں کوقتل کرنے کابدترین جرم مستقل ناسورکی صورت بن کر ہمارے معاشرہ کوبے رحمی وخودغرضی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ نہ جانے کیوں ہماری عقل وفکر پرپردہ پڑچکا ہے کہ ہم لوگ خودکو مسلمان کہلانے کے باوجوداپنی بچیوں کو محض اس لئے نہرمیں زندہ پھینک دیتے ہیں کہ ایسی نابینااورگونگی بچی علیزہ کوکون سنبھالے گا۔کہیں غربت وافلاس کے نام پراپنی معصوم اولادکوذبح کرکے حالات کوبہتربنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ایسے دلخراش واقعات کی کثرت نے ہمارے معاشرے کوبے صبری وناشکری اورذات برحق پہ عدمِ یقینی کے بہت قریب کردیاہے۔خدارا!ایسے انسانیت سوزواقعات کے ارتکاب سے وقوعِ قیامت کو دعوت نہ دی جائے۔ اورکسی وقتی پریشانی کی خاطر اپنی معصوم اولادکوزندگی کے حق سے ہرگزمحروم نہ کیاجائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *