لمحہ فکریہ تحریر : ظفر اقبال ظفر

بیوہ عورت غربت کی شکار بے بسی کے ہاتھوں مجبور ہوکراپنے بچے کے دودھ وخوراک کے لیے جسم فروشی کے رستے پر چل نکلی تو اللہ اس سے حساب لینے سے پہلے اُن اہل علاقہ کا حساب لے گا جنہوں نے لاکھوں روپے اپنے مکانوں کی زینت پہ لگا دئیے مگر کسی محروم کی عصمت کے پردے پر پرواہ نہ کی تو ان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ان کی غیرت قیمتی چادر تلے اپنی پاکدامنی کا سودا خواہشات کی زد میں خود اپنے ہاتھوں سے کر بیٹھتی ہیں اللہ کریم نے اس دنیا کو اپنی ہر نعمت سے بے شمار نواز دیا ہے۔آج انسانیت خوار ہو رہی ہے تو انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کو نعمتوں کی تقسیم میں بددیانتی کی وجہ سے۔لوگ غریب رہ جاتے ہیں تو اس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو ان کا حق مار کر شاندار زندگی کے لیے بے ایمانی کرتے ہیں۔اسلام کی حفاظت کا زمہ اللہ کریم نے خود لیا ہوا ہے مگر اس پر عمل کرکے اپنی آخرت کی کامیابی کا زمہ انسان کے اپنے زمے ہے جس سے غافل رہ کر وہ اپنے لیے دنیا و آخرت کی دشواریوں کی طرف جا رہا ہے کئی مولوی حضرات سے سنا ہے کہ نماز دنیا میں سکون پانے کا بہترین زریعہ ہے مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتااس کی وجہ یہ ہے کہ نمازی آدمی نماز کی فضیلت سے اپنے اندر کے اندھیروں کو روشنی میں بدلتا ہے تو اُسے نظر آنا شروع ہوتا جاتا ہے کہ ظلم ہو رہا ہے جھوٹ سرعام چل رہا ہے ملاوٹ ہر چیز کا حصہ ہے مظلوم بے انصافی کا شکار ہے غریب روٹی اور دوا کا محتاج ہے غریب کی اعلیٰ کردار بیٹی کو نظر انداز کرکے امیر کی بگڑی لڑکی کو اپنی عزت بنانے کی خواہش سے شرمسار نہیں ہوا جاتا دولت کا کردار پر پڑا پردہ کوئی اٹھانا نہیں چاہتا بلکہ خواہشات کی غلامی میں ایک ہی سوچ زہن میں رقص کرتی ہے کہ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔قانون طاقت اور پیسہ دیکھ کر سچائی اور حق کا منظر ہی بدل دیتا ہے۔ڈاکڑاپنی فیسوں کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے مریض کو من چاہا مریض بنائے رکھتا ہے۔

لوگ مسجدوں مدرسوں پر پیسہ خرچ کرتے وقت مسلمان کی حالت پہ غور نہیں کرتے ان گنت اس طرح کی حقیقتوں کو دیکھنے والا نمازی کیسے سکون پاتا ہے نماز تو اسے اور بھی بے چین کرتی ہے تڑپاتی ہے ناجانے بڑی بڑی گاڑیوں اور امیروں کی سہلوتوں کو پانے والا پانچ وقت کا نمازی اور مولوی کیسے سکون کے دعوے کرتا ہے نماز دینا نہیں صرف آخرت کا سکون ہے نگاہیں ترس گئی ہیں عبادات کی تبلیغ کرنے والے کو حقوق العباد میں اپنا آپ لُٹا کر فقر کی حالت اپنانے والے کو دیکھنے کے لیے۔زندگی اجرن ہوگئی ہے پتھر کے زمانے میں نرم دل رکھنے کے لمہات گزارتے گزارتے میرے مسلمان اور وطن کو دیکھ کر نا جانے کتنی بار میرے ضمیر نے مجھے سمجھایاکہ مسلمان کے ایمان کو بچانا ہے تو اسلام فروش مولوی سے اور پاکستان کوبچانا ہے تو کرپٹ سیاستدانوں سے چھٹکارا پانا ہو گازلتوں سے نکلنے کا یہی راستہ ہے اسلام کو مولوی سے آزاد کروا کر خود ہر مسلمان کو سچا اسلام عملی طور پر اپنانا ہوگااور وطن کا قبضہ سیاستدانوں سے چھڑوا کرخود عوام کو اس کی حفاظت اور ترقی کا زمہ لینا ہوگا۔مگر یہاں اپنی زات کی آسانیوں سے نکل کر سوچنے کوبہت کم لوگ ترجع دیتے ہیں اور اگر کوئی خود غرضی سے باہر نکل کر بے لوث کچھ کرنا چاہتا ہے تومفاد پرست اسے نشان عبرت بنا دیتے ہیں کہ چاہ کر بھی کوئی کرنا نہیں چاہتاعجیب دور ہے نیکی کے نقصانات دیتا ہے پھر بھی سلام ہے اُن گنے چنے لوگوں کو جنہوں نے اس کانٹے دار رستے کو چناشاید یہ اللہ کے چُنے ہوئے لوگ ہیں جو اپنے جسم کے ساتھ ساتھ رُوح تک چھنی کروا کر بھی اپنے مقصد کی راہ کا رُخ نہیں بدلتے شاید ایسے فقیروں کی بدولت اللہ کریم ہم پر مشترکہ عذاب نازل نہیں کرتااور توبہ کے رستے بند نہیں کرتااللہ کریم اپنے تخت پر بیٹھا آسمان سے زمین کے حالات دیکھ رہا ہے وہ جانتا ہے حق کی راہ کا مسافر کون کون ہے اور دنیا کے حکمرانوں کے کردار کو نظر انداز کر کے ہجوم میں کون کون ہے وہ چاہے تو اک لمہے میں انصاف کردے مگر شاید انسانوں کو انسانوں کے رحم رکرم پر چھوڑکر انسانیت کواپنے اشرف المخلوقات ہونے کے احساس وعمل کا نظارہ کرنا چاہتا ہے دشوارحالات کے زمانے میں اپنی رضا میں کامیابی پانے والوں پر فخر کرتا ہے کوشش کرنے والے پر خوش ہوتا ہے اور نیت کرنے والے کو بھی بے آسرا نہیں چھوڑتاجس طرح مسجد میں نمازیوں اور حج کرنے والے گنہگاروں میں سے کسی ایک کے رونے کی وجہ سے سب کی عبادت قبول کر لیتا ہے اسی طرح وہ اپنی زمین پر رہنے والوں کے عمل سے پہلے دل میں جھانک کرنیت کو دیکھ لینے پر اپنی رحمت کا نزول سب پر کر رکھتاہے میرے قلم پر آج اللہ کا کرم ہوا کہ اُس نے مجھ سے یہ لکھوایا اور جس لکھنے کو اللہ قبول کرئے وہ لفظ دلوں پر اثر کرکے ہدایت اور نیکی کا زریعہ بن جاتے ہیں وہ لکھنا بھی کوئی لکھنا ہے جسے پڑھنے والے کی سوچ پر کوئی سوچ اثر نا کرئے کہ اللہ کا مطالبہ ہمیں وہ سوچ رکھنے کا پیغام دے رہا ہے جس سے اللہ اپنے انسانوں سے انسانوں کا بھلا کروا کر اپنی رحمت کے نظارے دیکھنا چاہتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *