اے ٹی ایم کا استعمال آپ کو کنگال بھی کر سکتا ہے

ملک میں الیکٹرانک ادائیگیوں کا رجحان بڑھنے کے ساتھ پلاسٹک منی (کارڈز) کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ اب زیادہ تر صارفین پیٹرول پمپس، ریسٹورانٹس، شاپنگ سینٹرز میں پوائنٹ آف سیلز مشینوں کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے پوائنٹ آف سیلز مشینوں کے ذریعے کارڈز کے ذریعے ادائیگی کے وقت صارفین کی خفیہ معلومات باآسانی چرائی جاسکتی ہیں۔ ملک بھر میں اے ٹی ایم مشینوں کی تعداد 12 ہزار جبکہ POS مشینوں کی تعداد 53 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

پاکستان کے بڑے اسلامی بینک کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ اے ٹی ایم کے مقابلے میں پوائنٹ آف سیلز مشینوں کے ذریعے اکاؤنٹ کی خفیہ معلومات کارڈز کے کوڈز چرانا زیادہ آسان ہے،اس مقصد کے لیے ہیکرز جعلی ڈیوائس ساتھ رکھتے ہیں۔ اکثر صارفین مشینوں سے کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے وقت کارڈ کیشیئر کو دے کر بے فکر ہوجاتے ہیں لیکن اسی وقت چند ہی سیکنڈز میں کارڈ کا تمام ڈیٹا اور کوڈز جعلی ڈیوائس پر پھیر کر چرائے جاسکتے ہیں جو بعد میں اکاؤنٹ سے رقوم نکلوانے کے لیے کام آتے ہیں۔جبکہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں پوائنٹ آف سیلز مشینوں سے ماہانہ17ارب روپے کی ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔ دنیا بھر میں لگنے والی بلیک فرائیڈے اور سائبر منڈے آن لائن سیل بینک صارفین کے کارڈز کا ڈیٹا چرانے اور آن لائن فراڈ کے سب سے بڑے مواقع ہیں۔

ماہرین کے مطابق آن لائن اکائونٹس اور انٹرنیٹ بینکنگ بھی ہیکرز کا آسان ہدف ہیں۔ کسی بھی پوائنٹ آف سیلز مشین پر ادائیگی کرتے وقت اپنی نظروں کے سامنے کارڈ سوئپ کروائیں کارڈ ادائیگی کے لیے ویٹر، سیلز مین یا منیجر کے حوالے نہ کریں کیونکہ اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ صارف کا کارڈ حقیقی مشین کے علاوہ ڈیٹا چوری کرنیو الی فرضی مشین پر بھی سوئپ نہ کرلیا جائے۔ ماہرین کا مزید یہ کہنا ہے کہ بینک صارفین اکاؤنٹس کی خفیہ معلومات اور پن کوڈز معلوم کرنے کے لیے ہیکرز کے حربوں سے ہوشیار رہیں۔ اے ٹی ایم، پوائنٹ آف سیلز مشینوں کے علاوہ بینک اور مالیاتی اداروں جیسی نظر آنے والی جعلی ویب سائٹس، جعلی فون کالز اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھی کارڈ کے کوائف اور کوڈ چوری کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *