مسلم اتحاد کیلئے ٹرمپ کی کوششیں تحریر : شہریار شوکت

امریکہ پاکستان سے کبھی بھی مخلص نہیں رہا،واشنگٹن کے اسلام آباد سے تعلقات صرف اپنے فائدے کیلئے رہے۔یہ بات بھی واضح ہے کہ صدر بش ہوں، کلنٹن،اوبامہ یا کوئی اور سب ہی نے مسلم دشمنی کی حدیں پار کیں۔حال ہی میں امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوئے،الیکشن سے قبل دنیا کی امن پسند سیاسی شخصیات نے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر دنیا میں امن وسلامتی کے لیے خطرہ کا اظہار کیا تھا۔ خیر تمام تر ملکی و بیرونی مخالفتوں کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات جیت ہی گئے۔ ٹرمپ کی جیت پر ا مریکہ میں جو مظاہرے اور احتجاج ہوئے وہ اس سے قبل وہاں دیکھنے میں نہیں آئے۔صدر ٹرمپ کو ابھی صدارتی عہدہ سبمھالے زیادہ مدت نہیں ہوئی۔لیکن ان کے دور حکومت میں امریکہ میں دہشت گردی کے جو واقعات دیکھنے میں آئے یہ بھی اس سے قبل نہیں دیکھے گئے۔ 20 جنوری 2017 کو ٹرمپ نے عہدہ سمبھالا اور متعدد ایسے فیصلے کیے ہیں جن کی وجہ سے امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی وہ تنقید کا نشانہ بنے۔
کچھ ہی دن پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں۔اس اعلان کے بعد امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ٹرمپ کے اعلان کے مطابق اب اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب نہیں بلکہ بیت المقدس شہر ہوگا جو آج بھی عالمی پیمانہ پر فلسطین کا ایک شہر ہے، جس پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں ہے۔آخر انبیاؑ کی پاک سرزمین ناپاک نام نہاد ملک کا حصہ کیسے ہوسکتی ہے؟1980ء میں نام نہاد ملک اسرائیل نے بیت المقدس شہر کو اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا۔اور اس اعلان کے بعد تمام سرکاری دفاتر،پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ اور وزیر اعظم وصدرکے گھر بیت المقدس میں منتقل کردئے تھے، لیکن اسرائیل کے اس ظالمانہ فیصلہ کے 37 سال گزرنے کے باوجود دنیا کے کسی بھی ملک نے آج تک بیت المقدس شہر کو اسرائیلی کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا ہے۔کیوں کہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔
فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔فلسطین کا مشہور شہر بیت القدس ہے۔ اسی مبارک شہر میں قبلہ اوّل واقع ہے جس کی طرف نبی اکرم ﷺاور صحابہ کرام نے تقریباً 16 یا 18 ماہ نمازیں ادا فرمائی ہیں۔ اس قبلہ اول کا قیام مسجد حرام (مکہ مکرمہ) کے چالیس سال بعد ہوا۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد سب سے بابرکت وفضیلت کی جگہ مسجد اقصیٰ ہے، مسجد اقصیٰ کی طرف ایک رات آپ ﷺکو مکہ مکرمہ سے لے جایا گیا اوروہاں آپﷺنے تمام انبیاء کی امامت فرماکر

نماز پڑھائی، پھر بعد میں اسی سرزمین سے آپ ﷺکو آسمانوں کے اوپر لے جایا گیا جہاں آپ ﷺکی اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری ہوئی۔ مسجد اقصیٰ سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کے اس سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس مبارک شہر (بیت المقدس) کو فتح کرکے وہاں اسلامی حکومتوں کا قیام عمل میں آیا۔ بیت المقدس کی فتح یابی کے 462سال بعد 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر عیسائیوں نے اس شہر پر قبضہ کرکے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کردیا تھا، اس واقعے کے تقریبا 88 سال بعد صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے القدس کو عیسائیوں کے قبضہ سے آزاد کرا لیا۔ اس شہر میں رہنے والوں کی بڑی تعداد ہمیشہ مسلمانوں پر ہی مشتمل رہی ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ کے زوال کے ساتھ ہی 1917ء میں اس شہر اور فلسطین کے دوسرے علاقوں پر برطانیہ نے قبضہ کرلیا تھا اورپھر آہستہ آہستہ دنیا کے کونے کونے سے یہودیوں کو آباد کرکے مسلمانوں کی اس سرزمین فلسطین پر 1948ء میں ایک ایسے ناجائز ملک کے قیام کا اعلان کردیا جو آج تک پورے خطہ کے امن وسکون کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ 1948ء سے 1967ء تک القدس شہر مسلمانوں کے ملک ”اردن“ کا ہی ایک حصہ رہا۔ 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد مغربی ممالک کی بھرپور مدد سے فلسطین کے دیگر علاقوں کے ساتھ القدس شہر پر بھی اسرائیل نے قبضہ کرلیا۔ اس طرح 1967ء میں وہ مقدس شہر بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا، جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے جو مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کے لئے مقدس ترین مقاموں می

ں سے ایک ہے۔بیت المقدس پر صرف مسلم امت کا ہی حق ہے۔ماضی میں جب جب اس پر کافروں کی ناپاک نگاہیں پڑیں تو اللہ نے نبی ﷺ کے غلاموں کو کبھی عمر فاروق ؓ تو کبھی صلاحالدین ایوبی کی صورت میں ان کی آنکھیں پھوڑنے کیلئے بھیجا۔المیہ یہ ہے کہ ملت اسلامیہ میں اب ایسے بیٹوں کا فقدان پیدا ہوگیا ہے۔کشمیر میں بہنوں کی لٹتی عزتیں دیکھ کر مسلم امت کے بیٹوں نے سوشل میڈیا پر بھارت کا خوب مقابلہ کیا،مگر کوئی عملی اقدام آج تک نہیں ہوسکا۔نہ ہی امت اس مسئلے پر اکھٹی ہوئی۔حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر حملہ کیا،لگتا تھا کہ قوم اس معاملے پر اکھٹی ہوجائے گی لیکن یہ بھی خام خیالی ہی تھی۔
افغانستان میں امریکہ نے تباہی مچائی ہزاروں مسلمان شہید کئے گئے لیکن امت مسلمہ ایک نہ ہوئی،اب ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دین اسلام پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلہ سے دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ عرب ممالک سمیت مسلم رہنماؤں اور بین الاقوامی برادری نے ٹرمپ کے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے کیونکہ ٹرمپ کے اس فیصلہ سے حالات خراب ہوں گے، خونریزی اور قتل وغارت گری میں اضافہ ہی ہوگا اور اس مذموم فیصلہ کی وجہ سے دنیا ایک ایسی جنگ کی طرف جاسکتی ہے، جس سے دنیا میں تباہی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

مسلم دنیا میں احتجاج جاری ہیں۔لیکن اب صرف احتجاجوں سے کچھ نہیں ہوگا۔مسلم دنیا کو اب ایک ہونا ہوگا،تمام مسلمان ریاستوں کو امریکہ سے سفارتی تعلقات ترک کرنا ہوں گے۔سعودی عرب بنائی گئی مسلم اتحادی فوج کو فعال کرنا ہوگا اور اسلام دشمنوں کے خلاف میدان میں آنا ہوگا۔ہمیں کشمیر،فلسطین،افغانستان شام،عراق سب ممالک کو مکمل آزادی دلانا ہوگی اگر یہ نہ کیا گیا تو شاید کل کو مدینہ اور مکہ پر بھی کسی کی نظر رک جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *