رسول اللہ ﷺ کی شانِ رحمت فکر و دانش تحریر: محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا سوائے تمام جہانوں کے لئے رحمت۔ قرآن کریم کی اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے محبوب ﷺ کی اس قدر عظمت کا ذکر کیا ہے جس کا اندازہ اور احاطہ انسانی عقل سے ماورا ہے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی ربوبیت کا اعلان فرمایا تو ارشاد فرمایا: الحمد للہ رب العالمین۔ تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو مالک تمام جہانوں کا۔
ان دونوں آیات میں دو مشترک الفاظ استعمال ہوئے ہیں؛ ایک تو العالمین کا صیغہ ہے جو عربی زبان میں جمع پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا لفظ (لام) ہے۔ جو سورۃ فاتحہ کی آیت میں (للہ) کے ساتھ ہے۔ یعنی (لِ) اور پھر اللہ اسم جلالت۔ اسی کو حالت وصل میں پڑھا تو اللہ اسم جلالت کا الف محذوف ہوا اور (للہِ ) ایک کلمہ ہو گیا۔ آیت رحمت میں یہ (لام) العالمین کے صیغہ کے ساتھ ہے۔
عربی گرائمر کا قاعدہ ہے کہ یہ لام (جو مندرجہ بالا آیات میں ہے) تملیک (ملکیت ثابت کرنے کے لئے) آتا ہے۔ یعنی الحمد للہ رب العالمین کی آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ تمام تعریفیں حقیقتاً اللہ تعالی کی ذات کے لئے ہی ہیں ، کسی اور کی کوئی تعریف نہیں، تعریف کا حقدار فقط رب تعالی ہے۔ اب جس کی بھی اللہ تعالی کے بعد تعریف بیان کی جاتی ہے (نعت شریف وغیرہ) تو وہ بھی حقیتاً اللہ تعالی کی اعلی ترین تخلیق کی تعریف ہے اور تخلیق کی تعریف بھی خالق ہی کی تعریف کے زمرہ میں آتی ہے۔ لام تملیک کے اسی اصول پر آیت رحمت کا مفہوم یہ بنے گا کہ اللہ تعالی نے پیارے آقا کریم ﷺ کو تمام کے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا دیا، اب کائنات کا کوئی ایسا جہان نہیں جو رسول اللہ ﷺ کی رحمت سے خالی ہو یا اسے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کی حاجت نہ ہو۔
آیات میں دوسرا مشترک لفظ العالمین کا صیغہ ہے۔ العالمین عربی گرائمر کے اعتبارسے جمع ہے۔ عربی میں جمع کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے اور زیادہ کی کوئی حدود و قیود نہیں۔ لہذا اب الحمد للہ رب العالمین کا مفہوم یہ بنے گا کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو رب ہے تمام کے تمام جہانوں کا۔ اب وہ جہان کتنے ہیں؟ کہاں کہاں ہیں؟ ان میں کیا کیا شمار ہے؟ اس کا اندازہ آج کی جدید سائنس میں لگانا بھی ناممکن ہے۔ لہذا فقط اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ تمام کی تمام کائنات اللہ تعالی کی تخلیق ہے اور ایک یا الگ الگ جہان کی صورت میں ہے اور اب جتنے بھی جہان ہیں، ان سب کا مالک و رب فقط اللہ تعالی ہی ہے۔ اس جگہ پر قرآن کریم کا بیان کردہ وہ نظریہ جسے جدید دور کی سائنس مکمل طور پر تسلیم کر چکی ہے مدنظر رہے، جو Expanding Universe کا نظریہ ہے۔ (سائنسی بحث سے اختصار کرتے ہوئے) اس نظریے کا مطلب ہے کہ کائنات ہر لمحہ پھیل رہی ہے۔ جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا: و السماء بنیناھا باید و انا لموسعون۔ (الذاریات: 47)۔ اور ہم نے آسمان کو طاقت سے بنایا ہے ارو بلاشبہ ہم (کائنات کو) پھیلاتے جا رہے ہیں۔ اب اس قرآنی و سائنسی نظریے کے مطابق کائنات ہر لمحہ پھیل رہی ہے اور نئے بننے والے جہانوں، کائنات میں ہونے والے اضافوں اور وسعتوں کا مالک و رب فقط اللہ تعالی ہی ہے۔

اب مندرجہ بالا اصولوں کو مدنظر رکھ کر آیت رحمت پر غور فرمائیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے (وہ تمام جہان جو الحمدللہ رب العالمین میں بیان ہوئے اور لمحہ بہ لمحہ پھیل رہے ہیں) ان تمام مخلوقات، کائنات، جہانوں اور جہانوں کی نئی ہونے والی وسعتوں، نئے بننے والے جہانوں کو پیارے آقا کریم ﷺ کی رحمت کا محتاج بنا دیا ہے۔ اب رسول اللہ ﷺ کی رحمت ، العالمین کے لئے ہے اور العالمین لمحہ بہ لمحہ پھیلتے جا رہے ہیں تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالی نے پیارے آقا کریم ﷺ کو اس قدر عظیم شانِ رحمت عطا کی ہے کہ کائنات کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ رحمتِ محمدی ﷺ بھی پھیلتی جا رہی ہے۔ اسی شان کو قرآن کریم کبھی و للآخرۃ خیرلک من الاولی ۔ (اے محبوب آپ کی ہر آنے والی گھڑی، گذری ہوئی گھڑی سے بہتر ہے) اور کبھی و رفعنا لک ذکرک ( اے محبوب ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا) فرماتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی ربوبیت کا اعلان بھی العالمین کے صیغہ کے ساتھ فرمایا اور محبوب کی رحمت کا اعلان بھی العالمین کے صیغہ کے ساتھ ہی فرمایا۔ اسی طرح اللہ تعالی اپنے لئے ارشاد فرماتا ہے کہ نحن اقرب الیہ من حبل الورید (ہم اس کی (یعنی انسان کی) شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں)۔ اور اپنے محبوب ﷺ کے لئے ارشاد فرمایا: النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم (نبی مومنین کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں)۔ یہ ہی رسول اللہ ﷺ کی شان رحمت ہے جو ایک مومن کی جان سے بھی زیادہ قریب ہیں اور دوسری طرف قیامت تک پھیلنے والی کائنات اور قیامت کے بعد کے جہان کے لئے بھی باذن و عطائے رب تعالی، رحمت ہیں۔

قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کے طور پر دو احادیث پیش ہیں۔ امام حاکم نے المستدرک میں روایت نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یا ایھا الناس انما انا رحمۃ مھداۃ ۔ اے لوگو بے شک مجھے رحمت بطور ہدیہ (تحفہ، انعام، اکرام) کے دی گئی۔ یعنی پیارے آقا ﷺ کا یہ مقام کسی ریاضت، عبادت، محنت کا اجر نہیں بلکہ یہ اللہ کریم کا اپنے رسول کریم ﷺ کے لئے خاص تحفہ و انعام ہے۔ پھر آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ما من مؤمن الا و انا اولی الناس بہ فی الدنیا و لآخرۃ ۔ مومنوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے سوائے اس کے کہ میں دنیا و آخرت میں لوگوں (ان مومنوں) کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں۔
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ کریم امت مسلمہ پر آقا کریم ﷺ کی رحمت کا سایہ عطا فرمائے۔ امت مسلمہ کو اتحاد عطا فرمائے۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی معرفت و اطاعت نصیب فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *