غزل (خالد راہی)

تمھارے قلم سے نکل کر نکھر جائینگے
پتیوں سے ہم قرطاس پر بکھر جائینگے​

سیاہی درد و علم کا نچوڑ ہے تمھاری
لوگ پہچان ہی لینگے لفظ جدھر جائینگے

تیز ہوائوں کی نظر ہوگئے نقش پا تمھارے
یہ قافلے سارے کے سارے ٹھر جائینگے

گردش حالات کی گرد میں اٹی ہے زندگی
یہ سہل آراستہ لوگ، تمھیں پڑھینگے تو مر جائینگے

​تم میں رہتے ہیں سفر اور مسافر ساتھ
راہی تم گزر گئے تو دونوں بچھڑ جائینگے​

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *