جرمنی میں بینک کلرک نے ایسا کام کر کے سب کو حیران کر دیا

جرمنی کے ایک ٹرک ڈرائیور نے آج سے 30 سال پہلے اپنے خاندان کےلیے پیسے بچانے کا منصوبہ بنایا اور اس کےلیے اس نے روزانہ کی بنیاد پر ایک فینک سنبھالنا شروع کیا اور مرتے وقت وہ 1.2 ملین یعنی 12 لاکھ سکے محفوظ کرچکا تھا جو رواں سال اس کے خاندان کو وراثت میں ملے۔وارثت میں اتنی بڑی رقم ملنے کے بعد انہیں دو مشکلات پیش آئیں. ایک تو یہ کہ اتنی بڑی رقم کو کیسے گنتی کیا جائے اور دوسری یہ کہ کرنسی 1990ء میں بند کردی گئی تھی اور اب اس کی جگہ یورو نے لے لی ہے.

مگر خوش قسمتی سے جرمنی کے سینٹرل بینک نے دونوں مسائل کا حل نکال لیا، کیونکہ بینک اب بھی شہریوں کو پرانی کرنسی کے بدلے نئی کرنسی مہیا کرتا ہے جب کہ دوسرے مسئلے کے حل کےلیے اسی بینک کے ایک کلرک کو 6 ماہ کی قربانی دینا پڑی۔اس کے بعد 2.5 ٹن کے وزنی سکوں کو وین کے ذریعے جرمنی کے سینٹرل بینک منتقل کیا گیا، جہاں بینک کلرک کو سکے گننے کا مشکل ہدف دیا گیا۔بینک کلرک کا کہنا تھا کہ اس نے ایک ایک سکے کو الگ کرکے گنتی کیا اور اسے اس کام میں اس لیے مشکل پیش نہیں آئی کیوںکہ وہ اس سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ بڑی تعداد میں ان سکوں کے عوض خاندان کو 8 ہزار یورو کی غیرمعمولی رقم ملی جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 10 لاکھ 37 ہزار روپے بنتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *