(خوبصورت اور منفرد لب ولہجے کے شاعر نوید ملک کاانٹرویو ۔۔۔۔ عروسہ جیلانی


زمیں نے کھینچ لیا ، آسماں پہ جاتے ہوئے
میں گر پڑاہوں کہاں، سیڑھیاں بناتے ہوئے
شعراء کے ہجوم میں جب کو ئی اچھا شاعر اور اچھی شاعری کی بہتا ت میں جب کوئی چونکا دینے والی غزل سامنے آ جائے تو کم ازکم مجھ جیسے شاعری پسند لوگوں کی خوشی تو دیدنی ہو جاتی ہے۔ گزشتہ روز مجھے اسلام آباد کے معروف شاعر نوید ملک کی کچھ شاعری پڑھنے کا اتفاق ہوا اور میں اس حسین اتفاق کی لے نے مجھے شعری مجموعے (کامنی ،اک سفر اندھرے میں ) پڑھنے پرمجبور کیا۔
وہ ہم نہیں کہ جو رخ موڑکر چمکتے ہیں
ہم اپنے آپ کو بھی توڑ کر چمکتے ہیں
نوید ملک کی شاعری میں اصل بات یہی ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں انفرادیت پیدا کرنے کے لیے کوئی بے دھنگ راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ صاف وشفاف اور ہر عیب سے پاک شاعری کہی ،جو اپنے اندر موسیقیت کا رچاؤ لیے ہوئے ہے۔ خوبصورت لب و لہجہ،تشبیہ و استعاراتی ندرت،فکری بالیدگی،مضامین کی تازگی ،جذبات کی روانی ،احساسات کی فراوانی اور اثر پذیری نوید مالک کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔نوید ملک کی شاعری کے مضامین مذہبی و تہذیبی ،ادبی ،روشن خیالی ،انسان دوستی،معاشرتی پس منظر اور ترقی پسندی کی فضا سے ترتیب پاتے ہیں ،ساتھ ہی ساتھ ان کی شاعری میں رومانیت کاایک جہان پایاجاتا ہے
یہ ملک ہے چڑیا گھر،ہے امن کا فقدان اب
اک مور ہے اب آیا، موروں کے شکنجے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
مٹی تنکے چھت ہوتی اورلکڑی کے بالے ہوتے تھے
لیکن پھر بھی سب لوگوں کے دل دریا والے ہوتے تھے

ہر گزرتے پل سے شاعری کشید کرنے کا ہنر مجھے نوید ملک کے اشعار میں سر اٹھاتامحسوس ہوا ہے۔انکی شاعری زندگی کے تجربات و مشاہدات کے آسمان پر ابھرنے والی ایک ایسی کرن ہے جس میں زندگی کے ساتوں رنگ سانس لے رہے ہیں ۔ان رنگوں کی ترتیب الفاظ کو پرشکوہ، با معنی اور مقام اعتبار پر فائض کرتی ہے اور اس اعتبار کی گرہ میں بندھے خیالات کے سکوں کی کھنک قاری کے دل کی دھڑکن کو ایک لے ایک سر کا رچاؤ عطا کرتی ہے

حرفوں کے سب پرندے ، اترتے ہیں منفرد
مجھ پر خدا کے فضل سے ہے آسما ں الگ

نوید ملک کے لہجے کی تاز ہ کاری سبز دنوں کی ایسی خوشبو سے عبارت ہے جس کے ادراک کی جڑیں اس زمین کے اندر بہت دور تک اتر چکی ہیں ۔
نوید ملک کا آبائی گاوں آزاد کشمیر ہے 1982 میں گلگت میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ایم اے ایجوکیشن ہیں اور اور ایک فورم میں بطور معاون لکھاری کام کر رہے ہیں۔کئی ادبی تنظمیوں کے مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور گزشتہ کئی برسوں سے بین الاقومی ادبی تنظیم سخنور کے صدر ہیں۔اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔انکی شاعری نے مجھے انکی شخصیت سے مزید متعارف ہونے پر قائل کیا ۔آئیے ان سے چند سوالات کرتے ہیں۔
سوال:شاعری کس عمر سے شروع کی؟
جواب: ابتدائی دور میں شاعری کا بالکل شوق نہیں تھا اور نہ ہی اس طرف دھیان گیا۔فرسٹ ائر کے دوران موسمِ بہار کے کچھ لمحوں نے ایک غزل چلتے چلتے مجھے عنایت کی۔مگر مجھے نہیں پتہ چلا کہ میں شاعر ہوں۔ایک دو کاپیاں جب غزلوں سے بھر گئیں تب احساس ہوا کہ مجھے سنجیدگی سے اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
سوال: کیا شاعری میں آپ کے کوئی استاد ہیں؟
جواب: خوش قسمتی سمجھ لیں یا بد قسمتی ۔میرا کوئی استاد نہیں
سوال: برِ صغیر پاک و ہند کی تقسیم سے قبل اور بعد از تقسیم شاعری میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
جواب: میرے سابقہ دفتر میں ایک کلرک تھا جو سر جھکائے کسی سے بات کیے بغیر سارا دن کاغذوں پر لکیریں کھینچا کرتا تھا۔اس کے لیے میں کہتا تھا کہ وہ پیدائشی کلرک ہے۔اس کے اندر کچھ منفرد کرنے کا جذبہ نہیں تھا۔بہت سے شعرا اُسی کلرک کی طرح زندگی گزار دیتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی زمانے سے کیوں نہ ہو۔آزادی سے پہلے بھی غزل کی روایت کو قائم رکھنے والے لب و رخسار کی باتیں کرتے تھے اور کچھ شعرا نے اقتصادی، معاشی اور سماجی تبدیلیوں اور نتائج کے زیرِ اثر انقلابی شاعری کی ۔آزادی سے قبل انگریزوں کے قائم کیے ہوئے معاشی و سماجی ڈھانچے میں قیداور حبس کے خلاف ابھار نظر آتا ہے اور آزادی کے بعد آمریت، جنس، تہذیب، مذہب جیسے موضوعات ملتے ہیں۔
سوال: آپ کے پسندیدہ شعرا کون کون سے ہیں؟
جواب: میں تمام شاعروں کو پسند کرتا ہوں۔اچھی چیز ہر شاعر کے پاس موجود ہوتی ہے۔
سو ال: ادب کے فروغ میں سوشل میڈیا کا کیا کردار ہے؟
جواب: سوشل میڈیا سے ادب نے بہت ترقی کی۔جب تک سوشل میڈیا متحرک نہیں تھا۔چند لکھنے والے ایک حلقہ بنا لیتے ۔ایک دوسروں کو سنتے ، پذیرائی کرتے اور سمجھتے کہ شاید وہی لکھنے والے ہیں۔سوشل میڈیا نے ہر گاوں، علاقے، شہر اور ملک کے تخلیق کاروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کر دیا ہے۔کون کتنا بہتر ہے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ایک مقابلے کی فضا بھی قائم ہوئی ہے جس سے شعر یت میں نکھار پیدا ہوا ہے۔
ْسوال: کیا ہمارے بزرگ شعراء نوجوانوں کی درست رہنمائی کر رہے ہیں
جواب: اس ترقی یافتہ دور میں ابھی تک جو نوجوان رہنمائی کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔کیا چیز نہیں آپ کے پاس۔ایک کلک پر ہزاروں مقالے سامنے آ جاتے ہیں۔مصور جب دوسروں سے رہنمائی لے گا تو ویسا مجسمہ یا تصویر نہیں بنا پائے گا جیسا وہ خود چاہتا ہے۔مجھے ایک سئنیر شاعر کے بات یاد ہے جو انھوں نے کی ۔سچی بھی ہے اور اچھی بھی
(تخلیق کے میدان میں کوئی جونئیر یا سینیر نہیں ہوتا۔سب برابر ہوتے ہیں ۔یہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جو دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔کچھ چھوٹے بزرگوں سے بہتر اور کچھ بزرگ چھوٹوں سے بہتر ہوتے ہیں)
سوال: جدید اور روایتی شاعری میں کیا فرق ہے
جواب: جب شاعری نے رومانوی شاعری کے علاوہ بھی مختلف موضوعات کو اپنے دامن میں جگہ دی ،جدید شاعری وجود میں آئی۔روایتی شاعری میں ملے جلے تاثرات زیادہ دکھائی دیتے ہیں جبکہ جدید شاعری میں نئے موضوعات کی وجہ سے تازگی نظر آتی ہے
سوال:نوجوان شعرا اور شاعرات کو کیا پیغام دینا چاہیں گے
جواب: ہمیشہ اچھا سوچیں، اچھا لکھیں۔ایسے لوگوں کی باتوں پر بالکل عمل پیرا نہ ہوں جو ناکامی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے عمل و کردار کے نتائج کا بوجھ دوسروں کے کاندھوں پرڈالنا چاہتے ہیں۔
سوال: آج اہلِ قلم کس حد تک قلم کے تقاضوں سے مخلص ہیں
جواب: مادی ترقی نے روحانیت کو مجروح کر دیا ہے۔بہت کم لوگ ہیں جو قلم اور علم کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں
سوال:آ پ کی غزلوں کی کتاب (اک سفر اندھیرے میں) اور نظموں کی کتاب (کامنی) منظرِ عام پر آئی۔کس صنف سے زیادہ محبت ہے
جواب: دونوں اصناف سے ۔
سوال: کوئی شعر جو قارئین کے نام کرنا چاہتے ہیں
جواب:
محبت کرنے والوں پر ہی پنہاں عکس کھُلتے ہیں
میں تیرے دکھ سمجھتا ہوں، خسارا دیکھ سکتا ہوں
غزل ۔۔نوید ملک
ہر سمت التجائیں بہت بے سکوں ہوں ماں
دیتی رہو دعائیں بہت بے سکوں ہوں ماں
بے ربط دستکوں نے جکڑ لی ہیں دھڑکنیں
گردش میں ہیں فضائیں بہت بے سکوں ہوں ماں
بے چہرہ زست پا ئی ہے اک آئنے کے ساتھ
دنیا کو کیا بتائیں بہت بے سکوں ہوں ماں
پنچھی جھلس رہے ہیں درختوں کی اوٹ میں
جلتی ہیں کیوں ہوائیں بہت بے سکوں ہوں ماں
جگنو ہے تیرگی میں نہ کوئی چراغ ہے
سنتا ہوں شائیں شا ئیں بہت بے سکوں ہوں ماں
جھڑ جائیں اب نوید یہ وحشت کی ساعتیں
کیوں جم گئی خزائیں بہت بے سکو ں ہو ں ماں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *