بے ؔ نظیرکی نذر

( ان کی برسی کے موقع پر کہی گئی ۔)
پروفیسر حکیم محمد شفیق کھوکھر۔
وہ دختر وطن تھی ، وہ بے نظیر تھی آمر کی موت لائے جو ایسا وہ تیر تھی

جمہوریت کے پودے کو سینچاہے خون سے منزل کا جو نشان دے ایسی لکیر تھی

ظالم کے آگے ڈھال تھی فولاد کی طرح مظلوم کے لئے وہ مثل حریر تھی

ہر سازشی کا روکتی تھی حکمت سے ا وچھا وار دانش سے کام کرتی تھی روشن ضمیر تھی

آصف نے اس کے علم کو رکھا ہے سر بلند اس کی رفیق زندگی،اوردلپذیرتھی

قمرو نوازواشرف و یوسف کے واسطے جو وجہ سکون و ظفر بنے ایسی وہ میرتھی

ہم سے جدا کیا اسے بے رحم موت نے جو آمریت کی تیرگی میں بدر منیر تھی

چن پیر ،کھوسہ اور اعتزاز کیلئے آمر کے دور جبر میں مثل بشیر تھی

نبھایا ہے ساتھ جو جہانگیربدر نے پیاری تھی اس کی بہن ،بلکہ پیر تھی

عقل و فہم سے کرتی تھی ہر ایک فیصلہ دانش کی سلطنت کی ایسی سفیر تھی

سب سوگوار اس کی شہادت پہ ہیں شفیقؔ وہ دخترو طن تھی ، وہ بے نظیر تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *