بھارت کی چتر چالاکیاں اور ہمارے اندرونی خلفشار تحریر: مسزجمشیدخاکوانی

بھارت جو ہمارے کبوتروں اور غباروں تک سے ڈرتا ہے خود کیا کرتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی دہشت گرد اور جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور بیوی کی ملاقات کرانے کا بندو بست کیا جب وہ دونوں دفتر خارجہ پہنچیں تو چنیتا یادیو کا جوتا معمول سے زیادہ بڑا اور وزنی محسوس ہواجس پر سیکورٹی حکام کو شک گذرا جوتے میں سٹیل کی چپ لگی ہوئی تھی جو کہ ’’میٹل ڈیٹیکٹر‘‘ سے کلیئر نہیں ہو رہی تھی جس پر اس کا جوتا اتروا کر لیبارٹری بھجوایا گیا ہے کلبھوشن کی بیوی کو متبادل جوتے فراہم کر دیئے گئے جوتوں کو لیباٹری اس لیے بھیجا گیا ہے کہ معلوم ہو سکے ان میں کوئی ’’ ریکارڈنگ ڈیوائس ‘‘ لگی ہوئی تھی یا کوئی خفیہ کیمرا نصب تھا یہ کوئی راز نہیں ہے کہ بھارت نے ’’انفارمیشن وار فیئر ‘‘ کے لیے سات ارب روپے مختص کیے ہیں جن سے پاکستان میں ٹیلی وژن،اخبارات ،میڈیا ،سوشل میڈیا

،فلمیں،ڈرامے ،کتابیں سب ہی استعمال ہو رہے ہیں سوشل میڈیا سے یاد آیا آج محترمہ مریم نواز صاحبہ نے سوشل میڈیا ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سوشل میڈیا ورکرز کو گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے لیکن اب ہم ڈٹ کر ان کا دفاع کریں گے یاد رہے یہی مریم نواز کچھ ماہ پہلے بیان دے چکی ہیں کہ میرا کوئی سوشل میڈیا ہے ہی نہیں لیکن آج انہوں نے اپنے والد سے ایک انوکھا مطالبہ کر دیا کہ اب اگر کوئی ان کے سوشل میڈیا ورکرز پہ ہاتھ ڈالے تو ان کے خلاف میاں نواز شریف سخت ایکشن لیں یہ مطالبہ اس لیے حیران کن لگا کہ مرکز اور اور صوبوں میں کے پی کے کے علاوہ انکی اپنی پارٹی کی حکومت ہے پھر وہ کس کے خلاف ایکشن لینے کا مطابہ کر رہی ہیں ؟اس وقت میاں صاحب بھی پیچھے نہ رہے انہوں نے فرمایا کہ آپ اتنی بڑی فورس بن جاؤ کہ مخالفین آپ سے خوف کھائیں کون مخالفین؟ ساری دنیا جانتی ہے وہ کس کے خلاف ’’زنجیر عدل‘‘ ہلانے جا رہے ہیں ایسے میں بھارت کا پیسہ ڈوبنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اس کنگال ملک کے بیروزگار نوجوانوں کو قیادت اور کمائی دونوں میسر آ رہے ہیں پراپیگنڈہ وار کی طاقت سے کسی کو انکار نہیں حال ہی میں بھارت نے ایک ایف ایم چینل بھی کھولا ہے بھارت اس میں بلوچی زبان میں پروگرام نشر کرے وہ پاکستان کے خلاف بلوچی بھائیوں کو کھڑا کرے گا یہ وار خاصا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بنگلہ دیش کی علیحدگی سے پہلے بھی یہی کیا گیا تھا اس کا اندازہ اس سے لگائیں آزاد کشمیر میں جب جنگ آزادی عروج پر تھی ان دنوں پاکستانی حکومت نے آزاد کشمیر میں ’’تراڑ‘‘ کے مقام پر ایک ’’گشتی ریڈیو اسٹیشن ‘‘ قائم کیا اس پر ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسے ماہر ادیب نشریات جاری کرتے تھے جتنی کامیابیاں اس چھوٹے سے ریڈیو اسٹیشن نے سمیٹیں پراپیگنڈہ کی دنیا میں شائد ہی کسی کو ملی ہوں اس پر ہندی زبان میں بھی پروگرام چلائے

جاتے تھے جس کی وجہ سے ہندو اپنی ہی سرکار کو گالیاں دیتے تھے کشمیری بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے جو بھارتی جانتے تھے وہ جی بھر کے اس چینل کو گالیاں دیتے کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت نے اس پر اندھا دھند بمباری لیکن یہ چونکہ جنگلات میں واقع تھا سو اس کا کچھ نہ بگڑا بلکہ بمباری کے بعد چینل سے اور زیادہ بھارت کا مذاق اڑایا جاتا اور بھارتی تلملاتے رہتے مگر اب زمانہ بدل چکا ہے ’’انفارمیشن وار فیئر‘‘ کے طور طریقے بدل چکے ہیں انفارمیشن وار فیئر اب اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ اگر ہر پاکستانی بھی بندوق اٹھا لے تو جنگ جیت نہیں سکتا ہاں سوشل میڈیا کی طاقت سے کسی کو انکار نہیں لیکن یہاں یہ مسلہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ بھارتی ثقافت سے بری طرح متاثر ہے کیونکہ ہمارے ٹی وی چینلز بھی فلموں اور ڈراموں کے زریعے بھارتی ثقافت کو ہی پروموٹ کرتے ہیں ہماری ثقافت دم توڑ رہ ہے سوشل میڈیا پر بھی صرف چار کروڑ بیس لاکھ پاکستانی ہیں جن میں سے کچھ حب اوطنی کے جوش میں رضاکارانہ طور پر بھارت کے پراپیگنڈے کا موثر جواب دے رہے ہیں پچھلے چھ سالوں سے ملک کی خاطر یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور اتنے احسن انداز سے کہ بھارتی وزیر خارجہ مسٹر راج ناتھ کو کہنا پڑا پاکستان اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کو نقصان پہنچانا بند کرے یہ بیان آج بھی نیٹ پر موجود ہے لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ کوئی ایک لاکھ کے قریب لوگ ایسے ہیں جو یہ جنگ لڑ رہے ہیں باقی کے پاکستانی سوشل میڈیا کو گفتگو،تصویروں یا سیاسی اور مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کے بیس کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں کاش ہم فرقہ وارانہ اور سیاسی لڑائیاں بند کر کے ایک بار پھر بھارت کو دھول چٹا دیں لیکن کیسے اس کے لیے تو ہمیں متحد ہونا پڑے گا جو ہمارے اندرونی دشمن نہیں چاہتے اس اندرونی خلفشار سے کیسے بچا جائے اس کے لیے قوم عدلیہ اور فوج کی طرف دیکھ رہی ہے !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *