آئی فون کو اپنے صارفین کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا

ایپل کمپنی نے کچھ عرصہ پہلے ہی اپنے صارفین کے لیے نئی سہولت متعارف کروائی تھی جس کے ذریعے صارفین اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے باآسانی رقم بھیج یا وصول کرسکتے ہیں جبکہ یہ طریقہ کار دیگر ای پیمنٹس کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔اس سروس میں یوٹیلیٹی بل کی ادائیگی، خریداری یا تحفہ ارسال کرنے کی سہولت بھی موجود ہے. ایک صارف کی طرف سے دوسرے صارف تک رقم کی وصولی یا ادائیگی کے لیے ’’ایپل پے ‘‘ انتہائی سادہ، آسان اور محفوظ طریقہ کار ہے.عالمی میڈیا کے مطابق کم ازکم ایشیا کی حد تک ایپل کے نئے اسمارٹ فون کی طلب اور فروخت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جو کرسمس اور خریداری کے باوجود ابتدائی تخمینوں سے بہت کم ہے۔تائیوان کے اکنامک ڈیلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس سال ایپل کمپنی کے تیارکردہ جدید ترین اسمارٹ فون کی فروخت پر بھی اثر ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اگلی سہ ماہی میں بھی اس کی فروخت میں کمی کا عندیہ دیا ہے۔

ایک اور کمپنی نے مایوسی کی خبر سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئی فون ایکس کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس میں جدتیں کم ہیں جن کی بنا پر اس کی فروخت میں کمی ہوکر اگلی سہ ماہی میں صرف ڈھائی کروڑ یونٹ ہی فروخت ہوسکیں گے۔ اس کی وجہ نہ صرف ڈلیوری میں تاخیر ہے بلکہ ایپل کی جانب سے یہ اعتراف بھی ہے کہ وہ اپنے فون کو شعوری طور پر سست کررہے ہیں۔خیال رہے کہ ایپل کمپنی نے کچھ روز قبل اعتراف کیا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے فون کارکردگی میں سست ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔

ایپل کمپنی نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ یہ عمل صارفین کے علم میں لائے بغیر کیا ہے البتہ کمپنی نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ اس کا مقصد صارفین کو نیا فون لینے پر مجبور کرنا ہے۔ آئی فون نے مزید کہا ہے کہ آئی فون کی صلاحیت میں کمی حفاظتی اقدامات کے تحت کی گئی اگر آئی فون کو وقت کے ساتھ ساتھ سست نہ کیا جائے تو وہ جلدی غیرمتوقع طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں یا پھر بار بار بند ہونے کی شکایت سامنے آسکتی ہیں۔اس اعتراف کے بعد کئی صارفین اور ریٹیلرز نے ایپل پر قانونی چارہ جوئی اور مقدمات کا خیال بھی ظاہر کیا جس سے کمپنی کی ساکھ مزید متاثر ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *