طاہر القادری کی 29 دسمبر کو اہم سیاسی شخصیت سے ملاقات متوقع

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری 29دسمبر کو رہنماؤں کے ہمراہ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کریں گے ۔ملاقات عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں ہو گی ۔ملاقات میں 30دسمبر کی اے پی سی شہدائے ماڈل ٹاؤن کے انصاف اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال ہو گا ۔ ۔دونوں رہنماؤں میں ملاقات 3بجے سہ پہر ہو گی ۔دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن علماء و مشائخ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی ڈوریں کوئی اور ہلا رہا ہے۔نجی محفلوں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے نواز شریف اب

اعلانیہ بھی دشمن کی بولی بولنے لگے ہیں ،عدلیہ آزاد اور آئین کے تابع ہے نواز شریف ٹولہ آج کل کسی اور کے تابع ہے ۔دونوں بھائی قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں دونوں ایک پیج پر ہیں ۔دونوں کا ایجنڈا 10ارب ڈالر کو 20ارب ڈالر اور 20 کو 30ارب ڈالر میں بدلنا ہے ۔جب ادارے کمزور اور افراد مضبوط ہوتے ہیں تو پھر قومی مفاد قربان ہوتے ہیں اور ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی لاشیں گرتی ہیں ۔ نا اہل نواز شریف نے ارادتاً ختم نبوت کے قانون کو ختم کیا،حلف نامہ بدلا وہ اپنے ریلیف کیلئے بیرونی قوتوں کو اپنا سیکولر چہرہ دکھانا چاہتے تھے ۔قانون واپس لے کر انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ۔سوال یہ ہے کہ ختم نبوت کے قانون کو کیوں چھیڑا گیا؟اجلاس میں مرکزی صدر منہاج القرآن علماء کونسل علامہ امداد اللہ قادری ،علامہ میر آصف اکبر، علامہ سید علی عابد مشہدی،علامہ حافظ طاہر ضیاء ،علامہ غلام اصغر صدیقی،علامہ سید امداد حسین شاہ اور علامہ محمد خلیل حنفی ،علامہ محمد نواز کوکب ،علامہ محمد یونس سعیدی،علامہ افتخار حسین

گولڑوی،علامہ اویس قادری،علامہ غلام سرور نقشبندی و منہاج القرآن علماء کونسل کے مرکزی ،صوبائی و ضلعی عہدیداران موجود تھے ۔ڈاکٹر طاہرا لقادری نے کہا کہ میری اصل طاقت میرے کارکن اور عوام ہیں ۔شہدائے ماڈل ٹاؤن کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔سیاسی جماعتوں کی تائید و حمایت اور اظہار یکجہتی سے ہماری طاقت میں اضافہ ہوا ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ باقر نجفی کمشن کی رپورٹ کے ہر صفحے پر پنجاب حکومت کو قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ،انصاف مانگ رہے ہیں جو قاتل اشرافیہ کے عہدوں پر برقرار رہتے ہوئے نہیں مل سکتا ۔انہوں نے کہا کہ علماء و مشائخ سوسائٹی میں عدل و انصاف کے قیام کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔علماء و مشائخ عوام کو غلام سمجھنے والے ظالم حکمرانوں اور انہیں تحفظ دینے والے نظام کے خلاف جدوجہد کریں ۔ علماء و مشائخ قوم کے سب سے بڑے فکری رہنماء ہیں ۔ملک میں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔اسلام ریاست میں حقوق کا جو تصور دیتا ہے اس کی دھجیاں ہر طرف بکھری دکھائی دیتی ہیں ۔عادلانہ نظام اور دیانت دار معاشرے کے قیام کیلئے علماء و مشائخ کو قاتل ،ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *