تعجب ہے نوازشریف اعلیٰ عدلیہ اور معزز ججز کی توہین کرکے بھی آزاد ہیں؟ تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم

گزشتہ چند ماہ سے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اپنی نااہلی کے بعد اپنی صاحبزادی مریم نوازاور لیگیوں کے ہمراہ دوٹوک انداز سے مُلک کی اعلیٰ عدلیہ اور معززججز صاحبان کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہو ئے ہیں اور اِس خو ش فہمی میں مبتلاہیں کہ اِن کی حکومت کے جا تے ہی(حالانکہ ابھی اِن کی ن لیگ کی ہی حکومت ہے مگر پھر بھی اِن کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ اِن کی نااہلی سے) مُلکی ترقی رک گئی ہے اور معاشی ڈھانچہ زمین بوس ہوگیاہے(جبکہ سب کیا دھرا اِنہیں کا ہے) اِنہیںپانا مہ کے بہا نے اقا مے پر نااہلی کیا گیاہے پا نچ چھ افراد کسی کو نا اہل قرار دے کر بیس کڑورعوام کے مینڈیٹ کی توہین نہیں کرسکتے ہیںاِن کی یہی ضد اور ہٹ دھرمی ہی اِنہیںاُکسارہی ہے کہ یہ اپنی نااہلی کی سبُکی مٹا نے کے خاطر عوام کو قومی اداروں سے اُلجھا نے کے لئے سڑکوں پر لا ئیں اور اپنے سامنے عوام کے ہاتھوں اعلیٰ عدلیہ اور معزز ججز کی توہین درتوہین کا ایسا سلسلہ شروع کرادیں جِسے صدیوں یاد رکھا جا ئے اور پھر کو ئی اعلیٰ عدلیہ اور معززججز صاحبان شریف اینڈکو سمیت عوامی حکومت اور عوامی نمائندگان کی ایسی توہین نہ کرسکیں آج جیسی اِن کی ہو ئی ہے یعنی کہ منتخب نمائندگان سب سے زیادہ قابلِ احترام اور مقدس گردانے جا ئیں یہ اقتدار میںآنے کے بعد چا ہے جس طرح قومی خزا نے سے قومی دولت لوٹ کھا ئیں اِن کے آگے کو ئی بندنہ باندھنے پا ئے اور یہ آئندہ جیسا چاہیں لوٹ مار کا بازار گرم رکھیں عدلیہ اور فوج سمیت کو ئی قومی ادارہ اور عوام الناس اِن کے سا منے لٹھ لے کر نہ پڑ جا ئیں۔
اگرچہ اِن دِنوں مُلک بھرمیں بڑے چھوٹے کرپٹ افراد پر احتسا ب کا تڑکا(روغنی تڑکا) لگ رہاہے جو کہ ایک اچھا عمل ہے مگراَب دیکھیں کہ کب تک احتسا بی تڑکے کا یہ عمل چلتا ہے،ہاں البتہ، اِس کام کا ٹھیکہ نیب کو دے دیا گیا ہے،اِس طرح اَب مُلک میں ایک طرف قومی دولت سے آف شور کمپنیاں بنا نے والے سابق وزیراعظم نوازشریف (شریف برادران سمیت اور) بہت سے کرپٹ عناصر ہیں تو دوسری جانب نیب اپنے لاو ¿لشکر کے ہمراہ احتساب کا تڑکا لگا نے میں مصروف ہے جن کرپٹ افراد کا احتسا ب ہوچکاہے وہ توپہلے کی طرح بغیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گردن تان کر اور سینہ پھولا کر گھوم رہے ہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ با رعب اور تلاطُم خیزی کے ساتھ زمین پر اکڑ کر چل رہے ہیں جیسے کہ کچھ ہو اہی نہیں ہے مگر جن کا ابھی احتسا بی عمل (احتسا بی تڑکا)نہیں ہوا ہے یا جو افراد ابھی تک نیب کے ہتھے نہیں چڑھے ہیں وہ اپنے بھگارے جا نے کے خوف سے چھپتے پھر رہے ہیں اگرچہ ، نوازشریف کی ابھی تک نیب کے لشکر سے جا ن تو نہیں چھوٹی ہے مگر پھر بھی یہ اِن ہی کا ظرف ہے کہ یہ قومی دولت لوٹ کھا کر بھی اپنی نا اہلی قرار پا نے کے باوجود بھی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے خلاف سینہ سپرد ہیں اور اِس کے ساتھ ہی اِن کا یہ بھی ارادہ ہے کہ یہ اپنی نا اہلی کے خلاف تحریک عدل(جو دراصل مُلک میں تحریک فساد ہوگی) شروع کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو اُدھر قومی ادارے بھی لگاتا ہے کہ نوازشریف کی اِس بے لگا می کو لگام دینے میں ناکام دِکھا ئی دیتے ہیں آج نوازشریف اعلیٰ عدلیہ اور معزز ججز صاحبان کی جس طرح اور جن جملوں اور الفاظ کے ساتھ گوشے گوشے میں جا کر بے احترامی کررہے ہیں اور حرمت کو پامال کررہے ہیں اِنہیں تو کو ئی کچھ نہیں کہہ رہاہے اور نہ اِنہیں کوئی گدی سے دپوچ کر اندر کررہاہے بلکہ اِن کی اِن حرکتوں سے سب محظوظ ہورہے ہیں آج اگر اِن کی جگہہ کو ئی عا می شہری یا کو ئی اور شخص ہوتاتوتوہینِ عدالت اور معز ز ججزکی شان میں گستاخی کا چارج لگا کر ہماری یہی اعلیٰ عدلیہ اور یہی معزز جج صاحبان ایک لمحہ بھی ضا ئع نہیں جا نے دیتے بلکہ اِسے پکڑکرعمر بھر کے لئے جیل میںایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کی سزا سُنا دیتے مگر آج یہ دیکھ کر صد افسو س اور تعجب ہوتا ہے کہ مُلک کی سب سے بڑی عدالت کے کمرا نمبر ایک سے ابھی تک نوازشریف اینڈ کو اعلیٰ عدلیہ اور معززججز کی تو ہین کرنے اور مذاق بنا نے کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیاہے؟ بہر حال ،کو ئی کسی دوھوکے میں نہ رہے،مگر اتناضرور یاد رکھے کہ ایک طرف تو سعودی حکومت نے اپنی سرزمین پر پوری قوت کے ساتھ کرپشن کے خلاف کریک ڈاون جا ری رکھا ہوا ہے تو بھلایہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ کہ اِسی سعودی عرب میں پاکستانی کرپٹ عنا صر سعودی عرب کے شاہی مہمان ہو ں؟؟اَب اِس سا رے منظر اور پس منظر میں بات دراصل یہ ہے کہ جس روز ہمارے قومی احتساب بیورو(نیب)کے ایگزیکٹیو کی جا نب سے شریف برادران ، آصف ہا شمی ودیگر کے خلاف چھ ریفرنسز دائر کر نے سمیت بابراعوان، پرویزمشرف اور یوسف رضا گیلانی، نواب اسلم ریئسا نی، عاصمہ ارباب عالمگیر سمیت کئی افراد کے خلاف چار انکوائریز اور گیارہ انویسٹی کیشنز کی منظوری دی گئی عین اُسی دن اور اُسی وقت وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سعودی فرما نرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی اچانک دعوت پر شاہی طیارے میں سعودی عرب پہنچ گئے پتہ ہے یہ سعودی عرب اچا نک کیو ں بلا ئے گئے ہیں؟ نہیں معلوم تو اگلی سطور میں بتا دیں گے کہ شبہاز شریف سعودی عرب کس لئے بلا ئے گئے؟ ۔تاہم سعودی عرب سے یہ خبر آئی ہے کہ شہبا ز شریف نے عمرہ اداکیا اور روضے رسول ﷺ پر حا ضری بھی دی اور کعبہ شریف اور مسجدبنویﷺ میں پیش ہوکر اپنے اور اپنے بڑے بھا ئی نوازشریف کے پچھلے تمام دانستہ اور غیردانستہ کئے گئے گناہوں کی معافی کی درخواست بھی لگا ئی البتہ خیال ہے کہ اِنہوں نے اپنی آئندہ کی غلطیوں اور گناہوں کے بارے میںضرورکنجوسی کا مظاہرہ کیا ہوگا کیو نکہ متوقعہ اگلے وزیراعظم پاکستان کا رقعہ اِن کے نام جو نکل آیا ہے مگر قوی خیال یہی ہے کہ مریم نوازکے ہوتے ہوئے نوازشریف کا شہباز شریف کو مُلک کا وزیراعظم بنا نے کا اعلان محض مضحکہ خیزی کے کچھ نہیںہے۔ہاں تو بات ہورہی ہے کہ پچھلے دِنوں وزیراعلیٰ پنجاب شبہاز شریف سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی اچا نک دعوت پر اِن کے بھیجے گئے شاہی طیارے میں سعودی عرب گئے تو اِس حوالے سے اندر کی ایک کہا نی یہ بھی سا منے آئی ہے کہ شبہاز شریف سعودی عرب کے شاہی مہمان کی حیثیت سے اچا نک دعوت پر سعودی عرب اِس لئے بلوا ئے گئے کہ یہ سعودی عرب آن کر دیکھ لیں کہ اَب اگر اِنہیں مُلک بدر (پاکستان بدر) کیاگیاتواِس مرتبہ اِن کی غیرمعینہ مدت تک سعودی عرب میں رہا ئش گاہ کے لئے جو بنگلہ یا گھر دیا جائے گا اِس کے تما م سعودی انتظامات اور اقدامات کا خود جا ئزہ لے کر اچھی طرح تسلی کر لیں یہ ہم نے اپنی دوستی کے خاطر جو کچھ کیا ہے اِن کی مرضی کے مطابق ہے کہ نہیں پھر نہ کہنا کہ ہم نے دوستی نہیں نبھا ئی ہے اگر کبھی شریف برادران کو اچا نک راتوں را ت پھرسعودی عرب بھیجا گیاتو شریف برادران کو اِسی بنگلے یا گھر میں ہی ٹھیرایا جا ئے گا آج جس کا شہباز شریف خود جا ئزہ لے کراور تسلی کرکے جا ئیں گے شبہاز شریف کی سعودی عرب اچا نک دعوت پر شاہی طیارے کے ذریعے سعودی عرب جا نے کا ایک خاص پہلو یہ بھی تو ہوسکتا ہے جِسے ہمارے خوش فہم ن لیگی تبصرہ نگار اور تجزیہ کار کیوں بھول گئے ہیں ؟یا دانستہ طور پر نظر انداز کر گئے ہیں بہر کیف ، شبہاز شریف کے اچا نک سعودی عرب جا نے کا جیسا آئینہ دکھایا جارہا ہے اِس کا ایک رخ اور بھی ہے جِسے شہباز شریف اور ن لیگ والے عوام سے چھپارہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *