شریف خاندان کی شوگر ملز غیر قانونی ہیں تو اٹھانی پڑیں گی، چیف جسٹس پاکستان

(تحریک نیوز ڈیسک)اسلام آباد: سپریم کورٹ میں شریف خاندان کی شوگر ملز کی بندش سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے کسانوں کے کیس میں فریق بننے کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق ہیں اور لاہور ہائی کورٹ میں درخواست گزار کسانوں کو سنے بغیر فیصلہ ہوا۔ عدالت عظمیٰ نے بند شوگر ملوں کو چلانے کے لیے حکم امتناعی دینے سے انکار کردیا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ شوگر ملز منتقلی کا ہے تاہم کسانوں کا نقصان نہیں ہونے دیں گے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مقدمات کے دوران یہ کاروبار بند ہے تو شریف خاندان کے وکیل نے جواب دیا کہ کاروبار بھی بند ہے اور عدالت نے 3 ماہ میں منتقلی کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ملز غیرقانونی لگائی گئی ہیں تو اٹھانی پڑیں گی-
چیف جسٹس نے کہا کسانوں کا نقصان نہ ہو اور کم از کم اس سیزن میں تو کسانوں کا نقصان نہیں ہونے دیں گے، کسانوں کا مکمل گنا اٹھنے تک کیس کی روزانہ سماعت کروں گا، جہانگیر ترین کی شوگر مل ’’جے ڈی ڈبلیو‘‘ کا نمائندہ عدالت میں ہونا چاہیے، جہانگیر ترین موجود ہیں تو ان کو بلا لیں، فی الحال شوگر ملیں کھولنے کے لیے حکم امتناع نہیں دیں گے اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔ عدالت نے جے ڈی ڈبلیو شوگر مل سے گنا اٹھانے کے لیے کل تک پلان طلب کرتے ہوئے کہا کہ کل تک پلان لائیں ورنہ شریف خاندان کی شوگر ملیں کھول دوں گا۔
جے ڈی ڈبلیو کے وکیل اعتزاز احسن نے شریف خاندان کی شوگر ملیں کھولنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خود کاشت کار ہوں اس لیے کسانوں کا نقصان نہیں ہونے دوں گا۔ کسانوں کے وکیل نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو پچھلی کمٹمنٹ بھی پوری نہیں کر سکی۔
شریف خاندان نے 2015 میں چوہدری شوگرملز، اتفاق شوگرملز اور حسیب وقاص شوگر ملز سمیت اپنی 4 شوگر ملیں وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب منتقل کی تھیں۔ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے ان شوگر ملوں کی منتقلی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے گزشتہ سال ستمبر میں لاہور ہائی کورٹ نے شریف خاندان کی شوگر ملوں کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا، یہ کیس اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *