صحت کے ہفتے عوام کیلئے کتنے فائدہ مند ؟

صحت کے ہفتے عوام کیلئے کتنے فائدہ مند ؟
تحریر:قاسم علی
یہ ایک ازلی حقیقت ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد بنا کرتا ہے اور بنیادی انسانی حقوق ہر ریاست سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ہر انسان کو یکساں سہولیات ہمہ وقت فراہم کی جائیں اور پوری دنیا میں ایسا ہی کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں حکومت اس حساس ترین معاملے پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن رہتی ہے ۔جس کے باعث عوام کو علاج کی بروقت اور بہتر سہولیات نہیں مل پاتیں ہیں۔ایمایس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال دیپالپور ڈاکٹرنوید حفیظ ڈولہ نے کہا کہ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے سکریننگ ویکس کا آغاز کیا ہے ہم نے پہلے عوام کیلئے سکریننگ شروع کی تین دن میں اٹھارہ سو لوگوں کے مکمل ٹیسٹ لئے گئے اسی طرح اگست میں محکمہ صحت اور نومبر میں محکمہ پولیس کیلئے ہفتہ صحت منایا گیا اس دوران تمام افراد کی سکریننگ کی جاتی ہے جس میں پانچ بیماریوں سے متعلق ٹیسٹ لئے جاتے ہیں جن میں شوگر،
ہیپاٹائیٹس،ملیریا،ایڈز اور ٹی بی شامل ہیں اور پھرجو اس مرض میں مبتلا ہو اس کا علاج کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت کیساتھ ساتھ اس سکریننگ کا دائرہ کار عام آدی تک بڑھایا جائے گا اور چالیس سال سے زائد ہر فرد کی سکریننگ شروع کی جائیگی تاہم یہ عمل کب شروع ہوتا ہے اس کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔ نجم گیلانی ایڈووکیٹ ایک سرگرم سوشل ورکر اور آوازوجوابدہی فورم کے ضلع اوکاڑہ میں کنوینیئر ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی صحت کے حوالے سے ایسی پالیسی یقیناََعوام کیلئے ہرگز سُودمند نہیں ہے کیوں کہ جب حکومت زچہ بچہ کیلئے کسی مخصوص محکمہ یا کمیونٹی وغیرہ کیلئے ہفتہ صحت منعقد کرتی ہے تو اس ہفتے کے علاوہ جب لوگ بیمار ہوتے ہیں تو پھر انہیں ہسپتال آتے ہیں تو انہیں وہ سہولیات نہیں ملتیں جو اس ہفتہ کے دوران ملتی ہیں بلکہ انہیں ایسی کڑوی کسلی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں کہ آپ اس ہفتہ کے دوران کیوں نہیں آئے جبکہ بیماری تو کسی سے پوچھ کر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صحت کی ابتر صورتحال کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹرز کے پرائیویٹ کلینک بھی ہیں۔تمام سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نے اپنے پرائیویٹ کلینک بنا رکھے ہیں نرسوں اور ڈسپینسرزنے بھی اپنے ہیلتھ سنٹرز نے بنائے ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال میں مفت چیک اپ کرنا پڑتا ہے جبکہ وہی ڈاکٹرز اپنے پرائیویٹ کلینک پر سات سو فیس لیتے ہیں اس طرح نہ صرف وہ حکومت سے ایک سے ڈیڑھ لاکھ تنخواہ وصول کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ وہ پرائیویٹ کلینک سے بھی کما لیتے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں بہتری اور یہاں پر بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے پرائیویٹ کلینکوں کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جانا چاہئے۔ڈاکٹرامجد وحید ڈولہ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی یہ پالیسی انتہائی مضحکہ خیز ہے خصوصاََ جب کسی سرکاری محکمہ کیلئے ویک منایا جاتا ہے تو اس دوران تمام ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف اور لیبارٹری ان محکموں کے ملازمین کیلئے ہی مختص ہوجاتے ہیں جبکہ اس پورے ہفتے میں عام افراد کو چیک اپ ،ادویات کی فراہمی اور ٹیسٹوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے اور دوسری بات یہ کہ سرکاری محکموں کے یہ ملازمین تو ویسے ہی اتنے باشعورر اور جان پہچان والے ہوتے ہیں کہ یہ جب چاہیں جہاں سے چاہیں باآسانی علاج معالجہ کروا سکتے ہیں اصل مسئلہ تو عام آدمی کو ہوتا ہے جس کو یہ سہولیات ہر وقت ملنی چاہئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں پر ڈاکٹرز کو ڈبل شفٹ کام کرنے کی ہدائت کی گئی ہے اور وہاں کے ہسپتالوں میں ہر وقت ڈاکٹرز عوام کیلئے دستیاب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں پر ایسے ہفتوں کی بجائے ہر وقت ہر ایک کو علاج کی بہترین سہولت حاصل ہوتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبوں سے قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچتا ہے کیوں کہ اس پورے ہفتے کے دوران حکومت کی جانب سے تمام بڑے اخبارات میں اشتہارات،شہروں میں بڑی بڑی فلیکسوں اور دیگر طرح سے تشہیر کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے جس پر کثیر قومی سرمایہ فضول میں خرچ ہوتا ہے حکومت کو چاہئے کہ ان پیسوں کو اس اشتہار بازی کی نظر کرے کی بجائے ہسپتالوں کی مجموعی صورتحال کی بہتری اور ڈاکٹرز کو مزیدمراعات دینے پر صرف کرے۔ منظوراں بی بی ڈولہ پختہ کی رہائشی ہیں انہوں نے بتایا کہ میرے آٹھ بچے ہیں مگر مجھے آج تک کسی نے نہیں بتایا کہ زچہ بچہ سنٹر کہاں ہے یا ہفتہ صحت کب منایا جاتا ہے اور اس میں کیا سہولیات ملتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام جب بھی شروع ہوں اس بارے دیہا تی علاقوں میں باقاعدہ اعلانات وغیرہ ہونے چاہیءں کیوں کہ کئی علاقوں میں ٹی وی اور اخبارات نہیں جاتے ۔پروین اختر کہتی ہیں کہ چند روز قبل میں ہسپتال گئی وہاں پر عوام کا ایک جم غفیر تھا جو علاج معالجے کیلئے آیا ہوا تھا میرے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس کے ملازمین کے طبی معائنے کیلئے تین روز کیمپ ڈی ایس پی آفس میں لگایا گیا ہے جہاں پر ڈاکٹرز گئے ہوئے ہیں اور یہاں پر صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے اسی لئے اتنا رش ہے اور مجھے یقین ہے کہ آج میری باری نہیں آئیگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *