گندی ہوا جذ ب کرکے اسے صاف کرنے والا بلند ٹاور تیار

(تحریک نیوز ڈیسک) بیجنگ: چین میں آلودہ ہوا صاف کرکے اسے صاف حالت میں لانے کےلیے ایک ٹاور بنایا گیا ہے جو نچلی فضا میں موجود ہوا کو بڑی حد تک صاف کردیتا ہے۔ اسے ہوا صاف کرنے والا دنیا کا بلند ترین ’ایئر پیوریفائر ٹاور‘ کہا جارہا ہے جس کی اونچائی 100 میٹر ہے اور اسے چین کے مصروف شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور اسموگ ختم کرنے کےلیے تیار کیا گیا ہے۔
چین میں گاڑیوں اور صنعتوں کی بہتات سے وہاں کے مصروف ترین شہروں میں اسموگ کا مسئلہ گمبھیر ہوچکا ہے جسے درست کرنے کےلیے مختلف طریقوں پر غور کیا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبہ شانژی کے شہر ژیان میں اسے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری اور آزمائش کا کام چینی اکادمی برائے سائنس کے تحت ارضی ماحولیاتی انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے کیا ہے۔
ادارے کے سربراہ ساؤ جنجی نے کہا ہے کہ اپنی تنصیب کے بعد ٹاور ایک روز میں ایک کروڑ مکعب میٹر سے زیادہ صاف ہوا خارج کرتا ہے جس کا اثر اس کے ارد گرد 10 مربع کلومیٹر کے علاقے میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ اسموگ کی شدت کم کرکے اسے درمیانے درجے تک لاتا ہے۔
ٹاور کے قریب آلودہ ہوا کھینچنے والا ایک نظام نصب ہے جس کا رقبہ ایک فٹ بال گراؤنڈ کا نصف ہے، جس میں شیشے کے گھر (گلاس ہاؤس) کے اندر آلودہ ہوا جاتی ہے جسے ٹاور کا نچلا حصہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔ گلاس ہاؤس، شمسی توانائی استعمال کرتے ہوئے ہوا کو گرم کرکے آگے بھیجتے ہیں۔ یہ گرم آلودہ ہوا ٹاور کے اندر سے گزرتی ہے۔ ٹاور کے اندر کئی پرتیں لگائی گئی ہیں جو ہوا کو درجہ بہ درجہ صاف کرتی ہیں اور یوں اس ٹاور کے اندر داخل ہونے والی ہوا بتدریج آگے بڑھتے ہوئے صاف ہوتی رہتی ہے؛ اور آلودگی سے مکمل طور پر پاک ہو کر خارج کردی جاتی ہے۔
ساؤ جنجی کے مطابق ٹاور کے نتائج حیرت انگیز ہیں۔ ان کے مطابق یہ نظام سردیوں میں بھی چل سکے گا جب روشنی کم ہوتی ہے اور گرین ہاؤس کام نہیں کرتے ہیں۔ شیشے پر ایک کوٹنگ لگائی گئی ہے جو سردیوں میں بھی اسے گرم رکھتی ہے۔
اگلے مرحلے میں شہر میں آلودگی ناپنے والے ایک درجن اسٹیشن بنائے جائیں گے تاکہ اس ٹاور کی کارکردگی معلوم کی جاسکے۔ ماہرین کے مطابق فضا میں بدترین آلودگی اور اسموگ کے موقع پر بھی ٹاور نے آلودگی کو 15 فیصد تک کم کیا۔
ٹاور کو آلودگی کم کرنے والی کم خرچ ٹیکنالوجی قرار دیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب ٹاور کے قریب رہنے والے افراد نے بھی اس کی افادیت کو سراہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *