صرف ایک ماہ کے دوران 300 ارب روپے کا غیرملکی قرضہ لیا گیا۔

(تحریک نیوز ڈیسک)اسلام آباد: موجودہ دور حکومت میں غیرملکی قرضوں کے بوجھ میں 4 ہزار 200 ارب روپے اضافہ ہوا- موجودہ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران 600 ارب روپے کے غیر ملکی قرضے لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، صرف ایک ماہ کے دوران 300 ارب روپے کا غیرملکی قرضہ لیا گیا۔
دستیاب دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کی جانب سے غیرملکی قرضوں پر زیادہ انحصار کیا جارہا ہے اور رواں سال دسمبر کے دوران 300 ارب روپے کا غیرملکی قرضہ لیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے دوران جولائی تا دسمبر حکومت نے 600 ار ب روپے کے غیر ملکی قرضے لیے اور حکومت نے کمرشل بینکوں سے ایک ارب 16 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ حاصل کیا جب کہ رواں مالی سال کے دوران حکومت کی جانب سے ڈھائی ارب ڈالر کے بانڈز بھی جاری کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک سے 44 کروڑ 38 لاکھ ڈالر، کینیڈا سے 51 کروڑ ڈالر، جرمنی سے 8 کروڑ 67 لاکھ ڈالر اور آئی بی آر ڈی سے 13 کروڑ 45 لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے اسلامی ترقیاتی بینک سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 70 کروڑ ڈالر اور جاپان سے 6 کروڑ 77 لاکھ ڈالر قرض لیا۔ برطانیہ سے 6 ماہ کے دوران 10 کروڑ 55 لاکھ ڈالر اور سعودی عرب سے 2 کروڑ 25 لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں غیر ملکی قرضو ں کے بوجھ میں 4 ہزار 200 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا جس کے باعث ملک پر غیرملکی قرضوں کا بوجھ ریکارڈ 9 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ موجودہ حکومت نے جب ساڑھے 4 سال قبل اقتدار سنبھالا تھا تو اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 14 ہزار 318 ارب روپے سے زائد تھا جو اب بڑھ کر 26 ہزار ارب روپے تجاوز کر چکا ہے۔
موجودہ حکومت نے اب تک ملکی و غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں 12 ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ مقامی قرضے ادا کرنے کے لیے غیرملکی قرضے لیے جا رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقامی انڈسٹری کے فروغ اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کوئی توجہ نہیں دی جارہی جس سے پیداواری صنعت بری طرح متاثر ہورہی ہے اور حکومت کا تمام تر انحصار بیرونی قرضوں پر ہے۔ تمام تر اقدامات کے باوجود حکومت درآمدات میں کمی لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اور برآمدات میں اضافہ ہو رہاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *