بلوچستان اور ملک میں پارلیمانی تبدیلی کی شروعات

پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات سے لیکر چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی تک بلوچستان کا نام زیر گردش ہے۔ ملک میں پارلیمانی تبدیلی کی شروعات بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی سے ہوا جس کے بعد وہاں سینیٹرز کے انتخاب میں حکمران مسلم لیگ ن ایک بھی نشست حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تجویز پیش کی ہے کہ سینیٹ کا چیئرمین بلوچستان اور وائس چیئرمین فاٹا سے ہونا چاہیے۔ جمعے کو کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد انھوں نے واضح کیا کہ ان کے سینیٹرز پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔
عمران خان کی پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قیوم سومرو نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے مطلوبہ ووٹس حاصل ہوچکے ہیں، جن کی تعداد 57 ہے۔
انھوں نے تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ فنکشنل کا حوالہ دیا تھا، تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے اس تاثر کو مسترد کیا جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس کرکے اپنی پوزیشن واضح کردی۔
متحدہ قومی موومنٹ کے دونوں دھڑوں کے رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی سے مسلم لیگ نے کے رہنما مشاہداللہ خان اور گورنر زبیر احمد نے ملاقات کرکے سینیٹ میں مدد کی درخواست کی تھی تاہم کوئی واضح جواب حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی گروپ کو 5 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے، اس حوالے سے نثار کھوڑ کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی قیادت ان سے ملاقات کرچکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے فاٹا کے 6 اراکین نے ملاقات کی ہے جن کے بارے میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈاکٹر قیوم سومرو کا دعویٰ ہے کہ جمعیت علما اسلام ف ایک دو روز میں ان کی حمایت کا اعلان کرے، ڈاکٹر قیوم جو خود بھی جے یو آئی اے میں شامل رہے ہیں جے یو آئی کی جانب سے ان کے دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے بلوچستان سے چیئرمین اور فاٹا سے وائس چیئرمین کے امیدوار کی تجویز آصف علی زرداری کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔
آصف علی زرداری اگر اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں تب تو اس بات کے امکانات ہیں کہ مشترکہ امیدوار سامنے آئے لیکن وہ پیپلز پارٹی کا حمایت یافتہ امیدوار تو ہوسکتا ہے لیکن ان کا نامزد کردہ امیدوار نہیں ہوگا، اگر زرداری حمایت نہیں کرتے تو پھر یہ سہ فریقی انتحاب ہوگا۔
بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ عمران خان کا موقف بلوچستان کے حق میں ایک اچھا دباؤ ہے، یہ ایک اچھی بات ہے کہ جو 6 سینیٹرر کامیاب ہوئے ہیں انھوں نے عمران خان سے بات کی اس کے بعد آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں ان کی اطلاعات کے مطابق زرداری نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی پیشکش کی ہے تاہم انھوں نے چیئرمین شپ کامطالبہ کیا ہے۔
یہ اچھی روایت ہے کہ بلوچستان کی جانب سے چیئرمین شپ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کچھ غیر تصدیق شدہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن حاصل بزنجو کو نامزد کردے۔
پاکستان میں ماضی میں سینیٹ کی چیئرمین شپ چھوٹے صوبوں کو دینے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں چھوٹے صوبے کے لیے پوزیشن لینا مشکل نظر آتا ہے جس طرح ڈاکٹر عبدالمالک یا ثنا اللہ زہری کی حکومت کو دیکھا گیا، لہذا چیئرمین سینیٹ کے لیے یہ ہی ہونا کافی نہیں کہ اس کا تعلق چھوٹے صوبے سے ہو۔
جس طرح بلوچستان حکومت میں بغاوت ہوئی ہے اور جو سینیٹرز منتخب ہوکر آئے ہیں وہ کن اخلاقی اقدار پر منتخب ہوئے ہیں یہ چیزیں بھی سامنے رکھنی پڑیں گی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ضیاالدین احمد کا کہنا ہے کہ جس طرح سے بلوچستان کی حکومت کو گرایا گیا اور قدوس بزنجو کو لایا گیا جن کے پاس چار یا پانچ اراکین تھے اسی وقت سے لگتا تھا کہ یہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے کام ہو رہا ہے۔
موجودہ وقت بھی لگتا ہے کہ کچھ خفیہ ہاتھ کام کر رہے ہیں اور یہ ہھی کوشش ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کو سینیٹ کی چیئرمین شپ اور ڈپٹی چیئرمین شپ سے روکا جائے، اس میں بلوچستان کے آزاد اراکین، تحریک انصاف اور آصف علی زرداری انتہائی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں حالانکہ مسلم لیگ ن کے پاس اتنے اراکین ہیں کہ وہ اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرلے۔‘
سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتوں پر ایسا کوئی امیدوار ہے جس پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے، سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے تو ایسا کوئی امیدوار نظر نہیں آرہا جس پر تمام ہی جماعتیں اتفاق کرتی ہوں، جو متفقہ امیدوار ہوسکتا تھا وہ موجودہ چیئرمین رضا ربانی تھے جن کو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ڈمپ کردیا ہے۔
سینیئر صحافی ضیاالدین احمد کا کہنا ہے کہ اس وقت کوشش یہ بھی ہے کہ انوار الحق کاکڑ کو چیئرمین سینیٹ بنا دیا جائے جو اسٹیبشلمنٹ کے انتہائی قریب ہیں لیکن زرداری کے بارے میں آخری وقت تک کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔
یاد رہے کہ سینیٹ چیئرمین کے لیے 12 مارچ کو انتخابات ہوں گے، سینیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا خیال ہے کہ بلوچستان کے سینیٹرز کا پیپلز پارٹی کے لیے نرم گوشہ ہے وہ اکٹھا ہوکر مسلم لیگ ن کا مقابلہ کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *