اولیمپئین سائیکلسٹ و قومی ہیرو محمد عاشق انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انتقال کر گئے…..

اولیمپئین سائیکلسٹ و قومی ہیرو محمد عاشق انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انتقال کر گئے۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ. محمد عاشق حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث آخری ایام میں رکشہ چلانے پر مجبور ہو گئے تھے۔تفصیلات کے مطابق تمام ترقی یافتہ معاشروں میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کی سرپرستی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کرکٹ کے علاوہ تمام کھیلیں جس طرح سے نظر انداز یو رہی ہیں انکی مثال نہیں ملتی۔

ہمارے سابق ہیروز اور اولمپئین جس کسمپرسی کی زندگی گزار کر اس دنیا کو الوداع کہہ رہے ہیں وہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ایسا ہی کچھ 1960اور1964کی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد عاشق کے ساتھ ہوا۔محمد عاشق جو سابق اولمپئین ،سائیکلسٹ اور قومی ہیرو تھے حکومت کی عدم سرپرستی کے باعث بڑھاپے میں رکشہ چلانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ حالات سے لڑتے لڑتے محمد عاشق کی صحت نے بھی اسکا ساتھ چھوڑ دیا۔گال بلیڈر کے آپریشن کے لیے انہیں ہسپتال داخل کروایا گیا تھا ،آپریشن تو مکمل ہو گیا لیکن محمد عاشق زندگی کی جنگ ہار گئے اوریوں سابق اولیمپئین سائیکلسٹ و قومی ہیرو محمد عاشق 83سال کی عمر میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انتقال کر گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *