کڑوا سچ تحریر: راجہ وحید احمد

کڑوا سچ
(عورت کا معاشرئے میں کردار)
راجہ وحید احمد
مجیب الرحمن شامی صاحب کے پی ایف یو سی (پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹس)کے زیر اہتمام منعقدہ بیسٹ وومن نیشنل ایوارڈز کی تقریب میں کہے گئے یہ الفاظ کہ آنکھ کھولی تو گھر میں والدہ کی حکمرانی دیکھی شادی کے بعد بیوی کی بادشاہت اور بیٹی جوان ہوئی تو گھر میں بیٹی کا راج اور یہ ہے بھی حقیقت جس کو جھٹلانا ہمارئے لیے ممکن نہیںکیوں کہ عورت ماں، بیوی ، بہن یا بیٹی جس بھی روپ میں ہو اُس کے بغیر گھر ویران لیکن عورت کا کردار صرف گھر تک ہی محدود نہیں بلکہ اگر آپ کسی بھی پروفیشن پر نظر ڈالیںتو عورت کا کردار قابل تعریف کوئی بھی پروفیشن ایسا نہیں جو عورت کے بغیر مکمل ہو اگر میں پاکستان کی بات کروں تو ہر شعبہ زندگی میں عورتوں نے انمٹ نقوش چھوڑئے ادب میں بانو قدسیہ، فاطمہ ثریا بجیا ،یاسمین حمید، رضیہ بٹ اور حمیرا احمد شاعری میں پروین شاکر، نوشی گیلانی اور ثمینہ راجہ ڈرامہ انڈسٹری میں روحی بانو اور مہوش حیات فلم انڈسٹری میں شمیم آرا ،شرمین عبید چنائے اور زیبا علی خدمت خلق میں بلقیس ایدھی اور بلقیس سرور( 23 مارچ2018 کو بلقیس سرور فائونڈیشن کی بانی بلقیس سرور کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا) آئی ٹی میں ارفعہ کریم رندھاوا بیورو کریسی میں عائشہ ممتاز اور ملیحہ لودھی سیاست میں مادر ملت فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو ، شیریں رحمان،فہمیدہ مرزا اور مریم نواز آپ جہاں پر بھی نظر ڈالیں آپ کو خواتین اگلی صفوں میں ہی نظر آئیں گی خواتین کی مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارگردگی پر اُن کی ستائش کے لیے یوسی پی اور پی ایف یو سی کے اشتراک سے لاہور میں انٹرنیشنل وومن ڈئے کی مناسبت سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیاپوری دنیا میں انٹرنیشنل وومن ڈئے آٹھ مارچ کو منایا جاتا ہے دنیا میں پہلی دفعہ 28فروری 1909میں سوشلسٹ پارٹی آف آمریکہ کی ممبر تھریسامالکیل کے تجویز پر نیشنل وومن ڈئے نیویارک میں منایا گیا1910میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وومن ڈئے کو ہر سال منایا جائے گاسویت یونین میں 1917 میں جب خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا تو آٹھ مارچ کو وہاں عام تعطیل کا اعلان کیا گیایونائیٹڈ نیشن (یو این) نے 1975 میں باقاعدہ طور پر انٹرنیشنل وومن ڈئے کو منانا شروع کیا تب سے پوری دنیا میں آٹھ مارچ کا دن انٹرنیشنل وومن ڈئے (عورتوں کے حقوق) کے طور پر منایا جاتا ہے دنیا کے مختلف ممالک میں آٹھ مارچ کوعام تعطیل ہوتی ہے یوسی پی کی طرف سے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اور پی ایف یو سی کی طرف سے ڈاکٹر عارفہ صبح خان(کالم نگار نوائے وقت) صدر وومن ونگ پی ایف یو سی اور نور الہدی (سٹوری رائٹرایکسپریس میگزین، کالم نگار نئی بات، ممبر پی ایف یو سی) پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جنہوں نے مختلف شعبہ جات میں نمایا ں کارکردگی دکھانے والی خواتین کا انتخاب کرنا تھا ان تین شخصیات کی طرف سے نامزد کردہ نامور، محنتی ، ہونہار اور نمایاں خدمات سرانجام دینے والی خواتین کی فہرست کو پی ایف یو سی کے صدر راجہ وحید احمد(کالم نگار روزنامہ جناح) اور جنرل سیکرٹری رضوان اللہ خان(کالم نگار نئی بات) کی مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارگردگی کی حامل بارہ خواتین کو یو سی پی اور پی ایف یو سی کی طرف سے ایوارڈ سے نوازا جائے گا ان میں بیگم مہناز رفیع،یاسمین حمید، عائشہ ممتاز، ڈاکٹر عارفہ صبح خان، ڈاکٹر نوشین حامد، سمعیہ راحیل قاضی، حلیمہ آفریدی، مسرت مصباح، ثمینہ گل، حفصہ جاوید اور ثمن عروج شامل تھی خواتین کو مختلف شعبہ جات میں سپورٹ کرنے پر سید عامر جعفری اور سید علی عمران کو بھی ایواڈز دئیے گئے اس تقریب کو بیسٹ وومن نیشنل ایوارڈ کے نام سے منعقد کیا گیاتقریب کا انعقاد یوسی پی کے ایگزامینشن ہال میں کیا گیا تقریب کی صدارت سابق گورنر پنجاب، سینٹر اور پی ٹی آئی کے رہنما جناب چوہدری سرور نے کی اور اس پر وقار تقریب کے مہمان خصوصی روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر، نامور صحافی دانشور اور منجھے ہوئے کالم نگار جناب مجیب الرحمن شامی اور سابق صوبائی وزیر تعلیم پنجاب اور وائس چانسلر یو ایس اے جناب میاں عمران مسعود تھے چوہدری سرور نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں خواتین کا کتنا احترام کرتا ہوں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان کی طرف سے موبائل پر وصول ہونے والے ایک میسج پر میں آپ کے سامنے کھڑا ہوںانہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین قابلیت کے اعتبار سے اور معاشرئے میں اپنے کردار کے حوالے سے کسی سے کم نہیں حالانکہ پاکستانی خواتین کو مغربی خواتین کے مقابلے میں مواقع اور وسائل کم دستیاب ہیں اس کے باوجود معاشرئے میں پاکستانی خواتین کا کردار قابل تحسین ہے سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہر میدان میں پاکستانی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیںخدمت خلق کا میدان ہو یا جنگ کا ،کھیل کا میدان ہو یا صحافت کا خواتین کا کردار ناقابل فرموش ہے جناب مجیب الرحمن شامی صاحب نے اپنے خطاب میں کہاسب سے پہلے میں 5فروری 2018کو پی ایف یو سی کے الیکشن میں کامیاب ہونے والے عہدہ داروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور الیکشن کے بعد ہونے والے اس پہلے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر بھی پی ایف یو سی کے تمام ممبران داد کے مستحق ہیںاُنہوں نے کہاخواتین کو ہمیشہ میں نے اُونچے مقام پر ہی فائز پایا ہے عورت خواہ گھر کی ذمہ داری ادا کر رہی ہو یا کسی بھی پروفیشن میں کسی بھی سیٹ پر ہو میں نے ہمیشہ اس کو محنتی اور قابل بھروسہ ہی پایا ہے عورت کے معاشرئے میںکردار کو کسی بھی ذی شعور انسان کا جھٹلاناممکن ہی نہیںسمعیہ راحیل ٖقاضی نے جن خوبصورت الفاظ کے ساتھ اسلام میں عور ت کے مقام اور کردار پر روشنی ڈالی اور حضرت عائشہ صدیقہؓاور حضرت فاطمہ ؓ کی خدمات کا ذکر کیااُنھوں نے قاضی حسین احمد کی بیٹی ہونے کا حق ادا کر دیا اس تقریب کے اختتام پر پی ایف یو سی کی طرف سے خواتین ونگ کی صدر ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا جوپی ایف یو سی کی درخواست پر
یہاں تشریف لائے اس تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پی ایف یو سی کے جنر ل سیکرٹری رضوان اللہ خان( دو کتابوں کے مصنف، کالم نگار روزنامہ نئی بات) نے ادا کیے جو قابل تعریف تھے اس وقت پاکستان میں کالم نگاروں کی بہت سی تنظیمیں کام کر رہی ہیں لیکن پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹس ان تمام تنظیموں میں سب سے پرانی تنظیم ہے لیکن ایک بات جو اس کو باقی تنظیموں سے نمایاں کرتی ہے وہ اس میں ہر سال ہونے والا جمہوری عمل ہے پاکستان میں کام کرنے والی کالم نگاروں کی تمام تنظیموں میں الیکشن کا انعقا د یہ سُوچنا بھی حماقت ہے عرصہ دراز سے کچھ چہرئے تمام تنظیموں پر قابض ہیںلیکن پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹس کالم نگاروں کی وہ واحد نمائندہ تنظیم ہے جو اپنے ممبرز کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ہر سال عہد ہ داروں کو منتخب کرئیں 5 فروری 2018 کو بھی صدر ، جنرل سیکرٹری، سینئیر نائب صدر اور سیکرٹری انفارمیشن کے انتخاب کے لیے الیکشن کا انعقاد کیا گیا پاکستان بھر سے تمام ممبران نے حق رائے دہی استعمال کیا ممبران کی اکثریت نے صدر کے لیے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا جس کے لیے میں تمام ممبران کا مشکور ہوںجنرل سیکرٹری کے لیے لاہور سے رضوان اللہ خان، سینئیر نائب صدر کے لیے حیدرآباد سے اختر ایوب خان اور انفارمیشن سیکرٹری کے لیے دیپالپور سے قاسم علی خان کو منتخب کیا گیا اس الیکشن میں طاہر تبسم درانی(دو کتابوں کے مصنف،کالم نگار)حافظ محمد زاہد اور ایم ایم علی نے جس طرح میر ساتھ دیا میں اُن کا احسان مند ہوں اور خصوصی طور پر میں سابق صدر پی ایف یو سی فرخ شہباز وڑائچ کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھ کو اس قابل سمجھا اور صدارت کے لیے الیکشن میں حصہ لینے پر رضا مند کیا پی ایف یو سی کے الیکشن کے بعد ہونے والے پہلے کامیاب پروگرام کے انعقاد پر میں رانا علی ذوہیب،ابوبکر شیخ، شہزاد روشن گیلانی ،رضوان اللہ خان اور ڈاکٹر عارفہ صبح خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی انتھک محنت سے یہ ممکن ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *