جب الفاظ زہر اور لہجے تلوار ہوجائیں! تحریر : شیخ خالد زاہد

جب الفاظ زہر اور لہجے تلوار ہوجائیں!

مواصلات انسان کی زندگی کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی عنصر ہے ۔ آپ کو کسی سے کچھ پوچھنے یا بتانے کیلئے الفاظ کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے ورنا اشاروں کی زبان میں بھی موقع کی مناسبت سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ کی فنی قابلیت اپنی جگہ لیکن الفاظ اور لہجوں کا خوبصورت چنائو سے بنا امتزاج انسان کی شخصیت کو منوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ جو الفاظ ہوتے ہیں انہیں لکھنا بھی محال ہوتا ہے انہیں سنبھالنا بھی محال ہوتا ہے یہ اگر یہ الفاظ جذبات کا حقیقی لبادہ اوڑھ کر قلم کی سیاہی سے نکلیں تو تباہی ہی تباہی پھیلا کر رکھ دیں۔ یہ خوب کمال ہوتا ہے جذبات پر الفاظ پر دسترس ہوتی ہے اور لہجے کے معاملے میں تو ہم لوگ گونگے بن جاتے ہیں بس قلم کو ہی زبان بنا لیتے ہیں ۔ تب کہیں جاکہ جذبات جو صرف الفاظ تک محدود رہے جاتے ہیں اور لہجے کے محتاج ہونے کے باعث اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا کہ فقط بولنے والے کرتے ہیں۔ جذبات میں تو دل کی دھڑکن بھی اپنے طرز پر الفاظ مرتب کررہی ہوتی ہے اب یہ جذبات پر منحصر ہے کہ وہ محبت لئے ہیں یا پھر نفرت کا طرز مرتب دے رہے ہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں گونگے ہوجانا ہی بہتر ہے ورنہ بہت کچھ ٹوٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ہی جذبات کسی مسخرے کی تقویت کا باعث بنتے سنائی بھی دئیے جا سکتے ہیں۔ کیوں کہ جذبات بھی بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا رکھتے ہیں۔ بہت ہی قلیل لوگ ایسے ہونگے جن کے جذبات وقت کیساتھ پختہ ہوتے گئے ہوں اور وہ انہیں جذبات کو سنبھالے سنبھالے اور ساتھ لئے زندگی کی تمام منزلیں طے کرتے ہوئے آخری سفر پر روانہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان احساسات اور جذبات کو ساتھ رکھنے کی مد میں انہوں نے کیا کچھ کھویا ہو اور شائد ہی کچھ پایا ہو۔ مضمون الفاظ اور لہجے پر ہے اور جذباتوں نے جذباتی کردیا ہے ۔

ہمارا معاشرہ ہی ہماری دنیا ہے ،جس معاشرے پر نظر ڈالتے ہوئے اپنے اطراف میںدیکھتے ہیں جہاں ہمیں سب سے پہلے ہمارے گھروں میں موجود ٹیلی وژن پر ہر وقت نمودار رہنے والے ٹی وی کہ وہ میزبان دیکھائی دینگے جو اپنے الفاظ کیساتھ ساتھ لہجے سے بھی سنائی و دیکھائی جانے والی ایک غیر اہم خبر کو انتہائی اہم بنانے کی جستجو میں دیکھائی دیتے ہیں جس سے ناصرف لوگ ایک انجانے اور اندیکھے ہیجان کا شکار ہوتے ہیں اور یہ ہیجان مختلف کیفیات کی شکل اختیار کر کے منفی اقدامات کی جانب پیش قدمی کرتا چلا جاتا ہے اور پے درپے ایسی خبریں ہماری ذہنوں پر کیا اثر ڈال رہی ہیں ہمیں اس کا احساس نہیں ہورہا ہاں البتہ ہمارے مزاج مسلسل تند ہوئے جا رہے ہیں اور الفاظ مغلظات میں تبدیل ہورہے ہیں۔ ایک عام سی بات کیلئے بھی زور زور سے بولنا شروع کردیتے ہیں۔ اس طرح سے ہم اگلی نسل کو کیسے الفاظ اور کیسا لہجہ منتقل کر رہے ہیں ہمیں سمجھ آجانا چاہئے۔

یہ ایک ایسا موضوع ہے جو کہ اتنا غور طلب نہیں ہے جتنا غور طلب ہونا چاہئے، آج ہر فرد کسی نا کسی الجھن میں الجھا ہوا ہے ۔معاشرہ اجتماعیت کھوتا جا رہا ہے اور انفرادیت کی جانب تیزی سے سفر طے کر رہا ہے جس کیلئے ہمیں جن آلات کی ضرورت تھی وہ ہمیں مہیہ کردئیے گئے ہیںجن میں اول نمبر پر موبائل فون ہیے۔یہ تو بہت عام سی بات ہے کہ ایک ایک کر کے ختم کرنا آسان ہوتا ہے پہلے ٹیلی ویژن ہوا کرتے تھے جوکچھ بھی دیکھا جاتا تھا سب دیکھتے تھے مگر اب تو موبائل ہیں سب اکیلے اکیلے اور کیا دیکھ رہے ہیں یہ ایک دوسرے سے پوشیدہ ہے۔ معاشرہ اخلاقی طور سے تباہ ہوتا جا رہا ہے ۔

ایک خوبصورت سا باغ جس میں لگے پھول اوران پھولوں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبواس خوشبو سے لطف اندوز ہوتے لوگ پھر کہیں سے کسی نے اس باغ کے کسی کونے میں کچرا پھینکا اور دیکھنے والوں نے یہ کہہ کر کچھ نہیں کیا کہ یہ ہمارا مسلئہ تو نہیں ہے کچھ دنوں میں باغ کم کچرے خانہ دیکھائی دینے لگا اور پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو میں کچرے کی بدبو غالب آنا شروع ہوگئی دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی لاپرواہی کی بدولت ایک اچھا بھلا باغ کچرے کا ڈھیر بنتا چلا گیا۔ ہمارے معاشرے میں ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی موجود ہے جو بغیر کسی مخصوص وجہ کہ مغلذات بکتے رہتے ہیں، کبھی بھونڈے مذاق کیلئے کبھی کسی کی تضحیک کیلئے اور کبھی کسی معصوم پر بس ایسے ہی رعب ڈالنے کیلئے ۔ یہ ایسی گفتار ہے جس کی مماثلت کسی ایسی دھواں چھوڑتی گاڑی سے کی جاسکتی ہے جو ماحول کو باضابطہ طور پر الودہ کرنے پر سڑک پر نکالی گئی ہو اور لوگ سوائے اپنی اپنی گاڑیوں کے شیشیے اوپر کرنے کے یا پھر جلد سے جلد اسے کراس کرنے کے اور کچھ نہیں کرتے ۔ ان الفاظوں کا بھی استعمال بے دریغ کیا جاتا ہے جن سے کراہیت محسوس ہوتی ہے جیسے کسی رینگنے والے جاندار کو دیکھ کر ہوسکتی ہے۔

آخر معاشرے کو اس جانب گامزن کرنے میں کن عوامل کا کردار نمایاں ہے ۔ سب سے اول نمبر پر میڈیا پر موجود وہ پڑوسی ملک کی فلمیں جن میں تیسرے درجے کے معاشرے کی عکاسی اتنی بری طرح سے کی جاتی ہے (شائد وہاں ایسی ہی ہو) جو کہ عمومی سطح پر ناقابل قبول ہے ۔ معاشرے میں بے قاعدگیاں ، بدعنوانیاں اور میرٹ کا قتل عام بھی ایسی ذہن سازی کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرر ہے ہیں ۔شائد کچھ لوگ اس بات کو مضحکہ خیز قرار دیں کے ہمارے گھر میں ہونے والی گندگی میں بھی بیرونی ہاتھ کیسے ملوث ہوسکتا ہے ، جی بلکل ہوسکتا ہے ۔ میڈیا کے توسط سے جو ذہن سازی کی جارہی ہے اس کی بنیادیں کہاں جاکر ملتی ہیں۔
منددرجہ ذیل شعر میں شاعر نے معاشرے کی بے اعتنائی اور بے ثباتی کا کیا خوب ماتم کیا ہے ؛
تاثیر ہی الٹی ہے اخلاص کے امرت کی جس جس کو پلاتے ہیں وہی زہر اگلتا ہے
ایسے معاشرے میں جہاں الفاظ زہر بن کر من کو آہستہ آہستہ کھاتے جا رہے ہوں اور لہجے تلوار کی طرح تن کو زخمی کئے جا تے ہوں تو خاموش رہنا دستور زباں بندی پر کاربند رہنا عافیت کا سبب بن سکتا ہے ورنہ زندگی تو انکی بھی گزر جاتی ہے جنہیں عملی طور پر چلنے کیلئے کہا نہیں جاتا بلکہ ایک ڈنڈا یا ایک چابک رسید کی جاتی ہے۔ جہاں ہمارے کیلئے ملک کو بدعنوانوں سے پاک کرنا بہت ہی اہم معاملہ ہے بلکل اسی طرح ہمیںاس بات پر بھی بھرپور دھیان رکھنا ہے کہ اپنی آنے والی نسلوں کو کسطرح سے اس چنگل سے نکالنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *