جوڈیشل ایکٹیوازم تحریر: وصال محمدخان

جوڈیشل ایکٹیوازم
وطن عزیزپاکستان اس وقت ان گنت مشکلات ومصائب کاشکارہے غربت ،مہنگائی ،کرپشن اورامن ومان کے مسائل تورہے ایک طرف اب سیاسی عدم استحکام جیسی بلا بھی ملک کی گردن میں اپنے خونی پنجے پیوست کرچکی ہے بینظیربھٹوکی شہادت کے بعدہونے والے عام انتخابات میں جب پیپلزپارٹی کواکثریت حاصل ہوئی اوریوسف رضاگیلانی متفقہ وزیراعظم بنے توملک سیاسی استحکام کی جانب بڑھنے لگااوریہ امیدپیداہوئی کہ سیاستدانوں نے غیرجمہوری حکومتوں سے بہت کچھ سیکھاہے اورشائداب یہ آئندہ کیلئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے جمہوری روئیوں کامظاہرہ کرینگے اورملک میں جمہوریت پھلے گی پھولے گی مگراے بساآرزاکہ خاک شد یہ امیدیں اس وقت چکناچورہوئیں جب عمران خان الیکشن مہم میں سٹیج سے گرنے کے بعدبسترسے اٹھے اورانہوں نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھاتے ہی چارحلقوں کی گردان شروع کردی یہ چارحلقے بھی کھلے اورپورے الیکشن پراسیس کومشکوک بنانے کیلئے اسلام آبادمیں 126دن دھرنابھی دیاگیااس دھرنے کے دوران جوکچھ کیاگیاوہ ایک الگ کہانی ہے مگراس دھرنے کااختتام دھاندلی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے قیام پرہواجوڈیشل کمیشن کوگزشتہ عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے کوئی شواہدنہیں ملے آج عدلیہ کے خودساختہ ترجمانوں نے اس وقت جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کوجس بھونڈے اندازسے تنقیدکانشانہ بنایا وہ سب کچھ بھلایاجاچکاہے آج وہی لوگ عدلیہ کی محبت میں کچھ اندازسے بائولے ہورہے ہیں کہ عدلیہ کوجوڈیشل مارشل لاء کی دعوتیں دی جارہی ہیں اس ملک کے نام نہادسیاستدانوں نے ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں کاساتھ دیابلکہ غیرجمہوری قوتوں کوباقاعدہ آوازیں دے کربلایاگیاپھرانکی حکومتوں کومستحکم کیاگیاان کاساتھ دیاگیاوزارتیں سفارتیں اورمشاورتیں قبول کی گئیں اوریہ سب جمہوریت کی استحکام کے نام پربارباردہرایاگیاوطن عزیزمیں سب سے آسان کام کسی جمہوری حکومت کوگھربھیجناہے یہاں دوچارناکام سیاستدان مل کرسازشوں کے تانے بانے بھنتے ہیں کبھی فوج کواورکبھی عدلیہ کوحکومت سنبھالنے کی دعوت دی جاتی ہے فوج اقتدارپرقبضہ کرلیتی ہے عدلیہ اسے آئینی تحفظ فراہم کرتی ہے ناکام ونامرادسیاستدانوں کی مرادبرآتی ہے اوروہ جمہوریت کے نام پراقتدارمیں شامل ہوجاتے ہیں کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعدانہی سیاستدانوں کوجمہوریت کی یادستانے لگتی ہے کبھی عدلیہ کی بحالی اورکبھی جمہوریت کی بحالی کے نام پرتحریک شروع کی جاتی ہے عام اورسادہ لوح لوگوں کاخون بہایاجاتاہے چندلاشیں گرنے سے جمہوریت بحالی تحریک کومہمیزملتی ہے غیرجمہوری قوتیں اقتدارسے الگ ہوجاتی ہیں ملک میں عام انتخابات منعقدہوتے ہیں انتخابات انجنئیرڈہوں توپسندکی سیاسی جماعت کوحکومت بنانے کاموقع میسرآتاہے انتخابات شفاف ہوں توعوام کی ووٹ سے کوئی سیاسی جماعت حکومت بناتی ہے ناکام سیاستدانوں کواس حکومت میں حصہ ملتاہے توواہ واہ اورجمہویت زندہ بادکے نعرے لگتے ہیں انہیں وزارت نہیں ملتی تودوبارہ غیرجمہوری قوتوں کودعوت کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے اس ملک کے سترسال کاعرصہ اسی میں گزرگیاکبھی ہمیں جمہوریت کے نام پرآمریت کے آگے ڈال دیاجاتاہے کبھی براہِ راست فوجی آمریت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں دھکیلاجاتاہے اورکبھی عدلیہ کوجوڈیشل مارشل لاء لگانے کیلئے بلاوے دئے جاتے ہیںاگر آج اسی عدلیہ نے جوڈیشل مارشل لاء کی دعوتیں دینے والوں کامحاسبہ شروع کیادوچارناکام ، نامراداورنام نہادسیاستدانوں کوسزائیں دیں توکل انہیں دوبارہ جمہوریت کادورہ پڑجائیگااورجمہوریت کی یادستانے لگ جائیگی اس ملک کے سیاستدان اگرحقیقی معنوں میں سیاستدان ہوتے ،جمہوریت پسندہوتے اورووٹ کی تقدس کوپہچانتے تویہ کبھی اپنی لڑائیاں عدالتوں میں نہ لڑتے سیاستدانوں کی لڑائیاں ہمیشہ پارلیمنٹ کے اندرہوتی ہیں دنیاکی پارلیمنٹوں میں ایک دوسرے کوکرسیاں تک ماردی جاتی ہیں مگروہاں عدلیہ یافوج کومارشل لاء لگانے کی دعوتیں نہیں دی جاتیں اوران سے مداخلت کیلئے اپیلیں نہیں کی جاتیں موجودہ پارلیمنٹ میں اگرچہ ایک جماعت کواکثریت حاصل تھی اوروہ یہ اکثریت اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتی رہی مگر2014کے دھرنوں کے دوران سنگل لارجسٹ پارٹی بھی پارلیمنٹ کی مدت چارسال کرنے پرتیارنظرآرہی تھی جمہویت اورپارلیمنٹ کی بالادستی کے موجودہ چیمپئینزکواس وقت سانپ کیوں سونگھ گیاتھایہ آگے بڑھتے اورپارلیمنٹ سمیت وزیراعظم کی مدت چارسال کردیتے توبے صبری میں عدلیہ کومارشل لاء لگانے کیلئے آوازیں دینے کی ضرورت کاخاتمہ ہوجاتاپارلیمنٹ کی مدت کم کرنے سے سیاستدانوں کوصبربھی آجاتااورہرحکومت کے اقتدارسنبھالتے ہی جانے کی تاریخیں سامنے نہ آتیں جمہوریت کے ثمرات سے یہ ملک اوراسکے عوام تب مستفیدہوسکتے ہیں جب یہاں ہرپارلیمنت اپنی آئینی مدت پوری کریگی مقررہ وقت پرنئے انتخابات ہونگے اورنئی منتخب کردہ حکومت کواپنی پالیسیوں پرعملدرآمدکرنے کے مواقع دستیاب ہونگے وقت مقررہ کے بعدعوام ہی اس حکومت یاپارٹی کی قبولیت کافیصلہ کرے اورعوام ہی احتساب کرے اس طرح دوچارعام انتخابات کے بعدیقیناً یہاں جمہویت بھی مستحکم ہوگی اوراسکے ثمرات سے بھی عوام مستفیدہوسکیں گے کسی حکومت کے عنان اقتدارسنبھالتے ہی اسکے پیچھے ہاتھ دھوکرپڑنے سے ناہی توجمہوریت مستحکم ہوسکی ہے اورناہی عوام یاملک کوکوئی فیض حاصل ہوسکاہے ستربرسوں میں ناہی پاکستانی قوم کوخدا ملااورناہی وصالِ صنم اقتداراورحکومتوں کی اس کھینچاتانی میں ملک کے قابل احترام اداروں نے بھی اپنی وقعت کھودی عدلیہ جیسے ادارے ،معززجج صاحبان اورملک کیلئے خون کے نذرانے دینے والے فوجی تک تنقیداورسیاسی بیانات کی زدمیں ہیں وہ ادارے جن کانام بغیروضو لیناگناہ سمجھاجاتاتھاآج جلسوں میں ان پرکڑی تنقیدہوتی ہے پانامہ فیصلے کے بعدتواس سلسلے میں بیحدتیزی آئی ہے پانامہ کیس میں ہاتھ ڈالنے کے بعداب معززجج صاحبان عوامی اجتماعات میں اپنی پارسائی کی قسمیں اٹھانے پرمجبورہورہے ہیں اس سے بہترنہیں تھاکہ عدالت ِ عظمیٰ اسی وقت اس کیس کوسننے سے انکارکردیتی اورپارلیمنٹ کوحکم دیاجاتاکہ وہ اس سلسلے میں واضح اوردوٹوک قانون سازی کرے عدلیہ پربے جابوجھ نہ ڈالاجائے اوراسے سیاسی آماجگاہ بنانے سے گریزکیاجائے پارلیمنٹ کوئی ٹھوس اور مئوثرقانون سازی کرتی اسکے بعدعدالت قانون کے مطابق پانامہ کیس سنتی اورقانون وآئین کے مطابق ہی کوئی فیصلہ آتاتوآج ہرکس وناکس عدلیہ پرتنقیدکے نشتر نہ برساتا،عدالت عالیہ کے فیصلے کوکمزورفیصلہ نہ قراردیاجاتا،عدلیہ کومقننہ کی قانون سازی مستردنہ کرناپڑتی ،عدلیہ کے خودساختہ ترجمان جوڈیشل مارشل لاء کی آوازیں نہ لگاتے ،جج صاحبان صفائیاں نہ دے رہے ہوتے اورملک انارکی کی جانب گامزن نہ ہوتاآج ضرورت اس امرکی ہے کہ عدلیہ جوڈیشل ایکٹیوازم کے تاثرکوزائل کردے سیاسی کیس لینے کی بجائے سیاستدانوں کوپارلیمنٹ کاراستہ دکھادے پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی قانون سازی کومستردکرنے کی بجائے اس میں اصلاحات تجویزکریں اورقوانین کے سقم دورکرنے کیلئے پارلیمنٹ کوسفارشات دے سیاسی کیسوں میں الجھ کرعدلیہ کی توجہ اپنے حقیقی مقصد یعنی عوام کوانصاف کی فراہمی سے ہٹ رہی ہے دیگراداروں کی طرح عدلیہ پربھی سیاسی مداخلت کاالزام آتاہے جس سے اسکے احترام اورتقدس پہ زدپڑنالازمی امرہے ریاست کے کسی بھی ادارے کی جانب سے ایکسٹراایکٹیوازم ریاست کے مفادمیں نہیں چاہے یہ جوڈیشل ایکٹیوازم ہویاکوئی اور۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *