“تعلیمی اداروں ، ہو سٹلز و دینی مدارس میں جنسی سکینڈلز لمحہ فکریہ” تحریر : محمد حنیف تبسم

“تعلیمی اداروں ، ہو سٹلز و دینی مدارس میں جنسی سکینڈلز لمحہ فکریہ”

اسلامی فلاحی مملکت خداداد پاکستان و ریاست جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی عرصے سے تواتر کے ساتھ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں طلبا ء و طالبات کے ساتھ جنسی سکینڈلز کے واقعات قومی اور بین الاوقوامی میڈیا میں رپورٹ ہونےکے ساتھ ساتھ سو شل میڈیا پر تیزی سے وائر ل ہو رہے ہیں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ان واقعات میں کمی کی بجائے دن بدن اضافہ ہر ذی شعور کے لیےتشویش نا ک امر ہے اور جو اپنی عزت کے خوف سے رپورٹ نہیں کر رہے ہیں ان کی تعداد نہ جانے کتنی ہے ۔عالمی دنیا تو ہم کو پہلے ہی دہشت گر د قرار دے چکی ہے اب ا ن جنسی واقعات کی وجہ سے ہم کن کن القابات سے نواز جارہا ہے وہ تحریر سے باہر ہے چونکہ ہم اسلام کے ماننے والے سزاو جزا پر اٹل یقین کرنے والے اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے والے ، روز جزا و سزا کے دن پر ایمان لانے والے اور انسانیت سے پیا ر کرنےوالے دین کے پیرو کار ہیں جب ہمیں یہ بتایا گیا کہ کسی ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل تصور ہو گا تو پھر مغرب اور دیگر ممالک و مکاتب فکر کے حامل اقوام وفراد یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ تم اپنا قبلہ تو درست کر نہیں سکتے چلے ہو ہمیں سکھانے یقیناً اقوام عالم کے سامنے نہ کردار کے غازی رہے ہیں نہ گفتار کے غازی رہے ہیں چونکہ ہمارے ملک میں صرف فوری نوٹس لینے کا عمل رواج پاچکا ہے جہاں پر اس طرح کا واقعہ رونما ہوتا ہے انتظامیہ حکومت اور بعض اوقات عدلیہ فوری نوٹس تو لے لیتی ہے مگر فوری عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف آج جنسی ہراساں و تشدد گلی کوچے محلے سے نکل کر تعلیمی اداروں اور دینی مدارس و درسگاہوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن اسلامی ریاست میں جنسی تشدد کے واقعات رونما نہ ہورہے ہوں چونکہ ان معاملات میں سخت قانون سازی اور سزا ؤ ں پر عملدرامد نہ ہونا جنسی بھیڑیوں اور انسانی شکل میں ملوث حیوانوں کے لیے دیدہ دلیری کا باعث بن رہے رہیں سوچ رہا ہوں کہ کس واقعہ سے شروع کر کے کس واقعہ پرختم کروں آج سے تقریباً ایک عشرہ قبل لاہور میں100بچوں کے ساتھ زیادتی کرکے ان کوقتل اور پھر تیزاب میں ڈال کر مارنے والے انسانی شکل میں درندہ کو سزا ہوئی جو اپنی سزاکے دوران ہی جیل میں کن خفیہ ہاتھوں کے ذریعے موت کے منہ میں چلا گیا اآج تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ100ماؤں کے لخت جگر کے قاتل کو گرفتاری کے بعد کوئی موقع دیے بغیر سب کے سامنے نشان عبر ت بنایا جاتا تو شاید اآج اسلام آباد کی نسرین ،مردان کی اسماء ، قصور کی بے قصور زینب اور کشمیری شازیہ جنسی درندگی سے بچ جاتیں صد افسوس آج تک حکومت کی طرف سے جنسی درندوں کے خلاف کئی سخت اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے جس کو دیکھ کر دوسرے نشان عبر ت بنتے جس طرح سعودی عرب ، چین اور دیگر مغربی ممالک میں بچوں ، عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی و قتل پر سخت سزائیں دینے کا قانون رائج ہے لیکن ہمارے ہاں صرف ٹرائل اور جنسی پھر جیل بھیج کر کسی نئے واقع کا انتظا ر کیا جاتا ہے اگر آج ہماری عدالتیں جنسی زیادتی و قتل کے معاملات پر فوری سزاو جزاکا عمل شروع کر دیں تو کتنے گھرانوں کی عزتیں بچ سکتی ہیں افسوس کے ساتھ تحریر کرناپڑ رہا ہے ملک میں مکمل طور پر جنسی درندوں کے لیے سزا و جزا نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملات سب سے مقدس مقامات جہاں سے انسان اپنے شعور کی پہلی منزل پر قدم رکھتا ہے وہاں پر بھی پہنچ چکے ہیں قوم لوط کے پیروکار دندناتے پھر رہے ہیں جن کو لگتا ہے کوئی پوچھنےوالا نہیں ہے ایک خبرکے مطابق اب درمیانے درجے کے سکولز و کالجز میں ڈانس و مکس پارٹیاں شروع ہو چکی ہیں ایلیٹ کلاس کے بڑے بڑے سکولز و کالجز میں تو یہ کب سے جاری و ساری تھیں چو نکہ صحافی فیلڈ میں جنسی زیادتی کےشکار بہت سے معاملات کو آبزرو کر چکاہوں اور اب جب کبھی کبھار اُن واقعات میں ملوث جنسی درندوں کو آزاد ی سے گھومتا پھرتا اور کسی اور گھر کی عزت کو اُچھالنے کے لیے آزاد گھومتا دیکھتا ہوں تو اپنے آپ سے سوال کرتاہوں کیا ہم ایک اسلامی ریاست میں رہ رہے ہیں؟؟؟چند دن قبل پاکستان کے ایک بڑے مصدقہ ڈیجٹل چینل پر ایک خبر رپورٹ ہوئی کہ کچھ عرصہ قبل بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں سرائیکی کی ایک طالبہ کے ساتھ اُس کے یونیورسٹی فیلواور نام نہا د لور نے جنسی زیادتی اور ویڈیو بنا کر نہ صرف اسے اپنے لےے بلیک میل کرنے لگا بلکہ بلکہ اس کا م میں اپنے دیگر دوستوں اور یونیورسٹی کے لیکچرر کو بھی شامل کرلیا صد افسو س کے ایک روحانی باپ اپنی ایک طالبہ کےساتھ جنسی ہراسگی پرا تر آیا نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا بلکہ لیکچرار موصوف اس کی ویڈیو سہارا بنا کر بلیک میلنگ پر اتر آیا بالآخر جب اُس طالبہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو وہ میڈیا کے سامنے آئی جس کے بعد ہوس کے پجاریو ں کا ٹولہ گرفتار ہوا لمحہ بھر کے لیے درسگاہوں میں آنے والے اس ہوس کے پجاری ٹولے اور بالخصوص معلم /لیکچرار کو لمحہ بھر کے لیے اپنے پیشے کا خیال نہیں اس کو لمحہ بھر کے لیے اپنی ماں بہن بیٹی کا خیال نہیں آیاانہی نام نہاد استادوں کی وجہ سے ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے بہرکیف اس واقعے کے رپورٹ ہونے کے بعد میں نے ذاتی طورپر یونیورسٹی میں زیر تعلیم دوستوں سے رابطہ کر کے واقعہ کی اصلیت کے بارے میں پوچھا توایک دوست نے طالبہ کی ویڈیو جو اس نے میڈ یا کو اپنابیان ریکارڈ کروایا جس میں وہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ یونیورسٹی کے پروفیسر نے اُس کی بہت ہتک کی اور میڈیا کے سوال کے جواب میں بھیگی آنکھوں سے التجا ء کی کہ اُ س کی زندگی تباہ کرنے والے ساتھیوں اور پروفیسر کو سر عام پھانسی دی جائے جنہوں نے بلیک میل کر کے اس کی زندگی تباہ کردی ہے بہرکیف متعلقہ دوست نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ تو ایک واقعہ ہے جو رپورٹ ہو گیا نہ جانے کتنے ایسے واقعا ت رونماہوتے ہیں جن کی کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہوتی یا پھر مزید عزت کی نیلامی سے بچنے کے لیے چپ سادھ لی جاتی ہے مجھے یہ لکھنے میں کوئی عارنہیں کے کچھ عرصہ کے بعد یہ ٹولہ پھر جیل کی سلاخوں سے باہر آزاد گھومتا ہوا نظر آئے گا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کو عمر قیدیا پھر سرعام پھانسی کی سزا ہو لیکن ایسا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آرہا ہے اس سے قبل بھی پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی ایک معروف یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کے ہاتھوں طالبہ کے ساتھ زیادتی کی خبر اخبارات کے فرنٹ صفحات کی زینت بن چکی ہے اس کے علاوہ نہ جانے کتنی خبریں ہیں جورپورٹ ہوئی ہیں لیکن کچھ دنوں کے بعد معاملہ گول مول ہو گیا ۔ کچھ عرصہ قبل اس طرح آزاد کشمیر کے دارلحکومت میں ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ رونما ہوا جس کے بعد کچھ عرصہ مظاہرے ہوتے رہے لیکن جنسی ہوس کے پجاری صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے لیکن شاید یہ وہ بھول گئے کہ یہ بیج انہوں نے بویا ہے اسے کاٹے گا کوئی اور اور مالک کی اُس عدالت سے کس طرح رہائی ملے گی یہ شاید وو بھول گئے اور پھر چند دن قبل اسی دارلحکومت میں گرلز ہاسٹل میں طالبہ کے ساتھ زیادتی معہ ملی بھگت وارڈن رپورٹ ہوئی لیکن اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی صد افسوس اب تعلیمی اداروں او رہوسٹلز پر عوام اور والدین کا اعتماد ایسے واقعات کی وجہ سے متزلزل ہو رہاہے ابھی ایک خبر سامنے سے گزری جس نے ہلا کر رکھ دیا کہ لاہورکے ایک دینی مدرسے میں قوم لوط کی یاد تازہ کر دی ایک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس دینی مدرسے میں اساتذہ نے ڈیڑھ سو بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا لاہور کے نواب ٹاؤن میں واقعہ اس مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کے ساتھ کئی برسوں سے یہ شیطانی کام جاری تھا اس کا بھانڈہ اس وقت پھوٹا جب دو اساتذہ نے (م) نامی طالب علم کو اپنی جنسی ہوس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ ان کے چنگل سے نکل گیا اور اپنے اہل خانہ کو ساراماجرا بتایاجنہوں نے کمال ہمت و دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کو واقع کی روپورٹ کی جس کے بعد متعدد طالب علم سامنے آئے جنہوں نے اپنے ساتھ ہونےوالی زیادتیاں بیان کیں پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے قاری (ن) اور قاری (ع) نامی جنسی درندوں کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے یہاں قلم بھی لکھنے سے قاصر ہو چکات ہے کہ سب سے مقدس پیشے سے منسلک افراد جنسی درندے بن کر قوم کی کلیوں کو نوچنے لگے ہیں میں یہ ہر گز نہیں کہتا ہوں کہ پانچوں انگلیاں برابر ہیں اچھو ں کے سے ساتھ برے اور بُروں کے درمیان اچھے ہمیشہ سے رہے ہیں ۔ یہاں پر مفید تجاویز دینا بھی لازمی سمجھتا ہوں کہ جس طرح تعلیمی اداروں اور دینی درسگاہوںمیں روز بروز ان شعبوں میں منسلک چند افراد کی طرف سے جنسی درندگیوں کے واقعات سامنے آرہے ہیں اس کے لیے تعلمی اداروں کے سربراہان اور تمام اساتذہ پروفیسرز اور لیکچرار صاحبان کے طرف سے نہ صرف مزمتی بلکہ ایسے کالے کرتوتوں کے حامل افراد کے لیے قرار واقعی سزا کے حق میں قرار داد سامنے آنی چاہیے جو اس مقد س شعبے کو بدنام کر رہے ہیں دوسری طرف دینی مدارس کے مہتمم حضرات ، تمام مکاتب فکر کے حامل علمائے کرام ، حفاظ ، پیران عظام ، علما ئ و مشائخ ونگ و کونسلرز کے افراد کو باہم مل کر بٹھانا ہو گا اور اس معاملے کا فوری حل نکالنا ہو گا اور ایسے اساتذہ کی سرکوبی کے عمل کو تیز کرناہوگا اور طلباء و طالبا ت میں شعور اجاگر کرناہوگا کہ اگر کسی استاد کی طرف سے اسطرح کا کوئی معاملہ ہو تو اس کو بلاخوف و خطر رپورٹ کریں اس کے لیے مدارس و اداروں میں باقاعدہ لیکچرز کا اہتمام کرناہوگا اس معاملے پر علماء و مشائخ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے دینی درسگاہوں میں ایسے قبیح اور قوم لو ط کے پیروکاروں کو قرار واقعی سزا دلوانا ہوگی اور عالم اسلام اور عالم اقوام کو یہ پیغام دینا ہو گا کہ ابھی ہم زیادہ سوئے ہوئے نہیں ہیں دوسری تجویز کے میڈیا ، خفیہ اداروے ، حکومت اور عدلیہ کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا ۔ خفیہ اداروں کو اپنا دائرہ اختیار اور افرادی قوت کو مزید موثر کرنا ہوگا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرنا ہو گی کیونکہ یہ ہمارے اور قوم کے مستقبل کے ساتھ گھناؤ نی سازش ہے میڈیاجب ان معاملات کو رپورٹ کرتا ہے تو ابتداء سے لے کر انتہا تک پیچھا کرنا ہوگا اور قرار واقعی سزا کی خبربھی رپورٹ کرناہوگی عوام کو میڈیا کا شکر گزار ہونا چاہیے جس کی بدولت ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن پر کوئی نہ کوئی ایکشن بھی ہوتا ہے حکومت کو فوراً ایسے معا ملات پر بغیر کسی دباؤ کے قرار واقعی سزاؤں کا انتخاب کرنا ہوگا اور اعلی عدالتوں کو ایسے معاملات پر فوری سزاؤں کا اطلاق کرکے قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا اس میں ہم سب کی بقاء ہے نہیں تو ہمارا نام و نشان بھی نہ ہوگا داستانوں میں۔ آخر میں ایک قول قارئین کی نظر “خلیفہ ہارون الرشید نے ایک مرتبہ دانا بہلول سے پوچھا چور کے بارے میں کیا حکم ہے بہلول نے کہا عالیجاہ اگر چور پیشہ ور ہو تو اسکا ہاتھ کاٹ دینا چاہیے اگر چوری مجبوری میں کی ہوتو حاکم وقت کی گردن اڑا دینی چاہیے ”
تحریر : محمد حنیف تبسم جرنلسٹ /کالم نویس / بلاگر
[email protected]ای میل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *