آپنے ہمارے لیے کیا کیا؟ تحریر: مسزجمشیدخاکوانی

آپنے ہمارے لیے کیا کیا؟

وہ پانچ سالہ بچہ اچانک ہی کلاس میں بے ہوش ہو گیا تو ٹیچرز کے بھی ہاتھ پاؤں پھول گئے جلدی سے اس کے گھر فون کیاحواس باختہ والدین فوراپہنچ گئے بچے کو ہاسپٹل لے جایا گیا مختلف ٹیسٹ ہوئے تو پتہ چلا بچے کا شوگر لیول 500تک پہنچا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہوا اتنا چھوٹا بچہ اور پوری زندگی؟؟؟ پاکستان میں اب ہر چوتھے بندے کو شوگر ہے اس میں مرد عورت بوڑھے بچے کی کوئی تشخیص نہیں امیر غریب کی بھی نہیں صرف یہ ہے کہ امیر دوائیوں کے سہارے زندگی کے دن کچھ بڑھا لیتے ہیں اور غریب بغیر علاج کے مر جاتے ہیں اسی طرح ہیپا ٹائٹس سی اور بی جسے کالا یرقان کہتے ہیں وہ جنوبی پنجاب میں ہر تیسرے بندے کو ہے اس کی وجہ محض صاف پانی کا نہ ہونا ہے پانی میں سنکھیا کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے لوگ جانوروں کے ساتھ پانی پینے پر مجبور ہیں اور شرح اموات بڑھتی جا رہی ہے اسی طرح کینسر جیسا موذی مرض جو ایک دو دہائیاں پہلے فلموں میں نظر آتا تھا جب ہیرو ہیرئن کو جدا کرنا ہوتا تو کسی ایک کو کینسر میں مبتلا دکھایا جاتا فلم میرا نام ہے محبت ایک سپر ہٹ فلم تھی ہم چھوٹے تھے سینما جانے کی اجازت نہیں تھی لیکن منتوں ترلوں سے صرف اس لیے ابا جی کے ساتھ فلم دیکھنے گئے کہ بابرہ شریف کو کینسر کیسے اور کیوں ہو گیا ابا جی کے ڈر سے رومانی سین تو دیکھ نہ سکے البتہ مرنے والا سین نصیب ہو گیا وہ بھی رو رو کے ہچکیوں کی نذر ہو گیا تو اس وقت کینسر بہت نایاب تھا اس لیے فلموں میں فلم بین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ڈالا جاتا تھا لیکن آج کینسر اتنا بڑھ چکا ہے کہ جو بندے ایک ماہ کے اندر چٹ پٹ ہو جائیں پتہ چلتا ہے جی ان کو تو کینسر تھا بابرہ شریف کو تو جھوٹا کینسر تھا شہباز شریف کو تو سنا ہے سچ مچ کینسر ہے لیکن وہ بفضل تعالیٰ سلامت ہیں بلکہ مخالفین کے سینے پر مونگ دلتے نظر آتے ہیں کسی نے ایک تحریر بھیجی ہے پتہ نہیں کس اللہ کے بندے کی ہے لیکن یہ کالم لکھنے کا محرک بن گیا یہ 1970کا واقعہ ہے جب چین کے صدر کو کینسر کا مرض لا حق ہو گیا صدر صاحب نے ڈاکٹر کو کہا میں علاج بعد میں کرواؤنگا پہلے مجھے یہ بتاؤ کینسر ہوتا کیوں ہے؟صدر ڈاکٹر کے جواب سے مطمعن نہ ہوا تو صدر صاحب نے چین کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ،آکسفورڈ یونیورسٹی اور امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کو بیماریوں کی وجوہات معلوم کرنے اور ان کے قدرتی طریقہ علاج ڈھونڈنے پر لگا دیا انہوں نے پچیس سال بعد اس تحقیق کو 2005میں کتابی شکل میں امریکہ سے شائع کیا ویسے
(یہاں مصنف نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اتنے لمبے عرصے میں صدر صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے یا ان کا علاج ہوا )بحرحال یہ کتاب نیشنل بیسٹ سیلر رہی اس کتاب کا نا م’’ دا چائنا سٹڈی ‘‘ رکھا گیا چائنا سٹڈی کے سائنس دانوں نے سب سے پہلے دنیا میں ایسے علاقے معلوم کیے
جہاں کے لوگ سو سال سے زیادہ زندہ رہتے ہیں اور کبھی بیمار نہیں ہوتے آزاد کشمیر کی وادی ہنزہ بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں کے لوگ بیمار ہوئے بغیر سو سال سے زیادہ زندہ رہتے ہیں چائنا سٹڈی کے لوگوں نے ہنزہ کے لوگوں کے کھانے کے انداز معلوم کرنے کے بعد
دنیا میں سب سے زیادہ بیمار رہنے والے لوگوں کے علاقے معلوم کیے جہاں کے لوگ کسی نہ کسی بڑی بیماری کا شکار رہتے ہیں ان میں ایک جگہ امریکہ میں ہے جہاں پہ انڈین لوگ رہتے ہیں ان میں ہر کوئی کینسر،ہارٹ ،بلڈ پریشر ،شوگر ،گردوں اور جوڑوں کے درد کا مریض ہے
چائنا سٹڈی کے لوگ وہاں پہنچ گئے اور ان لوگوں کو اس خوراک پر لگا دیا جو ہنزہ کے لوگ کھاتے ہیں اور ان کی پرانی خوراک بند کر دی چھ ماہ ہی اس خوراک کو کھانے سے ان کی تمام بیماریاں ختم ہو گئیں اور وہ بالکل صحت مند ہو گئے ان کی دوائیوں سے جان چھوٹ گئی ا�آپ سوچیں گے ہنزہ کے لوگ ایسا کیا کھاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بیمار نہیں ہوتے وہ صرف خدا کی بنائی قدرتی خوراک فروٹ کچی سبزیاں اور میوے کھاتے ہیں اور جو خوراک فیکٹریوں سے گذر کر آتی ہے یعنی پراسس شدہ ہوتی ہے ایسی خوراک بالکل نہیں کھاتے یہ ہے صحت مند زندگی کا راز جس کو معلوم کرنے اور دنیا کے ہزاروں کینسر ،شوگر ،ہارٹ ،بی پی ،فالج ،گردوں ،جوڑوں ،ہیپا ٹائٹس ،معدے ،ہاضمے قبض آنکھوں اور جلد کے مریضوں کو ایسی خوراک چھ ماہ تک کھلا کر مکمل صحت یاب کرنے اور دوائیوں سے جان چھڑانے اور خوراک کے فوائد کو
ثابت کرنے پر چائنا ،برطانیہ اور امریکہ کی تین یونیورسٹیوں کے پچیس سال لگے یہ کتاب ’’دا چائنا سٹڈی ‘‘ گوگل سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے 2004میں ہارٹ کے چار بار بائی پاس اپریشن ہوئے 2005 میں پھیپھڑوں کا آپریشن 2010 میں دو بار ہارٹ میں سٹنٹ رکھے گئے تو بل کلنٹن مرنے کے قریب لا علاج مریض بن گئے تو وائیٹ ہاؤس کے ڈاکٹروں نے آخری حربے کے طور پر صدر صاحب کو چائنا سٹڈی والی خوراک پر لگا دیا پانچ ماہ میں ہی صدر صاحب بالکل ٹھیک ہو گئے اس بات کا ثبوت بل کلنٹن کے سی این این چینل کو دیے گئے انٹرویو میں دیکھ سکتے ہیں اس خوراک کے کرشماتی اثرات دیکھ کر صدر صاحب نے بل کلنٹن فاؤڈیشن کے تحت یہ پرا جیکٹ بنایا کہ میں جب تک زندہ ہوں امریکہ کے ہر اسکول میں جا کر بچوں کو صحت مند زندگی کا راز ضرور بتاؤنگاکہ فروٹ کچی سبزیاں اور میوے کھاؤ (ہمارے خادم اعلی کہتے ہیں بس میٹرو اور اورنج ٹریں میں جھوٹے کھاؤ)اور فیکٹریوں سے گذری ہوئی پراسس شدہ خوراک بالکل نہ کھاؤ میں نے سوچا اگر یہ اتنی سچی حقیقت ہے تو قران کریم میں ضرور ہوگی دیکھیے سورۃ عبس ایت 24 تا 32پس انسان کو چاہیے کہ اپنی خوراک کی طرف دیکھے بیشک ہم نے خوب زور سے پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو پھاڑ کر چیر ڈالا اس میں اناج اگایا انگور ،سبزیاں ،زیتون اور کھجور اور گھنے گھنے باغات طرح طرح کے پھل میوے اور تمھارے مویشیوں کے لیے چارہ ،قران پاک کی ان آیات مبارکہ میں
انسان کی خوراک کے طور پر اناج کے بعد تین چیزوں پر زور دیا گیا فروٹ کچی سبزیاں اور میوے یہ صرف مرکزی خیال ہے مزید تفصیل کے لیے کتاب پڑہیں یا ڈاکٹر بسوا روپ کے لیکچر سن لیں آجکل انڈیا کے جس ڈاکٹر بسوا روپ کو بیس ہزار شوگر کے مریضوں کو انسولین سے نجات دلوانے کے سلسلے میں ہیلتھ کا آسکر ایوارڈ دیا گیا انہوں نے چائنا سٹڈی والی کتاب کو لیکچرز کی شکل میں ساری دنیا میں پھیلانے کا زمہ لیا ہوا ہے (جس طرح ہمارے نااھل شریف نے ساری دنیا کو بتانے کا زمہ لیا ہے کہ مجھے کیوں نکالا )یہ لیکچرز آپ یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں اللہ ہمارے لیڈران کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ اپنی عوام کی صحت اور تعلیم کے لیے کچھ کریں مگر اس کے لیے بھی تو نیت صاف ہونا ضروری ہے تو اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں آخر ان لوگوں نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے جھوٹے وعدے سہانے خواب ،سبز باغ کوئی ایک کام تو ایسا کر جاتے جو انہیں تاریخ میں زندہ رکھتا ، ! مسزجمشیدخاکوانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *