امریکی قاتل یا معصوم پاکستانی، اہم کون؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

ایک اور امریکی سفارتکار نے ایک معصوم پاکستانی شہری کو طاقت کے نشے کے زعم میں کچل دیا۔ اب سفارتی استثناءکی آڑ میں امریکی ڈیفنس اتاشی کرنل جوزف کو باعزت واپس کرنے کی جس طرح کوششیں ہورہی ہیںاس پر اعلیٰ عدلیہ کو بھی برہمی کا اظہار کرنا پڑا۔اگر سفارتی استثناءکی آڑ میں فیس سیونگ (Face Saving) نہ مل سکے تو دیت کے شرعی قانون کی زبردستی غریب خاندان پرہورہی ہے۔ یہ سانحہ الیکشن سے پہلے پاکستانی سیاسی ضمیر کا امتحان ہے کہ یہ سیاستدان عوام کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں یا ریمنڈڈیوس کے معاملے کی طرح ملکی اور اسلامی قوانین کا ایک مرتبہ پھر مذاق بناتے ہیں۔ عوام ان خاموش سیاستدانوں کو بھی دیکھ لیں جن کی نظر میں پاکستانیوں کے خون کی کوئی حیثیت نہیں مگر امریکی کو بچانے کے لئے ساری مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ اس موقع پر سیاسی قیادت کی خاموشی شرمناک ہے، صرف امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے سینیٹ میں تحریک التواءجمع کراکے قومی فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
جو لوگ سفارتی استثناءکی بات کرتے ہیں تو وہ جواب دیں کیاقاتل کو استثناءحاصل ہوتا ہے؟قاتل کو سفارتی استثناءحاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں(DUI) یعنی نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے کا استثناءحاصل ہوتا ہے۔پانچ سال قبل فروری 2013 ءمیں بھی کرنل جوزف کی طرح من و عن ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا۔جب امریکی سفارتخانے کی ایک گاڑی نے اسلام آباد میں ٹریفک سگنل توڑ کر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے ایک ملاز م کو کچل دیا تھا جس کی وجہ سے وہ موت کی آغوش میں چلاگیا تھا۔مگر کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی کیونکہ قاتل امریکی تھا۔ اب ایک اور امریکی نے ایک اور پاکستانی کو شہید کردیا ہے۔
یہ غیرذمہ دارانہ عمل آخر پاکستان میں ہی کیوں؟ اس لئے کہ ہمارے حکومتی آلہ کار مفاد پرست اور غیرت سے عاری ہیں ۔ امریکی مجرم کی رہائی اور دادرسی کے لئے ہر قانونی یا غیرقانونی نجات کا راستہ (Loophole) اختیار کیا جاتا ہے مگر اپنے معصوم ہم وطنوں کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔عافیہ کو بھی مکمل استثناءحاصل تھا، وہ صرف اور صرف پاکستانی شہری ہے۔ افغانستان سے امریکہ منتقل کرکے عافیہ پر مقدمہ چل ہی نہیں سکتا تھا۔ آج پھر پاکستانیوں کی عزت اور جان کے تحفظ کا سوال ہے۔ عوام عافیہ کی وطن واپسی چاہتے ہیں۔ اگر کرنل جوزف کو استثناءدیا جاتا ہے تو مجھے بتائیں عافیہ کا مقدمہ امریکہ میں کیوں چلا؟ وہ امریکی شہری نہیں اور اس کا پورا حق تھا اسے پاکستان بھیجا جائے۔ اسی ویانا کنونشن کے تحت جس کے تحت کسی سفارتکار کو استثناءدیا جاتا ہے۔ اگر کسی پاکستانی سفارتکار نے کسی امریکی کو اس طرح کچلا ہوتا تو کیاامریکی قوم سراپا احتجاج نہ ہوتی؟ کیا کوئی پاکستانی سفارتکار امریکہ میں ٹریفک سگنل توڑنے کا تصور بھی کرسکتا ہے ؟
یہ کیسا انصاف ہے کہ امریکی قتل کریں، غارتگری کریں اور آزاد گھومیں مگر دختر پاکستان کو گولی ماریں اور الٹا اس کو ہی قید کردیں؟ ہمارے ملک میں قانون اس قدر کمزور کیوں ہے کہ پاکستانیوں کو گولی مارنے اور گاڑی سے کچلنے والوں خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوتی ؟ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوئی تھی؟کرنل جوزف کو محفوظ راستہ فراہم کرکے امریکیوں کو پاکستانیوں کو قتل کرنے کا لائسنس (Licence to Kill) نہ دیا جائے۔ اگرکرنل جوزف کو واپس کرنا مجبوری ہے تو سودا کرنے والے سودا تو باعزت کریں۔ قوم کی بیٹی معصوم عافیہ15 سال سے امریکی جیل میں ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نے The Contrctor کتاب لکھ کر اس وقت کی قومی قیادت اور پاکستانی عوام کی توہین کی ہے۔ اب یہ تاریخ نہیں دہرانی چاہئے۔
کرنل جوزف کو عافیہ کے بغیر واپس کرنا ایک گھناﺅنا جرم اور ملک و قوم کی عزت اور غیرت کی پامالی ہوگی۔امریکی قاتل کرنل جوزف کی گرفتاری اورمعصوم عافیہ کی رہائی قومی قیادت کے ضمیر کا مقدمہ ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک اور ریمنڈڈیوس کی تاریخ دہرانے کی تیاری جاری ہے۔ ایک پاکستانی شہری کا خون ناحق بہایا گیا ہے، یہ قومی قیادت کے ضمیر کا مقدمہ ہے۔ کیا امریکی قاتل کرنل جوزف، ریمنڈ ڈیوس کی طرح معصوم عافیہ کی رہائی کے بغیرہی چھوڑدیا جائے گا؟ میں یہ سوال ہماری سیاسی،دینی، عسکری،صحافتی، سماجی ،عدالتی اورپوری سول سوسائٹی کے سامنے رکھتی ہوں، کوئی تو مجھے جواب دے۔ پاکستانیوں کو قتل کرنے پر امریکی آزاد ہوجاتے ہیں اور قوم کی معصوم بیٹی امریکی جیل میں سڑتی رہتی ہے۔
شکوہ نہیں کافر سے کہ ٹہرے وہ کافر
تم لوگ تو اپنے تھے مسلمان تھے آخر
کچھ کرنے سے ، کچھ کہنے سے کیوں رہے قاصر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *