جنوبی پنجاب کی سیاست میں تحریک انصاف کی انٹری ۔ تحریر: حلیم عادل شیخ

شریف خاندان جمہوریت کو بادشاہت کی طرح چلاتے ہوئے تمام اختیارات کو پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف اور ان کے پسندیدہ بیورکریٹس کے پاس محفوظ رکھنا چاہتاہے ،شریف خاندان یہ سمجھتا ہے کہ جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے یا ضلعوں کو انتظامی طورپر مستحکم کرنے سے چیف منسٹر پنجاب اور ان کے حواریوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہوتی ہے کیونکہ اس سے ان تمام لوگوں کے ناصرف اختیارات تقسیم ہونگے بلکہ اس عمل تخت لاہور کی سیاسی حیثیت بھی کمزور ہوتی ہے یعنی کئی دہائیوں سے قائم رہنے والا لاہور کا زور ٹوٹ جائے گا اور شریف خاندان بھلا اس بات کو کیونکر برداشت کریگا کہ کسی بھی عمل سے ان کی حکمرانی کااثر کم ہوکیونکہ ان لوگوں کو حکمرانی کرنے کا چسکا اس قدر پڑچکاہے کہ وہ ہر ایک چیز کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتے ہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک پورے پاکستان میں عام آدمی کی زندگی بہتر نہیں ہوتی اور اس کا مستقبل محفوظ نہیں ہوتا پاکستان غریب اور مسکین ممالک میں ہی شمار ہوگا ،ہم اب زرا جنوبی پنجاب میں بسنے والی عوام کی پریشانیوں کا تزکرہ کرتے ہیں کہ وہ کیا وجوہات ہیں جو جنوبی پنجاب کے لوگ اپنی بنیادی سہولیات کے حصول اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے لاہور کراچی جیسے شہروں میں جاکر آباد ہونا چاہتے ہیں، جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے تو پنجاب اس وقت ملک کے تمام صوبوں میں سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی لگ بھگ گیارہ کروڑ ہے اس میں جنوبی پنجاب کی آبادی کا تناسب ساڑھے تین کروڑ سے اب تجاوز کرچکاہے یعنی بنیادی سہولیات سے محروم جنوبی پنجاب میں آبادی وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ رہی ہے مگر یہ لوگ نہ صرف اپنی زندگیاں گزارنے کے اہم معاملات اور سہولیات سے محروم ہیں بلکہ یہ صوبہ سندھ کی عوام کی طرح یہ حصہ بھی صاف پانی سے بھی محروم ہیں یہاں بھی بیشترمقامات پر انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے پر مجبور ہیں، اگرچہ پورے پاکستان میں صوبہ پنجاب ایک خوشحال صوبہ نظر آتاہے لیکن جب پنجاب کے اندر ہم نظر ڈالتے ہیں تو اس صوبے میں بھی عدم مساوات کی صورتحال صوبہ سندھ کی طرح اور دیگر صوبوں سے مختلف نہیں ہے اس طرح پنجاب میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جو غربت کاشکار اور ترقی کے معاملے میں عدم توجہ کا شکار نظر آتے ہیں ۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے وہاں بڑے شہروں کے کچھ حصوں میں تو شہری ترقی کے آثار دکھائی دیتے ہیں مگر عوام وہ ہی بے روزگار اور پریشان ملے گی اس کے علاوہ اگر ہم جنوبی پنجاب کی بات کریں تو یہ حصہ تو مکمل طور پر ہی بے بس و لاچار دکھائی دیتاہے کیونکہ جنوبی پنجاب میں حکومت نام کے کوئی آثاردکھائی نہیں دیتے یہاں معاشرتی ، اقتصادی، ناانصافیاں اور انسا نی زندگی میں میں شامل بے پناہ سہولتوں کا فقدان نظر آتاہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ ہے دیگر سیاستدانوں کی طرح شریف خاندان بھی جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا براہ راست ذمہ دار ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں دیگر مقامات کی نسبت ریاستی اداروں میں عدم اعتماد زیادہ نظر آتاہے ،یعنی یہاں سب سے بڑا مسئلہ عوام اورریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ ہے جسے جان بوجھ کر کم نہیں کیا جارہاہے اور کسی بھی دور میں اختیارات کو صوبے کی سطح سے نیچے منتقل نہیں کیا گیا،جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے تخت لاہور کے قدموں میں جاکرہی ڈھیر ہونا پڑتا ہے،یا پھر کچھ سیاسی جان پہنچان والوں کو پیسے دیکر یہ کام کروانے پڑتے ہیں جو بھاری رقمیں لیکر لاہور جاتے ہیں اور وہ کام کرتے ہیں یا پھر وہ رقم کھاجاتے ہیں، اس معاملے پر ایک الگ تحریر لکھی جاسکتی ہے خیریوں کہا جائے کہ جنوبی پنجاب کے لوگ تخت لاہور کے ساتھ غیرہمدردبیوروکریسی کے رحم وکرم پرہیں تو بے جا نہ ہوگا2013کے الیکشن کے موقع پرپیپلزپارٹی نے الیکشن جیتنے کے لیے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کی جبکہ مسلم لیگ نوازنے تو جھوٹ اور دھوکہ دیہی کی حد ہی کردی تھی یعنی انہوں نے ایک نہیں بلکہ دوصوبے بنانے کی بات کی جس میں جنوبی پنجاب سمیت صوبہ بہاولپور بھی شامل تھا ،ہم نے دیکھا کہ مسلم لیگ نواز نے فیڈرل لیول اور پنجاب میں حکومت بنالی مگر الیکشن کے دوران جو وعدہ جنوبی پنجاب کی عوام کے ساتھ کیا تھا اسے مطلب نکل جانے کے بعد ایک بار پھر سے بھلادیا گیا،اور آج ہم دیکھ چکے ہیں کہ 2013 کے بعد مسلم لیگ نواز ایک بار پھر سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ان کے حقوق دلوانے اور ایک نیا صوبہ بنانے کی بات کررہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی نے ہر دور میں اقتدار کے حصول کے لیے جنوبی پنجاب کی عوام کو استعمال کیا لیکن اس بار ماحول کچھ اور بن چکاہے،کیونکہ یہاں پر سیاسی اثر ورسوخ دکھانے والی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے علاوہ تحریک انصاف بھی اب اپنے منشور میں جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو ختم کرنے کا صفحہ شامل کرچکی ہے ،مگر یہ حقیقت ہے کہ اب کی بار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں بھی مل جائیں تو یہ جنوبی پنجاب کی عوام کو چکمہ نہیں دے سکیں گے کیونکہ بار بار کے جھوٹ اور اقتدار ملنے کے باوجود وعدہ خلافیوں نے جنوبی پنجاب کی عوام کو اب سمجھدار بنادیا ہے کیونکہ وہ ان جھوٹی اور بے مروت جماعتوں کی حرکتوں کو اب بھانپ چکے ہیں وہ سمجھ چکے ہیں کہ یہ لوگ اقتدار بنانے کے بعد پانچ سال مڑ کر بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔آج جن لوگوں کو جنوبی پنجاب کی محرومیاں دکھائی دے رہی ہیں ان کا وہاں سب سے مہنگا پروجیکٹ میٹرو بس ہے جس پر پنجاب حکومت 28ارب سے زیادہ خرچ کرچکی ہے ،یہ سب جانتے ہوئے کہ یہاں کا سب سے اہم مسئلہ صاف پانی اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ یقیناًنیا صوبہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ضرورت ہے مگر جو پرانے اور روایتی سیاستدان اس قسم کی باتیں کررہے ہیں عوام کوکم ازکم ان حکمرانوں سے دور رہنا ہوگا۔یہ درست ہے کہ جنوبی پنجاب کا اصل حل سیاسی ہے مگر پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ نوازکو کم ازکم اس بار نہیں آزمانا چاہیے ۔ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے مسلم لیگ نے اپنے ہردور میں اپنے پرانے وعدوں کو بھلایا جس سے جنوبی پنجاب کی محرومیاں کم ہونے کی بجائے بڑھتی رہی ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا احساس کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے بہت سے مقامات پر کامیاب جلسے کرتے ہوئے وہاں کی عوام کو بہت حد تک قائل کیا ہواہے جو اس وقت پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نواز کی سیاست کے لیے بہت خطرناک بن چکاہے،کیونکہ تحریک انصاف کی جنوبی پنجاب کی سیاست میں انٹری کو سیاسی حلقوں میں نیک شگون کی صورت میں لیا جارہاہے جس کا کریڈٹ یقیناًمخدوم شاہ محمود قریشی اورجہانگیر ترین کو جاتاہے جن کی کوششوں سے مسلم لیگ نواز سمیت دیگر جماعتوں کے امیدوار تیزی سے تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں،کیونکہ روایتی سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تحریک انصاف متبادل جماعت کے لیے موزو ں ترین جماعت بنتی جارہی ہے وگرنہ پھر وہ ہی نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کے جھوٹے وعدے تو گزشتہ کئی دہائیوں سے چل ہی رہے ہیں،مگر ان تمام روایتی سیاستدانوں کے لیے اب ممکن نہیں ہوگاکہ وہ جھوٹے وعدوں اور نعروں کی روایت کومزید جاری رکھ سکیں کیونکہ ان لوگوں کی حقیقت اس قدرآشکار ہوچکی ہے کہ ان کے کسی بھی وعدے پر یقین کرنا غیر دانشمندانہ قدم ہوگا۔
تحریر:حلیم عادل شیخ سابق صوبائی وزیر ریلیف وکھیل
021.34302441,42 ۔ E:[email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *