وسیع ہوتی ہوئی داعش کی تباہ کاریاں ۔ احسان اللہ خان

وسیع ہوتی ہوئی داعش کی تباہ کاریاں ۔
پچھلے دنوں کابل میں ایک رجسٹریشن سنٹر پر خود کش حملہ ہوا جس میں سو سے زیادہ لوگ قتل اور زخمی ہوئے ، اس دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے جس کے خلاف کسی نے بھی کوئی احتجاج نہیں کیا ہے نہ کسی نے پور زور مذمت کی ہے سوائے ایک مخلص اور بے غرض قوم پرست دوست حضرت سعید الرحمان شاہ صاحب کے، لیکن اس کے برعکس اگر اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہوتی تو لازمی طور پر پاکستان نشانے پر ہوتا ۔ داعش کے خلاف ان کی بولی کیون بند ہوتی ہے اور اس کے خلاف احتجاج کیوں نہیں ہوتا یہ سوچنے کی بات ہے حالانکہ طالبان سے زیادہ تباہی داعش نے افغانستان میں پھیلا رکھی ہے دوسری بات یہ کہ طالبان تو صرف فوجی اور سیکورٹی تنصیبات پر حملے کرتے ہین جبکہ داعش پبلک مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں جس میں زیادہ تباہی پھیلتی ہے ، پتہ نہیں طالبان کے حملوں میں بہننے والا خون پشتونوں اور افغانوں کا ہوتا ہے جبکہ داعش کے حملوں میں بہننے والا خون بے کار اور کم قیمت کیوں ہوتا ہے کچھ پاکستان دشمن تو داعش کے حملوں کی ذمہ داری بھی پاکستان کے کندھوں پر ڈالتے ہیں حالانکہ ان کو یہ حقیقت بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ داعش کے سرپرست اور نگہبان امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں ۔ یہ بات تو کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور نہ کوئی اس سے بے خبر ہے کہ داعش ایک صہیونی پروردہ دہشتگرد تنظیم ہے جس کو صہیونی اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حریف صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن پر الزام لگایا تھا کہ ہیلری کلنٹن نے وزارت خارجہ کے دوران داعش کو اسلحہ فراہم کیا تھا اس طرح افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی الزام لگایا تھا کہ افغانستان میں داعش کو امریکہ اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور ان کو محفوظ پناہ گاہوں کے علاوہ تربیت بھی فراہم کر رہا ہے اس طرح ایک صوبائی گورنر کا دعویٰ ہے کہ داعش کے کیمپوں میں فرانس کے فوجی دیکھے گئے ہیں ۔ ظاہری بات ہے کہ افغانستان میں داعش کی دیکھ بھال اکیلے امریکہ نہیں کر رہا ہے بلکہ اس کار خیر میں امریکہ کو بھارت کی بھرپور حمایت حاصل ہے ۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول کے داعش کے ساتھ خصوصی تعلقات ہے اور یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ امریکہ اور بھارت کسی بھی صورت پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تاریخ بھی اس بات کی ہے ۔
امریکہ ، اسرائیل اور بھارت اگر ایک طرف داعش کو افغانستان میں استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کی تباہ کاریاں پاکستان تک پھیلانے کا منصوبہ بندی ہو چکی ہے ۔ صہیونی داعش کا کامیاب تجربہ مشرق وسطیٰ میں کر چکے ہیں ۔ داعش کے ذریعے امریکہ مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کے خلاف بننے والی کسی بھی رکاوٹ کو ختم کر چکا ہے اور جو ممالک ابھی تک اس تباہی سے محفوظ ہیں وہاں پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے سوائے ترکی اور ایران کے باقی کسی بھی ملک میں یہ دم نہیں ہے کہ وہ امریکہ کے تربیت یافتہ اور حمایت یافتہ داعش کا مقابلہ کر سکے پھر داعش کے خاتمے کے بہانے اسرائیل اور اس کے غلام تمام مشرق وسطیٰ کا وہ کریں گے جیسا کہ لیبیا ، عراق ، شام اور یمن کا ہو چکا ہے ۔ اسرائیل کی ٹارگٹ صرف مشرق وسطیٰ نہیں ہے بلکہ وہ ممالک بھی خصوصی ٹارگٹ ہیں جہاں سے گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی توقع کی جا سکتی ہے چین روس ایران اور پاکستان ہی اب ایسے ممالک رہ چکے ہیں جو صہیونی منصوبہ بندی پر پانی پھیر سکتے ہیں ، پاکستان دشمنی میں بھارت بھی اس صہیونی منصوبہ بندی میں شامل ہو چکا ہے ۔ بھارت یہاں دوسروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنے مفادات حاصل کرنے کے چکر میں ہے ۔ امریکہ اسرائیل اور بھارت پہلے داعش کو افغانستان میں خوب مضبوط کریں گے اس کے بعد جب اسرائیل اپنے آخری پلان پر عمل شروع کریں گے تو داعش والے یہاں پر اپنی کاروائیاں شروع کریں گے جس سے رکاوٹ ڈالنے والے ممالک خود اپنے معاملات میں اتنے اُلجھ جائیں گے کہ ان کو مشرق وسطیٰ کے حالات کی طرف دھیان نہیں رہے گا اور مشرق وسطیٰ میں کوئی ایسی قوت موجود نہیں جو اسرائیلی عزائم کے خلاف مزاحمت کر سکے کیونکہ جس سے مزاحمت کی توقع کی جا سکتی تھی وہ پہلے سے اتنے زخمی ہو چکے ہیں کہ ان میں اٹھنے کی ہمت باقی نہیں ہے ۔
حالات و واقعات سے یہ لگتا ہے کہ روس چین پاکستان اور ایران بھی اس کا ادراک رکھتے ہیں اور افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے عزائم بھانپ چکے ہیں ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکہ کی چھتری تلے ابھرتے ہوئے اور مضبوط ہوتے ہوئے داعش کے مقاصد سے بھی باخبر ہے ۔ انہی داعش کے خطرے کے پیش نظر پاکستان نے سرحدوں پر باڑ لگانا شروع کیا ہے جو داعش کے سرپرستوں کو قابل قبول نہیں اور آئے روز اس میں روکاوٹیں ڈال رہے ہیں ۔ باڑ لگانے سے ایک طرف اگر امریکہ کا یہ بہانہ ختم ہو جائے گا کہ طالبان پاکستان سے آ کر افغانستان میں کاروائیاں کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کے بھیجے ہوئے دہشتگردوں کے راستے میں محدود ہو جائیں گے ۔ روس اور ایران پر بھی یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ طالبان کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں جس کا دونوں ممالک نے انکار کیا ہے پاکستان پر تو پہلے سے یہ الزام ہے ۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی سلامتی اس میں ہے کہ وہ افغانستان کے مسئلے پر ایک مشترکہ موقف اختیار کریں کیونکہ افغانستان میں ابھرتا ہوا داعش کا خطرہ صرف ایک ملک کو درپیش نہیں ہے بلکہ پورہ خطہ اس سے متاثر ہوگا ۔ ویسے تو سب سے زیادہ افغان عوام اس سے متاثر ہو رہے ہیں لیکن افغانستان کے مفاد پرست اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو افغان عوام کے بجائے اپنے ذاتی مفاد زیادہ عزیز ہے اس لئے انہوں نے خاموشی اختیار کی ہے ۔ افغان حکمرانوں کو اپنے عوام کی کوئی فکر نہیں ہے بس پاکستان دشمنی میں وہ اندھے ہو چکے ہیں اور اپنے ہی ملک کا نقصان کر رہے ہیں ۔ افغان حکمران بھی یہ احساس کریں یہ یہود و ہنود اگر پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے تو افغانستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے یہ تو افغانستان کو برباد کر کے چلے جائیں گے لیکن افغانیوں نے تو افغانستان میں رہنا ہے اور جس تباہی کی وہ آب یاری کر رہے ہیں اس سے دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی افغانستان کے تعلقات کچھ خوشگوار نہیں ہو سکتے لہٰذا افغانستان کو بھی داعش کے خطرے کا احساس ہونا چاہیئے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر افغان مسئلے کا پر امن حل نکالنے کی کوششوں میں شامل ہونا چاہیئے ۔
احسان اللہ خان
لکی مروت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *