منشیات کا استعمال اور روک تھام

تحریر:- سونیا رزاق
دور حاضر کا سب سے بڑا اور عظیم ترین المیہ منشیات جنہوں نے زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ نشوں کے رسیاء اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے نا شکر گزار بندے ہوتے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کے بجائے اسے برباد کرنے پر تلے رہتے ہیں اور منشیات فروش ملک وملت کی بنیادیں کھو کھلی کر رہے ہیں۔ انھوں نے صرف چند سکوں کی خاطر ایسے شگوفوں کو شاخوں سے توڑ کر گندگی کے ڈھیر پر رکھ دیا۔ جنہیں کشت حیات میں قاصد بہار بنتا تھا بلاشبہ ہمارے معاشرے میں منشیات نے اغیار کی سازشوں سے راہ پائی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ملک دشمن عناصر کا بھی عمل دخل ہے ان بیرونی اور اندرونی دشمنوں کا مدعا صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جسمانی اور زہنی طور پر اس قدر کھوکھلا کردیا جائے کہ وہ دنیا میں اپنا متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہیں۔ یہ طاقتیں اہل چین کے ساتھ بھی یہ ہتھکنڈا آزما چکی ہیں اور انھیں سالہاسال افیون کا عادی بنا کر ترقی کی دوڑ میں پسماندہ بنانے کی مزموم کوشش کر چکی ہے۔ کتنی اذیت ناک بات ہے کہ سگریٹ ، شراب ، افیون ہیروئن اور نشہ آور ادوایات کی مخالفت تو سب کرتے ہیں مگر ان لعنتوں کا سد باب کرنے میں مخلص کوئی بھی نہیں حد یہ ہے کہ سگریٹ قانونن نا جائز ہے اور جابجا دھڑے سے فروخت کی جا رہی ہے، لیکن اخلاق و قانون کا مزاق اس طرح اڑایا جا رہا ہے کہ سگریٹ کی ڈبیہ پر اس کے مضراثرات کا اعلان بھی ساتھ ہی چھاپا جاتا ہے۔ یہ منافقت ذرائع ابلاغ حکومت اور اخلاق سدھار اداروں کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں نتیجہ یہ ہے کہ قوم فکری ، روحانی اور جسمانی اعتبار سے مفلس ہوتی جارہی ہے نشہ آور چیزوں کے رسیاء عموماً وہ نوجوان ہوتے ھیں جنہیں ابھی زندگی کے تجربات نہیں ہوتے۔ جو اتنا بھی نہیں جانتے کہ زندگی اور موت کے درمیان کتنا کم فاصلہ ہے۔ وہ موت سے قبل اپنے آپ کو زندہ در گور کر لیتے ھیں ۔ ایک تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں ہیروئن کے عادی لوگوں کی تعداد سترہ لاکھ تک پہنچ ہے جس میں ایک لاکھ سے زیادہ دیہاتی لوگ شامل ہیں عام طور پر 18 سے 30 سال تک کئ نوجوان نشے کے عادی ہیں۔ مگر 10 سال سے 14 سال تک کے بچے بھی اس عادت کے شکار پاۓ گۓ ہیں۔ ہیروئن کا نشہ تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ اس کی تھوڑی سی مقدار سے زیادہ نشہ حاصل ہوتا ہے اور اسے چھپا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاسکتا ہے نشہ آور چیزیں بالخصوص ہیروئن انسان کے وجود کو گھن کی طرح چاٹ لیتی ہے۔ ہیروئن کے عادی کا چہرہ زرد ہوجاتا ہے سننے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ ناک ہر وقت بہتی رہتی ہے، آنکھیں سرخ، پیوٹے بھاری اور پلکیں گرم رہتی ہیں۔ آنکھیں جھپکنے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ بھوک کم ہوجاتی ہے۔ وزن گھٹنے لگتا ہے اور معدے میں السر یا زخم پیدا ہو جاتے ہیں۔ خون خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں تمام اعضاۓ جسمانی متاثر ہوتے ھیں جو انسان کے لیے موت کا باعث بنتے ہیں۔ منشیات کی روک تھام کسی ایک فرد ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مسئلے کو ملکی و قومی سطح پر مشترکہ انداز سے حل کیا جانا چاہیے سب سے پہلے ذرائع ابلاغ ریڈیو ، ٹیلی ویژن، اخبارات اور رسائل کو اس لغت کے خلاف صدق دل سے معرکہ آرا ہونا چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں اساتزہ اور ارباب اختیار کڑی نظر سے نوخیزنسل کا جائزہ لیں اوران منشیات سے بزور وکیں۔ اس سلسلے میں تقاریب ، ویڈیوز، فلمز سینما اور لیکچروں کا اہتمام کرنا چاہئیے علماءاکرام اپنے خطبوں میں اسی قومی مسئلے کو اہمیت دیں اور اس کی زہرناکیوں سے آگاہ کریں والدین جہاں اولاد کی پیدائش کے ذمہ دار ہیں وہاں ان کے شب و روز کی سر گرمی پر کڑی نظر رکھیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت کو قانوناً اس لعنت کے انسداد کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ کمپنیاں اور افراد جو منشیات کو فروغ دے رہے ہیں یا اس کے فروغ میں معاون ہیں اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے ان سب اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشرے میں دینی اور روحانی فضا کی تشکیل ضروری ہے اس سے اللّٰہ کا خوف اور اسلام اور مذہبی اقدار سے وابستگی پیدا ہوتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *