نواز شریف نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں بیان دیتے ہوئے قطری خطوط کو تسلیم کرلیا.

سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلسل دوسرے روز اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم نے گزشتہ روز سماعت کے دوران تقریباً 4 گھنٹے تک 128 میں سے 55 سوالات کے جواب پڑھ کر سنائے اور آج بھی وہ مزید سوالات کے جواب پڑھ کر دے رہے ہیں۔

سماعت کے دوران نواز شریف نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے قطری خطوط کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ‘خطوط کی تصدیق خود حمد بن جاسم نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر کی جبکہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہیں کیا اور جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا تبصرہ سنی سنائی بات ہے۔ دبئی سٹیل ملز سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ دبئی سٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے باقی معاملات کا پتہ نہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اختر راجہ نے نیب کی 3رکنی ٹیم کی رابرٹ ریڈلے سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کرائی، رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں، اس کے پاس اصل دستاویز ہی نہیں تھی جبکہ سپریم کورٹ میں پہلے جمع کرائی گئی ڈیڈ میں غلطی سے پہلا صفحہ مکس ہوگیا تھا اور اختر راجا نے اس واضح غلطی کی نشاندہی بھی نہیں کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *